ایک مسلمان تاجر و منتظم کے لیے لائحہ عمل
ایک مسلمان تاجر و منتظم، وسائل کے بہتر استعمال اور ادارے کو زیادہ سے زیادہ مارکیٹ میں مقابلے کے قابل بنانے کے لیے، انسانی وسائل کی بہتر انداز میں تنظیم (Effective HRM) کرنا ضروری ہے ۔ انسانی وسائل کی بہتر انداز میں تنظیم کاری کے لیے پہلا قدم کاموں کا تجزیہ (Job Analysis) ہے جس کے بارے میں تفصیلات اوپر بیان کی گئیں ۔ ان سب باتوں پر عمل کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان تاجر کے

لیے درج ذیل باتوں پر عمل کرنا ا س کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا باعث ہوگا:
1 نیت کی درستی:
یاد رکھیے! اسلام ہم سے دنیا چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کرتا،بلکہ اپنی دنیا کو دین بنانے کا تقاضا کرتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی مسلمان تاجر کے اوصاف بیان فرماتے ہیں: ’’جن گھروں کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ ان کو بلند مقام دیا جائے، اور ان میں اس کا نام لے کر ذکر کیا جائے، ان میں صبح وشام وہ لوگ تسبیح کرتے ہیں جنہیں کوئی تجارت یا کوئی خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوۃ دینے سے، وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل اور نگاہیں الٹ پلٹ کر رہ جائیں گی۔‘‘ (النور، آیت: 36، 37)
اسی طرح حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اعمال کا دارومدار نیت پر ہیـ۔‘‘ (البخاری)
قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان تاجر کاروبار اسی طرح کرے گا جیسے رواج ہے لیکن اپنے کاروبار کرنے میں اللہ کے دیے ہوئے احکامات کو پیش نظر رکھے۔ اسی سے معلوم ہو گا کہ اس کی تجارت نے اسے اللہ کی یاد سے غافل کیا یا نہیںاور اللہ کی یاد سے غافل نہ ہونا ایک مسلمان کی نشانی ہے ۔ مزید کاروبار کرنے سے کیا مقصد ہے؟ اس کا تعین کرے۔ ایک مسلمان تاجر کا مقصد کسب حلال ہے، جس کو ایک مسلمان کے لیے فرض قرار دیا گیا ہے ۔ سو، وہ نیت کرے کہ اس کاروبار کا مقصد کسب حلال کا فریضہ انجام دینا ہے۔اس کے بعد مسلمان معاشرے کی ضرورت پورا کرنے کی نیت ہے، کہ میں اس کاروبار کے ذریعے مسلمان معاشرے کی ایک ضرورت پورا کر رہا ہوں جس پر اجر ملنا یقینی ہے۔ اس نیت کی درستی کے اثرات اس کے تمام معمولات پر آئیں گے۔
2 فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا اِحیا:
اگر چہ ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر ‘‘(نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا)، ہر مسلمان کی انفرادی ذمہ داری ہے، لیکن ادارے کی سطح پر جب کاموں کے تجزیہ (Job Analysis)، کی بحث ہو رہی ہے تو ایک مسلمان تاجر و منتظم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ادارے میں اس فریضے کے اِحیا کی فکر کرے۔ اس کے لیے باقاعدہ شریعت کا علم رکھنے والے عالم باعمل کی موجودگی ادارے کے لیے مفید ہو گی۔ دوسر ے الفا ظ میں ایک کام جو کہ مروجہ انسانی وسائل کی انتظام کاری (Conventional HRM) میں نہیں ہے لیکن ایک مسلمان تاجر و منتظم ایک کام اسے بھی شمار کرے اور اس کے لیے بھی معلومات جمع کر کے اس کے کاموں کے کوائف (Job Description) درکار صلاحیتیں (Job Specification) اور کارکردگی کے معیارات (Job Standards)مقرر کرے۔ اس مقصد کے لیے کسی عالم کا تقرر جو ادارے کے معاملات کے بارے میں شرعی نگرانی کرے جس طرح قانونی ماہرین کو رکھا جاتا ہے، تاکہ کوئی کام قانون کی نظر میں غلط نہ ہو جائے۔ اسی طرح کسی عالم کو مقرر کیا جائے جو ادارے کے کاموں کی شرعی نگرانی کرے۔
اسی طرح تمام کاموں کی تفصیلات میں ہر سطح پر ا س بات کو وضاحت کے ساتھ لکھا جائے کہ ادارے میں ہر اعلی عہدے والا اپنے ماتحتوں کا جس طرح ادارتی ذمہ داریوں میں مسئول (Responsible) ہے، اسی طرح دینی ذمہ داریوں میں بھی مسئول ہے۔ مزید ادارے میں اعلی سطح کی ذمہ داریوں کے لیے بالخصوص دین داری کو معیار بنایا جائے۔ تعلیم و تربیت میں جس طرح کام کرنے سے متعلق تعلیم و تربیت کا بیان ہو، اسی طرح دینی حوالے سے تعلیم و تربیت کو بھی صاف الفاظ میں بیان کیا جائے۔
خلاصہ یہ کہ ایک مسلمان تاجر و منتظم ادارے کے کاموں کا تجزیہ (Job Analysis) ضرور کرے، لیکن اس بات کا خیال کرے کہ اس کے ہر عمل کا مقصد آخرت کمانا ہے دنیا کمانا نہیں۔ مزید کاموں کے تعین میں ادارے کے معاملات کے شریعہ کے مطابق ہونے کے لیے ایک کام بیان کرے اور اس کے کوائف، درکار صلاحیتیں اور کارکردگی کے معیارات بھی بیان کیے جائیں۔ مزید ہر کام کے کوائف (Job Description) بیان کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جس طرح ادارتی ذمہ داریاں پوری کرنا کسی ملازم کی ذمہ داری ہے، اسی طرح دینی ذمہ داریاں (جیسے بنیادی علم دین کا حصول، کام کے اوقات میں نمازوں کی پابندی، اخلاقی تربیت، نیک اعمال کی طرف بلانا اور برائیوںسے روکنے کا ماحول بنانا) پوری کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے، لہذا اس کے کوائف (Job Description)، درکار صلاحیتوں (Job Specification)اور معیارات (Job Standards) میں اس بات کا بھی خیا ل رکھا جائے، بالخصوص جب معاملہ اعلی سطح کے کاموں (Top level jobs) کا ہو۔
ان شاء اللہ! اگر ایک مسلمان تاجر اپنے انسانی وسائل کی تنظیم (HRM) کے پہلے قدم پر دینی اقدار کا پاس رکھے گا تواس کا کاروبار بھی پھلے گا، پھولے گا اور ساتھ ساتھ دین کے پھیلنے کا ذریعہ بھی بنے گا۔ جس سے دنیا وی فوائد تو حاصل ہوں گے ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ آخرت کی کامیابی بھی یقینی ہو گی۔ یاد رکھیے! ہمیں اللہ نے دنیا کے لیے پیدا نہیں فرمایا، بلکہ دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا ہے، اصل ٹھکا نا تو ٓآخرت ہے۔ آئیے! اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں ہم کتنی آخرت کی فکر کرتے ہیں اور کتنی دنیا کی۔