انسانی وسائل کی منصوبہ بندی (HR Planning) سے مراد مستقبل میںادارے کے لیے درکار انسانی وسائل (Demand of HR) اور ان کی فراہمی (Supply of HR) کا تعین ہے۔ جس کے نتیجے میں مناسب تعداد (Right Quantity) میں، درست استعداد (Right capabilities) کے افراد کی، صحیح جگہ (Right place) اور وقت (Right time) پر دستیابی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ انسانی وسائل کی درست منصوبہ بندی، ادارے کے طویل مدتی(Long term) ،اوسط مدتی (Mediam Term) اور قلیل

مدتی اہداف (Short Term) کی تکمیل کا ضامن ہے۔ کوئی ادارہ اپنے مستقبل کے انسانی وسائل کی بہتر انداز میں منصوبہ بندی کیے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ اسی لیے ماہرین نظمیات منصوبہ بندی (Plannig) میں انسانی وسائل کی منصوبہ بندی (HR Planning) کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اس کے بغیر انسانی وسائل کی تنظیم (HRM) موثر انداز میں نہیں ہو سکتی۔ چھوٹے اداروں کو شاید انسانی وسائل کی منصوبہ بندی کی ضرورت نہ ہو، یا وہ بغیر منصوبہ بندی کے بھی مناسب وقت پر، مناسب استعداد کے افراد حاصل کر سکیں، لیکن ادارے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں انسانی وسائل کی منصوبہ بندی ان کے لیے اہم ہوتی چلی جاتی ہے۔ انسانی وسائل کی منصوبہ بندی کا طریقہ
انسانی وسائل کی منصوبہ بندی کے دو اجزاء ہیں: 1 انسانی وسائل کی طلب کا تعین
2 انسانی وسائل کی رسد کا تعین انسانی وسائل کی طلب کا تعین
انسانی وسائل کی طلب کے تعین (Demand of Human Resource)سے پہلے انسانی وسائل کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ اس کے کیا اسباب ہیں؟ اس کا تعین ضروری ہے۔ انسانی وسائل کی طلب کے اسبا ب میں خارجی عناصر (External Factors) ہو سکتے ہیں، جیسے: معاشی صورتحال (Economic Factors) جس میں افراط زر (Inflation)، بے روزگاری (Unemployment) وغیرہ ہو سکتے ہیں، ٹیکنالوجی (Technology)ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تبدیلی کی وجہ سے انسانی وسائل کی طلب میں اضافہ ہو جائے۔ خارجی عناصر کے علاوہ اندرونی (Internal Factors) طور پر کیے جانے والے فیصلے بھی مستقبل میں انسانی وسائل کی طلب پر اثر انداز ہوتے ہیں،جیسے: ادارے کے طویل مدتی اہداف اور منصوبے (Long term Goals and Plans)، اوسط مدتی اہداف و منصوبے (Medium Term Goals and Plans) یا قلیل مدتی اہداف و منصوبے (Short term Goals and Plans)، مستقبل میں ادارے کے لیے درکار انسانی وسائل پر اثر انداز ہوں گے۔ اندرونی عناصر میں موجودہ انسانی وسائل کے رویے (Attitude) بھی مستقبل میں انسانی وسائل کی ضرورت پر اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے: ملازمین کا کام سے فارغ ہو جانا (retirement)، استعفے دینا (Resignation)، رخصت پر جانا (Absents) وغیرہ اس سے مستقبل میں انسانی وسائل کی ضرورت متاثر ہو سکتی ہے۔
انسانی وسائل کی طلب کی پیشین گوئی


٭… انسانی وسائل کی درست منصوبہ بندی، ادارے کے طویل مدتی، وسط مدتی اور قلیل مدتی اہداف کی تکمیل کی ضامن ہے ٭…اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کاموں کو نظم و ضبط کے ساتھ کرنے اور وسائل کے بہتر استعمال کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ٭…دنیا میں اتنا کھو جانا کہ شریعت، آخرت، حلال و حرام کی تمیز بھی نہ رہے ایک مسلمان تاجر کے شایان شان نہیں ٭

انسانی وسائل کی طلب کا اندازہ لگانے کے 3 طریقے ماہرین جدید نظمیات ذکر کرتے ہیں: ٭ ماہرانہ رائےExpert opinon
اس صورت میں ماہرین تنظیم انسانی وسائل (HR experts) جو ادارے کے اپنے لوگ بھی ہو سکتے ہیں اور ادارے سے باہر سے بھی ہو سکتے ہیں، ان سے رائے لی جاتی ہے کہ مستقبل میں ادارے کی ترقی (Growth)، منصوبوں (Plans) کو دیکھتے ہوئے انسانی وسائل کی ضرورت کیا ہو گی؟ ان کی آراء کا آپس میں تبادلہ (Exchange of Views) کیا جاتا ہے اور پھر کسی نتیجے پر پہنچا جاتا ہے کہ ادارے کی انسانی وسائل کی طلب کیا ہو گی۔ ٭ ماضی کے رجحان سے تخمینہ لگانا
ا س صورت میں ماضی کے رجحان (Trend) کو دیکھتے ہوئے مستقبل کے لیے انسانی وسائل کی ضرورت متعین کی جاتی ہے، جیسے: اگر گزشتہ سالوں میں ہر سال انسانی وسائل میں 200 کا اضافہ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو مستقبل میں بھی اسی شرح سے ضرورت پڑے گی۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ انسانی وسائل کی ضرورت کا کام سے تعلق کا تعین کر کے پھر مستقبل میں اس تعلق کی بنا پر فیصلہ کرنا کہ کتنے انسانی وسائل کی طلب ہوگی، جیسے: اگر 100 یونٹ پیدا کرنے کے لیے 2 انسانی وسائل کی ضرور ت پڑتی ہے اور اگلے سال پیداوار میں 1000 یونٹ کا اضافہ ہوگا تو 20
انسانی وسائل کی ضرورت پڑے گی۔ ان طریقوں کے علاوہ ادارے کا اپنے میزانیے کا تجزیہ (Analysis of Budgets) اپنے ہم مقابلہ اداروں کے جائزہ (Analysis of Venture)اور کمپیوٹر ماڈلز کے استعمال سے بھی مستقبل میں انسانی وسائل کی ضروریات کا تعین ہو سکتا ہے۔
مختلف خارجی و داخلی عناصر کے جائزہ کے بعد انسانی وسائل کی طویل عرصے اور قلیل عرصے کی طلب متعین کر لی جاتی ہے۔ طویل عرصے میں اس تخمینے میں غلطی کے امکانات زیادہ ہیں، لیکن قلیل مدتی تخمینے میں زیادہ درست تخمینہ لگا لیا جاتا ہے اورسال بھر کی متوقع ضروریات کا ایک جدول (Job Opening Chart) بنایا جا سکتا ہے۔ جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کس مہینے میں کس قسم کے افراد کی ضرورت پڑے گی۔ ٭ انسانی وسائل کی رسد کا تعین
انسانی وسائل کی طلب کے تعین کے بعد اب ان کی فراہمی کا تعین کہ یہ انسانی وسائل فراہم کس طرح ہوں گے؟ اہم تجزیہ ہے۔ انسانی وسائل کی فراہمی اندونی اور بیرونی ذرائع سے ہو سکتی ہے۔ ٭ اندرونی رسد کا تخمینہ
انسانی وسائل کی ضروریات کو پہلے اندرونی ذرائع سے فراہمی) (Internal Supplyکا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے لیے منتظم انسانی وسائل (HR manager)، موجودہ ملازمین کی استعداد (Skills) اور صلاحیتوں (Capabilities) کو جانچتے ہیں اور ان کی متوقع جگہ کا تعین کرتے ہیں اور اس کی مد د سے ایک جدول (Placement Chart) تیا ر کرتے ہیں جس میں ہر ملازم کی متوقع جگہ ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے معلوم ہو جاتا ہے کہ کس جگہ موجودہ ملازمین میں سے کسی کو رکھا جا سکتا ہے اور کس پوزیشن کے لیے باہر سے ملازم رکھنے پڑیں گے۔ ٭ بیرونی رسد کا تخمینہ
اندرونی رسد کا تخمینہ کر لینے کے بعد درکار انسانی وسائل کو بیرونی رسد سے حاصل کیا جائے گا۔ اس کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ کیا باہر سے انسانی وسائل حاصل کرنے کی ضرور ت ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو وہ اعلی سطح (Upper level) کے لیے ہے یا ادنی سطح (Entry level) کے لیے۔ اس کے بعد اس مارکیٹ کا تجزیہ کرنا جہاں سے درکار انسانی وسائل مل سکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کے رویہ (Attitude) اور اجزائے ترکیبی (Demographics) کا بھی تجزیہ اہم ہے کہ درکار وسائل مل سکیں گے یا نہیں؟ یا درکار وسائل کے لیے متعلقہ مارکیٹ کیا ہو گی؟ جہاں سے درکار انسانی وسائل مل جائیں گے۔
انسانی وسائل کے طلب و رسد کے جائزے کے بعد یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ مستقبل میں درکار انسانی وسائل ادارہ سے اندرونی طور پر حاصل ہو جائیں گے یا پھر بیرونی رسد کے ذرائع کو بھی دیکھنا ہو گا۔ اور ایک واضح منصوبہ ادارے کے پاس ہوتا ہے جس سے موجودہ ملازمین کی متوقع جگہ اور مستقبل میں باہر سے حاصل کیے جانے والے انسانی وسائل کی خصوصیات اور اس کے لیے تشہیر کے اوقات کا تعین ہو جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، اپنے کاموں کو نظم و ضبط کے ساتھ کرنے، وسائل کا بہتر سے بہتر استعمال کرنے، وسائل کے ضیاع سے بچنے، شرعی حدود میں رہتے ہوئے کاروبار کو ترقی دینے، کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں آتا ہے :
’’ہر کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے یہا ں ایک خاص انتظام تھا، (یعنی ہر کام کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی فرماتے تھے۔)‘‘ (شمائل ترمذی)
اسی طرح سورۃ التکاثر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، (کہ ان کا کیا حق ادا کیا؟)‘‘ سورۃ الجمعہ میں اللہ تعالی نے دنیاوی مال و دولت کو اللہ کا فضل قرار دیا اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد حکم دیا جا رہا ہے کہ اب زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کروجس سے، حدود شرعی میں رہتے ہوئے کاروبار کا پھیلانا بھی پسندیدہ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
’’پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں منتشر ہو جاؤ، اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔‘‘ (الجمعہ :10)
ان آیات و حدیث سے ایک مسلمان تاجر و منتظم کو ہدایت ملتی ہے کہ کاروبار کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا تاکہ وسائل کا بہتر سے بہتر استعمال ہو سکے، حدود شرعیہ میں رہتے ہوئے کاروبار کو پھیلانا جس طرح اس کی دنیاوی ضرور ت ہے اسی طرح دینی فریضہ بھی ہے لیکن دنیا میں اتنا کھو جانا کہ شریعت، آخرت، حلال و حرام کی تمیز بھی نہ کرنا ایک مسلمان تاجر کے شایان شان نہیں ہے۔ ضرورت اس با ت کی ہے کہ ہم اپنے کاروباراور تجارت کو پھیلائیں۔ اس لیے کہ مسلمان تاجر، ادارے کی ترقی اسلام کی ترقی ہے اور عملی مسلمان تاجروں کی ترقی سے ہی اسلامی اقدار کاروباری زندگی میں شامل ہوں گی۔ یاد رکھیے! جس خطے میں ہم رہتے ہیں یہاں سب سے پہلے اسلام پھیلانے والے مسلمان تاجر ہی تھے جن کے اخلاق و کردار، معاملات کو دیکھ کر لوگ مسلمان ہو گئے تھے، کیا ہم بھی ایسے مسلمان تاجر ہیں؟