ادارے کے انسانی وسائل(Human Resources) اس کا اہم ترین سرمایہ ہیں۔ اچھے افرادی وسائل ادارے کو ترقی کی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں تو نامناسب انسانی وسائل ادارے کو تنزلی کی کھائی میں گرا سکتے ہیں۔ اس لیے انسانی وسائل کی منصوبہ بندی (Human Resources Planning) کر لینے کے بعد اچھے انسانی وسائل کی تلاش وجستجو (Recruitment) ،تنظیم انسانی وسائل (Human Resource Management) میں ایک اہم عمل ہے۔

ذی استعداد (Skilled)، قابل (Capable)درخواست گذار(Applicant) کو ڈھونڈنے اور متوجہ کرنے کے عمل کو بھرتی(Recruitment) کرناکہتے ہیں۔ مناسب افراد کی تلاش سے یہ عمل شروع ہوتا ہے اور ان کی جانب سے درخواست کی وصولی پر ختم ہوتا ہے۔ منتظم انسانی وسائل (HR Manager)کو مناسب افراد کی تلاش میں کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ کن باتوں کا خیال رکھ کے انسانی وسائل کی تلاش بہتر انداز میں ہو سکتی ہے؟ انسانی وسائل کی تلاش کے لیے کون کون سے داخلی و خارجی ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ کیا کیا معلومات متوقع ملازم سے لی جاتی ہیں؟ ان سوالات کے جوابات دینے کی اس مضمون میں کوشش کی جائے گی۔

بھرتی کے عمل میں افرادی وسائل کے منتظم کے لیے چیلنجز

 نئے ملازمین کی تلاش و جستجو سے پہلے، منتظم انسانی وسائل (HR Manager) سب سے پہلے ادارے کے سطح کی منصوبوں (Organisational Plans) کو دیکھنا چاہیے کہ ادارے کی مستقبل کی سمت (Future Dimension) کیا ہے؟کیوں کہ پورے ادارے کے لیے بنائے گئے منصوبے ادارے کے لیے انسانی وسائل کی ضرورت اور درکار انسانی وسائل کی خصوصیات پر اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے: ادارے کا منصوبہ نئی پیداوار(New Product) متعارف کروانے کا ہے تو اس کے لیے درکار وسائل کچھ اور ہوں گے۔ اگر موجودہ پیداوار میں جدت (Innovation) لانے کا ہے تو اس کے لیے درکار وسائل کچھ اور ہوں گے۔ اس کے بعد خاص انسانی وسائل کے منصوبوں (HR Plans) کو دیکھنا چاہے۔ کیونکہ انسانی وسائل کے منصوبے نئی آسامیوں (New Openings)اور ان کی خصوصیات (Job Desription) اور ان آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے درکار انسانی وسائل کی خصوصیات (Job Specification) کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے علم کے بغیر درست وقت پر درست انسانی وسائل کو متوجہ نہیں کیا جا سکتا۔ منتظم انسانی وسائل کو نئی بھرتیوں سے پہلے مزید بھرتی کے عمل پر آنے والے اخراجات (Cost of Recruitment)،ادارے کی پالیسیاں (Organisatioanl Policies)۔ جس میں ملازمین کی ادائیگیوں کی پالیسیاں (Compensation Policies) اپنے ادارے میں سے ہی لوگوں کو ترقی دینے کی پالیسیاں (Promote-from Within policies) وغیرہ شامل ہیں۔ ان کا بھی مطالعہ کر لینا چاہیے، تاکہ نئی بھرتیوں میں ان پالیسیوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔ ان اندرونی عناصر کا جائزہ لینے کے بعد بہتر انسانی وسائل کو متوجہ کرنے کے لیے بیرونی عناصر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ ان میں سب سے پہلے ملکی قوانین جن کا تعلق انسانی وسائل سے ہو، ان کا جائزہ لیناچاہیے۔ کہ ملکی قوانین اس حوالے سے کیا ہیں؟ جیسے: کم از کم مزدوری (Minimum Wage Law)کے لیے قوانین کیا ہیں؟ انسانی وسائل کی عمر کے بارے میں قوانین کیا ہیں؟ مزید کام کرنے کے ماحول (Working Conditions)کے بارے میںکیا قوانین ہیں؟ تاکہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے اس لیے کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی ادارے کو بھاری نقصان پہچا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ معاشی صورت حال کا جائز ہ بھی اہم ہے کیونکہ ادارے معاشی صورت حال سے متاثر ہوتے ہیں اور معاشی صورت حال سے ادارے کو درکار انسانی وسائل کی تلاش و جستجو میں رکاوٹ یا فائدہ ہو سکتا ہے، جیسے: انسانی وسائل کی منڈی میں بے روزگاری کا ہونے کی صورت میں درکار وسائل سستے مل سکتے ہیں اور درکار انسانی وسائل کی قلت کی صورت میں وسائل مشکل سے اور مہنگے ملیں گے۔ 

انسانی وسائل کی تلاش کے ذرائع

اوپر درج کردہ مختلف اندرونی و بیرونی عناصر کا جائزہ لینے کے بعد منتظم انسانی وسائل کو، انسانی وسائل کی تلاش کے ذرائع(Chennels of Recruitment) کو متعین کرنا ہو گا کہ درکار انسانی وسائل کہاں اور کیسے تلاش کیے جائیں۔ اس حوالے سے انسانی وسائل کے منصوبوں سے رہنمائی مل جائے گی لیکن آگے انسانی وسائل کی تلاش کے ذرائع بیان کیے جاتے ہیں۔
درکار انسانی وسائل کی تلاش کے داخلی ذرائع ملازمت کے مواقع کی داخلی تشہیر  
اس کے لیے منتظم برائے انسانی وسائل(HR Manager) عمومی نوٹس بورڈ پر ملازمت کے مواقع کا اعلان لگوا دیتا ہے جس میں عہدہ (Position)، اس کے لیے درکار تعلیمی قابلیت، تجربہ اور رابطے کا طریقہ درج ہوتا ہے۔ اسی طرح داخلی رابطہ کاری (Internal Communication System) کے نظام کے تحت ملازمین اور منتظمین کو پیغام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ براہ راست منتظمین سے نامزدگی (Nomination) بھی کروا سکتا ہے۔
ادارہ چھوڑتے ہوئے ملازم کو پیشکش  
ایسے ملازمین جو اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے ادارہ چھوڑنا (Departing Employes)چاہ رہے ہیں یا انہیں کو ئی اور عہدے کی پیشکش ہے ان سے گفتگو کر کے انہیں کام کرنے پر قائل کرکے اور انہیں بہتر پیشکش کے ذریعے ان کو مزید ادارے کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔یہ لوگ وہ ہیں جن کو ادارہ جانتا ہے اور وہ ادارے سے واقف ہیں، لہذا نئے تجربے کرنے کے بجائے انہیں ملازمین کو رکھنا ادارے کی نئی بھرتیوں پر آنے والے اخراجات کو کم کر سکتا ہے۔
درکار انسانی وسائل کے تلاش کے خارجی ذرائع
تحریری اور بالمشافہ درخواستیں  
ادارے میں مختلف اوقات میں تحریری درخواستیں اور اسی طرح کام تلاش کرنے والے خود(Walk-ins and Write ins) آتے ہیں۔ یہ انسانی وسائل کا وہ ذخیرہ ہے جو ادارے کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ان میں سے اگر درکار انسانی وسائل مل جائیں تو یہ سب سے آسان ذریعہ ہے۔
بحوالہ موجودہ ملازمین  
دوسری آسان صورت یہ ہے کہ موجودہ ملازمین کے حوالے (Referance) سے ہی افراد کو تلاش کیا جائے۔ ہنر مند لوگوں میں ایسا ہوتا ہے کہ ان کی دوستیاں ہم پیشہ لوگوں سے ہی ہوتی ہیں لہذا ان کے حوالے سے بآسانی مناسب ملازم مل سکتا ہے۔ وہ کارپینٹر (Carpanter) یا باورچی (Cook) ہے اور ادارے کو مزید کارپینٹر یا باورچی کی ضرورت ہے تو انہی موجودہ ملازمین کو کہا جائے تو وہ اپنے حوالے سے لوگوں کو لا سکتے ہیں اور یہ ایک سستا اور زیادہ تحفظ والا ذریعہ ہو گا۔
ملازمت کے مواقع کی تشہیر  
ایک اہم طریقہ اس مارکیٹ میں ملازمت کے مواقع کی تشہیر ہے جہاں سے درکار انسانی وسائل مل سکتے ہیں جس میں روزنامہ اخباروں کے چھٹی کے دن (Weekends) اشتہار لگانا، اگر خاص ہنر اور صلاحیت کے لوگ درکار ہیں تو ان کے خاص رسالوں میں تشہیر کرنا، جیسے: انجینئر درکار ہیں تو انجینئرز کے خا ص رسالوں میں تشہیر کرنا یا اسی طرح چارٹر اکاؤنٹنٹ درکار ہیں تو ان کے خاص رسالوں میں تشہیر کرنا۔ ادارے برائے بہبود ملازمین
سرکاری یا غیر سرکاری تنظیمیں جن کا مقصد ملازمت کی تلاش کرنے والے افراداور اداروں میں رابطہ کروانا(Employment Security Agencies) ہوتا ہے ان سے رابطہ کرنا جیسا کہ وطن عزیز میں مشہور ویب سائٹ روزی ڈاٹ کام ہے۔
خصوصی ہنر مندوں کے ادارے اورتنظیمیں خاص ہنر مند ی کے افراد فراہم کرنے والے خصوصی ادارے (Professional Associations and search Firms)بھی معاشرے میں کام کررہے ہوتے ہیں۔جیسے ڈاکٹرز(Doctors)، انجینئرز(Engineers)،سائنسدان(Scientists) یاقانون دان(Lawers) افراد فراہم کرنے کے خصوصی ادارے کام کررہے ہوتے ہیں۔ ان کا کام صرف اس خاص قسم کے افراد کی تلاش میں اداروں کی مدد کرنا ہوتا ہے۔
تعلیمی ادارے  
خارجی ذرائع میں ایک اہم ذریعہ تعلیمی ادارے (Educational Institute)بھی ہیں، بالخصوص پروفیشنل تعلیمی ادارے جو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تعلیم فراہم کررہے ہوتے ہیں ۔اداروں کو جب تازہ تعلیم یافتہ افراد(Fresh Graduates) کی ضرورت ہو تو تعلیمی ادارے ایک اہم ذریعہ ہیں۔
محنت کشو ں کی تنظیمیں  
غیر ہنرمند افراد کی بھی مختلف تنظیمیں (Labor Organization)موجود ہوتی ہیں ان سے رابطہ کرکے محنت کش افرادحاصل کیے جاسکتے ہیں۔
تربیتی منصوبے  
سرکاری اور نجی سطح پر مختلف تربیتی منصوبے (Training Programs)چلائے جاتے ہیںجیسا کہ موجودہ حکومت نے بھی نوجوانوںکی تربیت کے لیے پروگراموں کا اعلان کیا ہے اور اس سے پہلے بھی اس قسم کے پروگرام چلتے رہے ہیں۔اسی طرح تعلیمی ادارے اور فلاحی تنظیمیں بھی اس قسم کے پروگرام چلاتی ہیں۔یہ پروگرام بھی درکار انسانی وسائل کے تلاش و حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔
درخوست گزار کے کوائف  
آج کل عموما ہر درخواست گذار(Applicant) اپنا کوائف نامہ(CV) بنا کر لاتا ہے لیکن معلومات میں یکسانیت لانے کے لیے اگر ادارہ اپنا درخواست فارم پر کروائے تو یہ بھی بہتر طریقہ ہے۔اس درخواست فارم میں درخوست گذار کے ذاتی کوائف (Personal Infomation)جس میں نام ،پتہ،رابطہ نمبر، وغیرہ، ملازمت کے بارے میں معلومات جس میں آخری ملازمت کی حیثیت(Status of Last employment)، پیش کردہ ملازمت کے بارے میں رضامندی،دستیابی کی تاریخ،مطلوبہ تنخواہ،کل وقتی یا جزوقتی کام کی قبولیت جیسی معلومات ہوں گی۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور ہنر مندی کی تفصیلات،کام کی تاریخ، حاصل شدہ اعزازات،حوالے وغیرہ جیسی معلوما ت اس سے حاصل کی جائیں گی۔ بہتر انسانی وسائل کی تلاش و جستجو میں ادارے منتظم برائے انسانی وسائل کا اہم ترین فریضہ ہے۔ اس سے بہتر انداز میں عہد ہ برآ ہونے کے لیے اندرونی و بیرونی عناصر کا مطالعہ، اس کے بعد اندرونی و بیرونی ذرائع میں سے درست ذریعے کا چناؤ انسانی وسائل کی بہتر کشش کے لیے اہم ہے ۔اچھا منتظم تمام چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے نئی بھرتیاں کرتا ہے تو اس سے ادارے کی ترقی پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے ایک مسلمان تاجر یہ سب عمل اخلاص نیت کے ساتھ اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے کرے اور اس کے لیے دینی تعلیم حاصل کرے اور دوسروں تک بھی علم دین پہنچانے کی کوشش کرے۔ یاد رکھیے! پورے کے پورے دین پر عمل کرنا ہم پر فرض ہے اور اس میں کوتا ہی کی صورت میں آخرت میں باز پرس ہوسکتی ہے۔