شعبہ تنظیم انسانی وسائل (HR Department) کے اہداف میں ایک ہدف ملازمین کو ادارے کے ساتھ مخلص رکھنا) (Retainبھی ہے تاکہ وہ اپنے ذمہ لگائے جانے والے کاموں کو محنت اور لگن(Motivation) سے کریں اور ادارے ترقی(Growth) میں مثبت کردار ادا کرسکیں۔اس ہدف کے حصول کا ملازمین کے معاوضات (Compensations)کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔اگر معاوضات ادارے کے اندر عدل و

انصاف(Internal Equity) کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر نہ مقرر کیے جائیں یا دیگر اداروں میں رائج معاوضات کو مدنظر(External Equity) رکھتے ہوئے مقرر نہ کیے جائیں تو اس کے اثرات ملازمین کی کارکردگی(Perfomance) میں کمزوری اور بالآخر ادارے کی کارکردگی پر منفی اثرات (Negative Effects)کا باعث ہوتی ہے۔اس لیے منتظم انسانی وسائل (HR Manager)کو معاوضات کے تعین میں ادارے اور ادارے سے باہر کے مختلف عناصر (Factors)،ملازم کی استعدادو کارکردگی(Skills and Perfomance) کا گہرائی سے تجزیہ کرناپڑتا ہے۔بصورت دیگر معاوضات کی تعیین میں چھوٹی سی غلطی صرف اس فرد کی کارکردگی کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ ادارے کے دیگر ملازمین اور نئے آنے والے ملازمین کی کارکردگی پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ جس سے پورے ادارے کا ماحول اور کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ معاوضات سے مراد وہ سب کچھ جو ملازمین اپنے ادارے کو دی جانے والی خدمات کے بدلے میں وصول کرتے ہیں۔چاہے وہ تنخواہ (Salary)کی صورت میں ہو یا دیگر سہولیات(Fringe Benefits) کی صورت میں ہو۔ موثر معاوضاتی نظام کے مقاصد
1 قابل ،ذی استعداد ملازمین کو متوجہ کرنا


٭…معاوضے کا نظام ایسا ہو جو سب کی سمجھ میں آ جائے ایسا نہ ہو کہ اس کو صرف بنانے والا ہی سمجھ سکے ٭…ملازمین کو ان کی استعداد اور علم کی بنیاد پر معاوضات دیے جائیں، نہ کہ اس کی مارکیٹ کی قیمت پر ٭…اگر کسی ملازم کو ادارہ کم تنخواہ پر رکھ لے اور ملازم اس معاہدے پر راضی ہو تو تنخواہ کی کمی کا بہانہ بنا کر کام میں کمی کرنا شرعا جائز نہیں ہو گا

ایک معاوضاتی نظام کا ہدف ادارے کے لیے بہتر ین ،ذی استعداد ،تعلیم یافتہ اور ہنر مند انسانی وسائل کو متوجہ (Recruit)کرنا ہوتا ہے ۔کیونکہ اچھے انسانی وسائل کو متوجہ کرنے میں معاوضہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بسا اوقات اچھے انسانی وسائل مارکیٹ میں کام کررہے ہوتے ہیں انہیں اپنے ادارے کے لیے کام کرنے پر متوجہ کرنے کے لیے نسبتا بہتر معاوضہ دینا پڑتا۔ 2 موجودہ ملازمین کو برقرار رکھنا معاوضاتی نظام کا دوسرااہم ہدف موجودہ ملازمین کو ادارے میں برقرار رکھنا ہے۔کیونکہ اگر ادارے کا معاوضاتی نظام موثر اور مارکیٹ کے مقابل (Market Competitive)نہ ہوتوملازمین ادارے کو چھوڑ کر چلے جائیں گے، جس سے ادارے کو نئے افراد کو متوجہ کرنے، انتخاب کرنے اور ان کو تربیت دینے کے اخراجات برداشت کرنے پڑیں گے جس کا اثر ادارے کی کارکردگی پر پڑے گا۔اس لیے موجودہ ملازمین کو اتنے معاوضوں کا ملنا جس سے وہ ادارہ چھوڑکر نہ جائیں ایک معاوضاتی نظام کا اہم ہدف ہے۔
3 قیام عدل
تیسرا اہم ہدف کسی بھی معاوضاتی نظام کا ادارے میں معاوضوں کی تعیین میں عدل کا قیام ہے۔جس میں دو باتیں دیکھنا بہت ضروری ہیں: ایک یہ دیکھنا کہ ادارے کے اندر ایک جیسا کام کرنے والوں کو ایک جیسا معاوضہ دیا جارہا ہے یا نہیں۔ دوسرے اس بات کو یقینی بنانا کہ لوگوں کو مارکیٹ میں دیگر اس جیسا کام کرنے والوںکے برابر معاوضہ مل رہا ہے یا نہیں۔ یہ عدل قائم کرنا ایک اچھے معاوضاتی نظام کی خاصیت ہے۔اگر عدل قائم نہ ہوتو یقینا افراد اور پھر ادارے کی کارکردگی متاثر ہوگی۔
4 ادائیگی برائے مطلوبہ رویہ
معاوضات کے نظام کے اہداف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ نظام ایسا ہو جو مطلوبہ رویوں پر ادائیگی کرے یعنی ملازم کا ادارے اور کام سے مخلص (Loyalty)ہونے پر ادائیگی،تجربہ کی بنیاد پر ادائیگی،ذمہ داری(Resposibility) کی بنیاد پر ادائیگی وغیرہ۔اس طرح مطلوبہ رویوں پر ادائیگی کی وجہ سے ملازمین سے درکار رویوں پر ملازم آئیںگے اور یہ رویے ہی بالآخر ادارے کی ترقی کا باعث بنیں گے۔
5 لاگتوں پر قابوپانا
ایک اہم ہدف اچھے معاوضاتی نظام کا یہ ہے کہ معاوضے درحقیقت ادارے کی لاگتیں ہیں۔ ان لاگتوں کو مناسب انداز میں قابو پانا کہ کوئی ملازم نہ تو زیادہ معاوضہ وصول کررہا ہوں(Overpaid) اور نہ ہی وہ کم پا رہا ہو(Underpaid)۔
6 قانون سے ہم آہنگی
حکومتی قوانین سے ہم آہنگی بھی معاوضاتی نظام کے مقاصد میں سے ہے کہ ایسا معاوضاتی نظام تشکیل دیا جائے جس سے کسی حکومتی قانون کی خلاف ورزی نہ ہو جیسے حکومتی قوانین برائے کم از کم مزدوری(Mininum Wage law)،یا حکومتی قوانین برائے معمر ملازمین وغیرہ۔
7 سادگی
جو بھی معاوضاتی نظام بنایا جائے وہ ایسا ہوں جو آسانی سے سمجھ میں آجائے ایسا نہ ہو کہ اس کو صرف بنانے والا ہی سمجھ سکے یا ماہرین سمجھ سکیں کیونکہ اس نظام کو سمجھ کرہی ملازمین درکار رویوں پر آئیں گے۔
قابل توجہ امور
ادارے کے لیے ملازمین کے معاوضات تقرر کرنے کا نظام ترتیب دینے سے پہلے، ماہرینِ جدید نظمیات چند امور کو قابل توجہ قرار دیتے ہیں:
٭ طویل مدتی اغراض و مقاصد
سب سے پہلے ادارے کے طویل مدتی اغراض و مقاصد ادارے کے معاوضاتی نظم پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسے ایک ایسا ادارہ جس کے اغراض مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ ملازمین کو ان کی استعداد(Skills) اور علم(Education) کی بنیاد پر معاوضات دیے جائیں گے نہ کہ اس کی مارکیٹ کی قیمت(Market Value) پر تو جو ملازم جتنا تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہوگا ا س کا معاوضہ اتنا زیادہ ہوگا۔اسی طر ح ملازمت کے دوران اگر ملازمین ہنر مندی (Skills)اور تعلیم میں اضافہ کریں تو اس نظام کے تحت ان کے معاوضوں میں اضافہ کردیا جائے گا۔اس طرح طویل مدتی مقاصد سے ادارے کے پاس ہنر منداور تعلیم یافتہ انسانی وسائل جمع ہوجائیں گے کیونکہ ان کے علم و ہنر کی قیمت ادا کررہا ہوگا اور یقینا اس سے ادارے کی کارکردگی پر مثبت اثر پڑے گا۔
٭ مروجہ شرح مزدوری
دوسرا اہم عنصر جسے منتظم انسانی وسائل(HR Manager) کو ادارے کے لیے معاوضاتی نظام بنانے سے پہلے دیکھنا ہوگا، وہ مروجہ شرح مزدوری ہے کہ اس کام کے مارکیٹ میں کتنے دیے جاتے ہیں ۔کیونکہ اس سے کم پر ملازم رکھنا مشکل ہے اور مزید یہی شرح ملازمین کے معاوضات مقرر کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی ۔
٭ مزدوروں کی یونین کی طاقت
جن بڑے اداروں میں مزدوروں کی یونین(Labor Union) بنی ہوئی ہوں اور قانونی طور پر ان کو تحفظ حاصل ہوتوان مزدوروں کی یونین کی طاقت بھی معاوضات مقرر کرنے میں اثر انداز ہوتی ہے۔جس کے نتیجے میں بعض اوقات مزدوروں کی یونین ان کے کاموں کی قیمت کے مقابلے میں زیادہ مزدوری مقرر کروانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ایسی یونین کم مزدوری مقرر کرنے میں ادارے کے لیے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔
٭ قانونی مجبوریاں
حکومتی قوانین جوعموما کم از کم مزدوری کی حد کے بارے میں لاگو ہوتے ہیں ان کا جائزہ لینا بھی کسی بھی معاوضاتی نظام بنانے سے پہلے ضروری ہے جیسے کم از کم مزدوری کے قوانین،بچوں کی مزدوری سے متعلق قوانین،یا اضافی وقت(Overtime) سے متعلق قوانین۔کیونکہ ان کی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت کی طرف سے جرمانے یا کسی اور صورت میں سزا کا سامنا کرناپڑسکتا ہے جو کہ ادارے کی منفی تصویر معاشرے میں پیش کرتا ہے جس کا اثر ادارے کی ساکھ اور بالآخر ادارے کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔
اسلامی تعلیمات
اسلام دین فطرت، عالمگیر اور قیامت تک آنے والوں کے لیے اللہ کا آخری دین ہے۔اسلامی تعلیمات کی بنیاد ذاتی مفاد سے بڑھ کر اجتماعی مفاد،خود غرضی سے بڑھ کر خیر خواہی پر ہے۔ معاوضات کی مقرر کرنے میں جاری کشمکش جس میں ادارے کی یہ کوشش کہ وہ کم سے کم معاوضے پر ملازم رکھ لے اور ملازم کی یہ کوشش کہ وہ یا تو زیادہ معاوضہ لے یا پھر کارکردگی کمزور کردے،کام چوری کرے۔
اسلامی تعلیمات دونوں جانب سے راہ اعتدال پر مشتمل ہیں اور ایک ایسے رویے کی طرف رہنمائی کرتی ہیں جس میں جانبین رقیب (Rivals)نہیں بلکہ حلیف (Supportors) ہوں۔ چنانچہ جب ہم اداروں سے متعلق ہدایات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ احادیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ملازمین کے ساتھ اچھا برتاؤ، ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا،ان کی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنا،زائد محنت کا معاوضہ دینا،ملازم کی عزت نفس کا خیال رکھنا،ملازم کی غلطیوں سے درگذر کرنا،جیسے احکامات ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح جب ایک ماتحت کے اپنے منتظم یا امیر کے حقوق کے بارے میں ہدایات کا جائزہ لیں تواسلام اپنے ماننے والوںکو اپنے ذمہ داروں سے خیر خواہ رہنے،ذمہ لگایا جانے والا کام پورا پورا کرنے،اوقات میں کمی نہ کرنے،منتظمین کی اطاعت کرنے،جیسی ہدایات ملتی ہیں۔جن کا حاصل خیر خواہی ہی خیر خواہی ہے۔
یہاں ایک بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوںکہ اگر کسی ملازم کو ادارہ کم تنخواہ پر رکھ لے اور ملازم اس معاہدے پر راضی ہو تو اب تنخواہ کی کمی کا بہانہ بنا کر کام میں کمی کرنا شرعا جائز نہیں ہوگا کیونکہ اگر آپ اس معاہدے پر راضی نہیں تھے تو یہ معاہدہ نہ کرتے لیکن جب آپ معاہد ہ کرچکے تو اس کا پاس رکھنا لازمی ہوگا۔اسی طرح منتظمین و تاجروں پر بھی لازم ہے کہ و ہ تنخواہوں کی تعیین میں اس بات کو پیش نظر رکھیںکہ آنے والا ملازم جو کہ کل وقتی آپ کی خدمت میں ہے اسے اتنی تو تنخواہ دی جائے جس سے وہ آسانی سے اپنے بیوی بچو ںکا پیٹ پال سکے۔یہ آپ کی شرعی ذمہ داری ہے۔اگر مارکیٹ کے رجحان کی وجہ سے اگر آپ ملازم کو زیادہ تنخواہ نہیں دے سکتے تو اس کی دیگر حوالوںسے مدد کریں۔ یاد رکھیے!آپ کے اللہ کی راہ میں خرچ کی جانے والی رقوم کے یہ دوسروں سے زیادہ حق دار ہیں۔ایک مسلمان تاجر و منتظم کبھی بھی خالص مادی سوچ کے ساتھ کاروبار نہیں کرتا، بلکہ اس کے پیش نظر ہمیشہ اسلام کا نظام اخلاق ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک دنیا کے نفع سے زیادہ آخرت کا نفع قابل ترجیح ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اگر دنیاوی نفع میں کمی آبھی جائے لیکن اخروی نفع میں اضافہ ہمیشہ مدنظر رہتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں آخرت کی فکر نصیب فرمائے… جو کہ ہر بھلائی کی جڑ ہے۔