مروجہ بازاری عمل (Prevailed market practices) میں کچھ باتیں قابل توجہ معلوم ہوتی ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مضمون میں ایک پیمانہ فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی جو کسی بھی ادارے میں افرادی وسائل کے منتظم کے لیے بہترین لائحہ عمل فراہم کرے گا۔

1 معاہدات میں غرر (Uncertainity in Contracts) :
ہمارے معاشرے میں جہاں بے روز گاری عام ہے، وہاں ادارے کے مقابلے میں ملازم کی حیثیت اکثر ضرورت مند کی ہوتی ہے۔ ایک کام کے لیے ایک بڑی تعداد موقع (Opportunity)ملنے کی شدت سے منتظر ہوتی ہے۔ اس ماحول میں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ادارہ یا آجر کوئی مبہم (Ambigous) بات کر کے ملازم سے کام لینا شروع کر دیتا ہے۔ مثلا ادارے کو دفتری امور کے لیے ملازم کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ایک ملازم کو کام کے لیے رکھ لیا جاتا ہے کہ تمہیں مثلا 15 ہزار روپے ماہانہ ملیں گے۔ 9 سے 5 تک اوقات کار ہیں اور تم کل سے آجاؤ۔ وہ ملازم جو کہ بے روز گار تھا اسے کام مل گیا وہ مزید تفصیلات کی معلومات کیے بغیر ہی فورا راضی ہو جاتا ہے اور کل سے کام پر بھی آ جاتا ہے۔ لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کام کیا کیا ہوں گے؟ مزید ادارے کے دیگر طے شدہ امور (Rules and Regulation) برائے ملازمین کیا ہیں؟ اب وہ کام شروع کرتا ہے۔ ملازم کے ذہن میں کاموں کے بارے میں سوچ ہے کہ یہ یہ کام میرے ذمے ہیں۔ دوسری جانب آجر کے ذہن میں کاموں کی ایک الگ فہرست ہے، جس کے نتیجے میں اکثر انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان چپقلش (Conflict) جنم لیتی ہے۔ ابتدا میں ملازمین کی کاموں سے دلچسپی (Demotivation) ختم ہوتی ہے، پھر بدگمانی کی فضا پیدا ہوتی ہے اور نتیجہ تناؤ اور جھگڑے کی صورت میں آتا ہے۔ شریعت اس چیز کی پہلے قدم پر ہی روک تھام کرتی ہے اور معاہدے میںطے شدہ حقوق و ذمہ داریاں (Rights and Responsibilities) واضح ہونا ضروری قرار دیتی ہے۔ اور عقود معاوضات (Commutative Contracts) میں اسی وجہ سے غرر (Uncertainity) آجاتا ہے جسے فقہائے کرام کسی بھی معاہدے کے ناجائز ہونے کی وجہ بتاتے ہیں۔ لہذا ایک منتظم (Manager)، آجر (Enterpreneur) یا منتظم انسانی وسائل(HR manager) کے لیے ضروری ہے کہ واضح طور پر ملازم کو اس کی ذمہ داریاں (Responsibilities)، حقوق (Rights) اور ادارے کے طے شدہ امور (HR policies) کے بارے میں بتائے ورنہ یہ معاہدہ شرعا درست نہیں ہو گا۔


٭…شریعت معاہدے کے نتیجے میں لازم آنے والے حقوق و ذمہ داریاں واضح ہونا ضروری قرار دیتی ہے ٭…یہ برائی بھی عام ہے کہ مزدوری کی ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے ٭…ایک مسلمان تاجر کو ہر حال میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھنا چاہیے


2 معاہدات کی کتابت (Writing of Contracts)
اللہ سبحانہ وتعالی سورۃ البقرہ آیت 382 میں تفصیل سے معاہدات کے لکھ لینے کا حکم دیتے ہیں۔لہذا کسی کی خدمات (Services) حاصل کرنے کا معاہدہ اس کو باقاعدہ لکھ لینا شریعت کا تقاضاہے۔چھوٹے کاروباروں میں اس بات کا اہتمام نہیں کیا جاتا کہ ملازمین کو لیتے وقت معاہدہ کو لکھ لیا جائے جبکہ معاہدات کا لکھ لینے میں جانبین کا فائدہ بھی ہے اور باعث اجر بھی۔

3 اجرت کی ادائیگی میں بلاعذر تاخیر کرنا (Delay in payments)
یہ برائی بھی ہمارے بازاروں میں عام ہے کہ مزدوری کی ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے۔چاہے روزانہ ادائیگی(Daily Wages) کے معاہدے پر ملازم کو رکھا ہویا ہفتہ واری ادائیگی (Weekly payments)پریا ماہانہ ادائیگی(Salaried) پر،ہر صورت میں ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کی جاتی ہے اور اسے ایک فن(Art)سمجھا جاتا ہے کہ ادائیگیاں دیر سے کی جائیں اور وصولیاں جلد کی جائیں۔اس کے لیے باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے۔لیکن یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔حدیث میں مزدور کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کاحکم ہے۔لہذا اس عمل کی بھی اصلا ح کی ضرورت ہے کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے معاہدات کا پاس رکھا جائے کیونکہ یہ قرآن کا حکم ہے کہ معاہدات کو پورا کیا جائے سورۃ المائدہ کی ابتدا میں اللہ تعالی فرماتا ہے: اے ایمان والو معاہدوں کو پوراکرو۔لہذا معاہدوں میں جو وقت مزدوری کی ادائیگی کے لیے رکھا جائے، اس پر ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔

4 زائد کام لینا اور مزدوری میں اضافہ نہ کرنا (Demand work without incremental wage)
ملازم کو رکھتے ہوئے اسے کاموں کی تفصیلات (Job Description)بتائی جاتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کاموں میں اضافہ کیا جاتاہے ۔ منتظم مزید کاموں کو بھی اسی ملازم سے کروا رہا ہوتا ہے۔ملازم اپنی ملازمت کے کھونے کے خوف سے منتظم کی باتوں کو رد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے وہ چپ چاپ کام کرتا رہتا ہے ،اگرچہ دل میں کڑھ رہا ہوتا ہے۔اور منتظم اس اضافی کاموں کی اضافی مزدوری نہیں دے رہا ہوتا۔اس طرح کسی ملازم سے کام لیناجبکہ اس کام کرنے پر ملازم دلی طور پر راضی نہ ہودرست نہیں ہوگا۔ ایسی صورت حال میں ملازم کے لیے یا تو اضافی مزدوری مقرر کی جائے یا پھر موجودہ کاموں میں کمی کرکے نیا معاہدہ کیا جائے اور باقاعدہ اس کے کاموں میں تبدیلی کا اس کوبتا یا جائے۔

5 خلاف قانون مزدوری مقرر کرنا
کم از کم مزدوری سے متعلق حکومتی قوانین ہوتے ہیں۔جن سے کم مزدوری مقرر کرنا خلاف قانون ہے۔ان حکومتی قوانین کی پاسداری بھی ایک مسلمان تاجر کا دینی فریضہ ہے۔اس سے کم مزدوری مقرر کرنا شرعا بھی درست نہیں ہوگا۔

یہاں تک کچھ بازاری عملی مشقیں تھیں جن میں درستی کی ضرورت ہے۔آگے کچھ اصول جن کی بنیاد پر ایک منتظم انسانی وسائل اپنے شعبے کو بہت بہتر انداز میں چلا سکتا ہے۔

6 رجوع الی اللہ اور انفرادی و اجتماعی کامیابیوں کے لیے دعائیں
کاروبار کی ترقی کے لیے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ۔ان میں کچھ تدابیر یقینی ہیں اور کچھ کا نتیجہ یقینی نہیں۔دعا ان تدابیر میں سے ہے جس کا نتیجہ یقینی ہے۔ایک مسلمان کا اللہ سے دعا کرنا اس یقین کے ساتھ ہونا چاہیے کہ یہ دعا ضرور قبول ہوگی۔علمائے کرام دعا کی قبولیت کی مختلف صورتیں بیان فرماتے ہیں۔جن میں جو مانگا تھا وہی مل جائے،اس سے بہتر اللہ تعالی عطا فرمادیں،کسی مشکل کو دور فرما دیں یا پھر آخرت کا اجر اللہ تعالی ذخیرہ فرما لیں ۔تو اپنے کاروبار کے لیے،اپنے ملازمین کے لیے، دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ یہ مسلمان کو غیر مسلموں سے ممتاز کرتی ہے۔

7 عدل و انصاف کی یقینی فراہمی
ملازمین کے ساتھ ہر معاملے میں چاہے معاوضات کی تقرری(Wages and Salaries) کا معاملہ ہے یا ذمہ داریوں کی سپردگی (Resposibilities)کا،داخلی و خارجی عدل(Internal and External equity) کا خیال رکھنا ایک منتظم کی شرعی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالی مسلمانوں کو سورۃالنحل آیت 90 میں عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’بے شک اللہ انصاف کا،احسان کا،اور رشتہ داروںکو(ان کے حقوق ) دینے کا حکم دیتا ہے،اور بے حیائی ،بدی اور ظلم سے روکتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔‘‘ لہذا ایک مسلمان تاجر/منتظم کو ہر حال میںعدل و انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔

8 امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا قیام
شعبہ انتظام انسانی وسائل کے لیے ایک اصول جس سے، شعبہ کے اہداف بہت بہتر انداز میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ وہ ایک ایسا ماحول بنانا ہے، جس میں اچھا کام پھلے پھولے اور برائیاں مٹتی رہیں۔ یہ اچھائیاں چاہے دنیاوی لحاظ سے ہوں یا دینی لحاظ سے، اسی طرح برائیاں دنیاوی ہوں یا اخروی، کیونکہ ایک مسلمان کی آخرت دنیا سے جدا نہیں ہو سکتی۔ ایسے ماحول کی تعمیر کے نتیجے میں، ملازمین کی ادارے سے وفاداری Loyality)،کاموں کی پیداواریت (Productivity)، میں اضافہ ہو گا اور ادارہ زیادہ بہتر انداز میں ترقی کرے گا۔ اور ایک شرعی ذمہ داری بھی پوری ہو گی۔

9 دینی تربیت کا اہتمام
جس طرح منتظم انسانی وسائل ادارتی کاموں کے حوالے سے تربیت کے بارے میں فکر مند رہتا ہے اسی طرح ملازمین کی اخلاقی و دینی تربیت کی فکر کرے۔ ماتحتوں پر اللہ تعالی نے ذمہ دار بنایا ہے ۔حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی ماتحتوں کے بارے میں آخرت میں باز پرس فرمائیںگے۔اس حوالے سے ملازمین میںخوف خدا پیدا کرنا،آخرت کی فکر پیدا کرنا،مزید اطاعت امیر کی اہمیت بٹھانا کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جہاںاللہ اور رسول کی اطاعت کاحکم دیا ہے وہیں امیر کی اطاعت کا بھی حکم ہے۔اس کے ساتھ ساتھ کاموں کے حوالے سے ملازمین میں احساس ذمہ داری پیدا کرنا کہ یہ وقت ادارے کی امانت ہے ،اس وقت میں خیانت کرنا ،آخرت کے سخت وبال کا باعث ہے۔

10 ملازمین کے ساتھ حسن سلوک کرنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے وصال فرمارہے ہیں اور اللہ کے نبی کی آخری وصیت یہ ہے کہ ماتحتوں سے حسن سلوک کرنا۔اس وصیت پر ہم عمل کریں تو یقینا ہمارے ماتحت بھی ہمارے ساتھ مخلص ہوجائیں گے ۔جس کے کاروبار اور ادارے پر مثبت اثرات پڑیں گے۔اس حوالے سے سب سے نچلے سطح کے ملازمین ہمارے حسن سلوک کے زیادہ محتاج ہیں۔ان کو ان کی تنخواہ کے علاوہ سہولیات فراہم کرنا،اس سے نرمی کا معاملہ کرنا۔اس سے ان شاء اللہ وہ زیادہ محنت سے ادارے کے لیے کام کریں گے اور ادارے کی ترقی میں بہتر کردار اد ا کریں گے۔

11 ملازمین سے بھی مشاورت
ہر کاروبار میں اعلی سطح پر فیصلوں کے لیے مشاورتی جماعت(Board of Governance) بنی ہوئی ہوتی ہے۔لیکن اپنے ماتحتو ں سے اچھے تعلقات استوار رکھنے کے لیے اور دین کا ایک حکم سمجھتے ہوئے مشاورت کے عمل میں اپنے ماتحتوں کو بھی شامل کرلینا چاہیے۔اس حوالے سے ہر ملازم کے مرتبے کو دیکھتے ہوئے، معاملے کو دیکھتے ہوئے مشاورت میں شامل کرلینا چاہیے اس سے ان کی دل کی بات بھی سامنے آجاتی ہے اور اس کے دل میں ادارے کی قدر بھی پیدا ہوتی ہے۔دین کا حکم سمجھ کر کریں گے تو خیر و برکت بھی اللہ کی طر ف سے آئیں گی۔

12 مصلح کا کردار(صلح کروانا)
ایک جگہ جب کچھ انسان رہتے ہیں،کچھ وقت گزارتے ہیں تومزاجوں کے اختلاف کی وجہ سے کبھی اختلافات یا جھگڑوں کا ہونا بالکل فطرتی عمل ہے۔لیکن ان اختلافات یا جھگڑوں کا باقی رہنا دنیا و آخرت کی تباہی کا باعث ہے۔اس لیے شریعت کا حکم ہے کہ جب دو مسلمانوں میں کوئی اختلاف ،جھگڑا ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ان میں صلح کروا دیں۔شعبہ انسانی وسائل یا منتظم انسانی وسائل کو اس حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ وہ ملازمین کے آپس کے اختلافات کو بڑھنے نہ دے بلکہ صلح کروا دے۔