اس کائنات میں اللہ سبحانہ وتعالی نے ہرچیز مختلف بنائی ہے اور یہی اس کائنات کی خوبصورتی ہے۔ہر انسان مختلف حوالوں سے دوسرے انسان سے مختلف ہے،اپنے مزاج، خیالات(Ideas) فطرت (Nature)میں مختلف ہے۔مزید جب ان کا تعلق مختلف ثقافتوں (Cultures) مختلف عمروں (Age Groups)مختلف جغرافیائی حدودوں (Demographics)،مختلف نسلوں (Races) سے ہو تو پھر ان کی صلاحیتوں (Abilities) میں بھی فرق ہونا فطری بات ہے۔

یہ فطری فرق جس طرح کسی ادارے کے لئے مفید ہوسکتا ہے،اسی طرح اگر ان فروق (Diversities) کی حقیقت کو مد نظر نہ رکھا جائے، تو ادارے اچھے ملازمین کو کھوبھی سکتے ہیں،جس سے اداروں کو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔اسی لئے جدید نظمیات میں اس بات کو اہمیت دی جارہی ہے کہ انسانی وسائل میں اس تفریق کو کس طرح مفید انداز میں استعمال کیا جائے۔اس مضمون میں اس تفریق کی وجوہات،اس تفریق کے فوائد، اسے مدنظر نہ رکھنے کے نقصانات اور جدید نظمیات سے اس سے نمٹنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی جائے گی۔


٭…ملازمین کے درمیان مختلف طرح کے اختلاف کو سنبھالا نہ جائے تو وہ ادارے سے بدظن ہو جاتے ہیں ٭…ایک دوسرے کے خیالات،عقائد کا احترام نہ کیا جائے تو ادارے میں تناؤ کا ماحول پیدا ہوتا ہے ٭…تربیتی مجالس کے ذریعے ملازمین میں ایک دوسرے سے تعاون کا مزاج پیدا کیا جائے ٭


افرادکے متفرق مزاجوں کے ہونے کی درج ذیل بنیادی وجوہات ہو سکتی ہیں:

عمر میں اختلاف:(Difference in Age)
اداروں میں کام کرنے والے ملازمین مختلف عمر کے ہوتے ہیں۔جن میں جوان طبقہ 20 سے30 سال والا بھی ہے۔درمیانی عمر کے لوگ 30 سے 50 سال والے بھی ہیں اور نسبتا بوڑھے 50 سے 60 سال والے بھی ہوتے ہیں۔ہر عمر کے طبقے کی ترجیحات (Preferences)، مزاج، سوچ (Mind-set)،خیالات (Ideas) میں فرق ہوتا ہے۔ بعض اوقات ان مختلف عمروالے افراد میں آپس میں چپقلش کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔جس سے نبرد آزما ہونا منتظم کے لئے ایک چیلنج ہوتا ہے۔

جسمانی صلاحیتوں کا اختلاف (Differences in Physical Abilities)
ایک ہی عمر کے طبقے سے تعلق کے باوجود جسمانی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ایک مسلسل کام کرسکتا ہے ،اور ایک نہیں،ایک رات دیر تک جاگ سکتا ہے اور ایک نہیں۔اسی طرح ایک جسمانی محنت زیادہ کر سکتا ہے اور ایک ذہنی کام زیادہ بہتر انداز میں کرسکتا ہے۔ایسے افراد جب ایک جگہ کام کررہے ہوتے ہیں اور آپس میں تعاون کی فضا نہ ہو تو اختلافات جنم لیتے ہیں جس سے ان کی پیداواریت (Productivity)میں فرق پڑتا ہے جو کہ ادارے کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔

نسلی اختلاف(Difference in Races)
اسی طرح کام کرنے والے مختلف نسل کے ہوتے ہیں۔میمن ہیں،پٹھان ہیں،سندھی ہیں،پنجابی ہیں، سرائیکی ہیں یا کوئی اور، لیکن اس نسلی اختلاف کی وجہ سے ان کے مزاجوں میں فرق ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک نسل والے اپنے آپ کو برتر(Superior) سمجھ رہے ہوتے ہیں اور دوسری نسل والوں کو کمتر ،جس سے ادارے میں جماعت بندی (Grouping)ہوجاتی ہے۔اور ادارے کی کارکردگی پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

ثقافتی اختلاف(Cultural Differences)
ان نسلوں کے اختلاف کے ساتھ ساتھ ان کی ثقافت(Culture) بھی مختلف ہوتی ہے۔جیسے ایک جگہ کسی کام کو حوصلہ افزائی کی علامت سمجھا جاتا ہے دوسری جگہ وہی کام بے عزتی سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح ایک کو کسی نام سے پکارنا عزت ہے تو دوسرے کے نزدیک اس نام سے پکارنا بے عزتی ہے۔منتظم کو ان باتوںکا خیال رکھنا بہت اہم ہے ورنہ ادارہ ایک اچھے ملازم سے محروم ہوسکتا ہے۔

تعلیم وتجربہ کا اختلاف(Differences in Education and Experience)
اسی طرح تعلیمی سطح کا بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ایک معاشیات کا ماہر ہے توا یک انجینئر ہے۔اس کی وجہ سے بھی ان کی ذہنی سطح مختلف ہوگی اور معاملات کو دیکھنے ،سمجھنے اور حل کرنے کا طریقہ بالکل مختلف ہوگا۔اسی طرح تجربات میں اختلاف ہو سکتا ہے۔جس سے آراء میں اختلاف ہوگا ۔اعلی سطح پر مشاورتی جماعت میں عموما ایسے مختلف تعلیمی پس منظر اور تجربات کے پس منظر کے لوگ ہوتے ہیں۔جس کے نتیجے میں ان کی آراء بالکل مختلف ہوسکتی ہیں ۔ایسے میں اپنی رائے کو سب سے برتر سمجھنا اور دوسرے کی رائے کا احترام نہ کرنا ۔ادارے کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔لہذا ایسی صورتحال کوسنبھالنا منتظم کے لئے اہم ہوتا ہے۔

مذہبی تعلق(Religious Beleifs)
اس میں مختلف مذاہب کے لوگ بھی ہوسکتے ہیں، جیسے: ایک ہندو ہے،ایک عیسائی ہے،اور مسلمان ہیں۔تو ان کے عقائد مختلف ہوں گے۔اسی طرح ایک ہی مذہب کی مختلف شاخوں کے لوگوں کے بھی نظریات مختلف ہوں گے۔جس سے آپس میں اختلافات ہو سکتے ہیں۔ادارے کی کارکردگی پر اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔منتظم کا ایسے لوگوں کو سنبھالنا مشکل بھی ہوتا ہے اور اہم بھی۔

ازدواجی حیثیت کا فرق (Difference in Marital Status)
ازدواجی حیثیت بھی انسانی مزاج پر اثر انداز ہوتی ہے۔ایک غیر شادی شدہ شخص میں مستقل مزاجی،برداشت پیدا نہیں ہوسکتی جو ایک شادی شدہ فرد میں ہوتی ہے۔جبکہ غیر شادی شدہ افراد عموما غصہ کے تیز،لاپروا ہوتے ہیں۔ان سنجیدہ،حلیم الطبع اور ان سخت مزاج افراد میں تناؤ اور اختلاف کی فضا ہو سکتی ہے۔لہذا ان میں ہم آہنگی پیدا کرنا منتظم کی ذمہ داری ہے۔

ان فروق کے فوائد (Adavantages of Workforce Diversity)
کسی ادارے میں مختلف مزاجوں،صلاحیتوں،سوچ و فکر کے افراد کا ہونا اس کے لئے انتہائی فائدے مند ہے۔ اگر وہ ان کو مناسب انداز میں چلاسکے ۔کیوں کہ ادارے کو چلانے کے لئے مختلف سطح (Orgnisational Levels)پر مختلف تعلیمی پس منظر(Educational Backgrounds)،مختلف صلاحیتوں(Abilities)،مختلف تجربات(Experiences) والے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔مزید یہ اختلاف اس ادارے کو مارکیٹ میں مقابلہ (Market Competritive)کرنے میں مدد دیتی ہے ۔کیونکہ نئے نئے خیالات(New Ideas) ،ان مختلف مزاجوں کے ذریعے ہی سامنے آتے ہیں جس سے ادارہ اپنی پیداوار میں جدت (Innovation) لاسکتا ہے،پیداواری عمل میں بہتری(Productive Efficiency) لاسکتا ہے۔ نئی پیداوار متعارف کروا سکتا ہے جس سے ادارہ مارکیٹ میں مقابلہ کرتا ہے۔

ان فروق کو مدنظر نہ رکھنے کے نقصانات (Disadvantages of not realizing diversity)
دوسر ی جانب اگر اس اختلاف کو درست انداز میں نہ سنبھالا جائے تو وہی ملازمین جو ادارے کا اثاثہ تھے ،وہ ادارے سے بدظن ہو جاتے ہیں۔ادارہ چھوڑنے تک کی نوبت آجائے گی۔اسی طرح ادارے میں کام کرنے والے ملازمین میں سے ایک نسل کے لوگ اگر یہ دعوی کرنے لگ جائیں کے ہم سب سے اعلی ہیں اور اپنی رائے کو اوپر رکھیں تو اس کی وجہ سے ادارے میں ایک تناؤ کی فضا قائم ہو جائے گی۔ اس طرح ادارے کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔بہر حال! اس اختلاف کو مدنظر نہ رکھنا اور درست سمت میں نہ سنبھالنا ادارے کے لئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔اس لئے ماہرین جدید نظمیات اس کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں۔

اداراتی ثقافت میں بہتری(Managing Diversity Trough Corporate Culture)
  ادارتی ثقافت یا کلچر سے مراد ادارے کے مشترکہ اخلاقی ضوابط(Shared Moral)، اقدار (Values)، عقائد(Believes) اورخیالات(Assumptions) ہیں ۔یہ عموما تحریری نہیں ہوتے لیکن ادارے میں رائج ہوتے ہیں۔اداراتی امور(Organisational Affairs) جیسے تنظیم سازی(Organising)، فیصلہ سازی (Decision Making)و دیگر امور میں ان کو مدنظر رکھا جارہا ہوتا ہے۔متفرق افراد(Diversed Workforce) کو ادارے میں بہتر انداز میں سنبھالنے کے لئے اس اداراتی ثقافت (Corprorate Culture)کو استعمال کیا جاتاہے۔

انسانی وسائل کی انتظام کاری میں بہتری (Managing Diversity Trough HRM)
   انسانی وسائل کی انتظام کاری(Human Resource Management) جس کا لب لباب بہترین انسانی وسائل کو متوجہ کرنا(Recruitment)،منتخب کرنا (Selection)اور برقرار کھنا ہے۔اس عمل میں بہتری سے بھی اس اختلاف کو بہترانداز میں سنبھالا جاسکتا ہے ۔جیسے انتخابی عمل میں اس بات کو مدنظر رکھنا کہ ایسے لوگو ں کا انتخاب کرنا جن میں ،اپنے مزاج کے خلاف باتوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت ہو،طبیعت میں سختی نہ ہو۔مزید ملازمین کے لئے ایسے تربیتی پروگرام ترتیب دینا جس سے ان میں اچھے اخلاق پیدا ہوں۔

تربیتی مجالس کا انعقاد (Training Program)
  ایسی تربیتی مجالس (Training Workshop)بھی ترتیب دی جاسکتی ہے جس سے ملازمین میں ایک دوسرے سے تعاون کا مزاج پیدا کیا جاسکے ۔ان میں ایک دوسرے کی عزت افزائی کرنے کا رویہ پیدا ہوسکے۔ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو برداشت کریں ،ایک دوسر ے کی رائے کا احترام کریں اور مل جل کر ادارے کی ترقی کے لئے کوشش کریں۔متفرق لوگوں کو کیسے سنبھالا جائے اور ان سے کس طرح کام لیا جائے ،اس حوالے سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں بھرپور رہنمائی موجود ہے ۔ان شاء اللہ اگلے مضمون میں اسلامی حوالے سے ہدایات پیش کی جائیں گی۔