ایک ادارے میں رہ کر کام کرنے والے افراد کے مزاجوں ،صلاحیتوں(Abilities) میں اختلاف ہونا،ان کا مختلف نسلوں(Racial Groups) اور خاندانوں سے ہونا ناگزیر ہے۔ایسا نہیں ہو سکتا کہ سب انسان اپنے مزاج،صلاحیتوں میں ایک جیسے ہوں۔اس اختلاف کے نتیجے میں بعض اوقات آپس میں اختلاف رائے، ناراضگی یا ایک دوسرے پر غصہ آنا، یہ سب ہونا فطری بات ہے۔لیکن ان سب کا ادارے کی کارکردگی پر انتہائی منفی اثر پڑتا ہے۔

افراد آپس میں ایک دوسرے سے معاونت(Cooperation) کے بجائے ،دشمن بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی فکر لگی ہوتی ہے۔جس سے مجموعی لحاظ سے ادارے کی کارکردگی کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔اگر اس کا بروقت حل نہ نکالا جائے تو ادارے ترقی کے بجائے زوال کی راہ پر چل پڑتے ہیں۔ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں اس چیز کا بارہا تجربہ کرتے ہیں کہ جب آپس میں نفرت ،حسد اور کینہ کا ماحول ہوتو وہاں کام پر توجہ کم اور ایک دوسرے سے منفی مقابلہ کی فضا زیادہ بن جاتی ہے۔افراد اپنی صلاحیتیں ایک دوسرے سے لڑنے میں صرف کررہے ہوتے ہیں،منیجرز جھگڑے نمٹا نمٹاکر تھک جاتے ہیں،سمجھا سمجھا کر تھک جاتے ہیں لیکن دل کا کینہ و حسد ختم نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ عموما ملازمین کو فارغ کرنے کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔جس کا نقصان بھی بہر حال ادارہ اٹھاتا ہے۔ اس طرح وہ ایک تجربہ کا ر فرد کو نکال کر نوآموز اور سیکھنے والے کو رکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔

ایسی صورت حال کو سنبھالنے کے لئے جو اصول ہمیں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیر ت میں ملتے ہیں وہ شاید جدید مینجمنٹ کی کسی کتاب یا نظریے میں نہیں مل سکتے ۔آئیے! ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کیا اصول اپنائے اور ہمارے لئے پسند فرمائے۔ اگر ہم ان پر عمل کریں تو ہمارے ادارے جنت کا نمونہ بن جائیں۔ہمارے اداروں میں محبت و بھائی چارے کی وہ مثالیں نظر آئیں جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے درمیان نظر آتی تھیں۔

پہلا اصول:سلام کو رواج دینا
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ خود سلام فرماتے تھے۔چاہے ملنے والا چھوٹا ہوتا یا بڑا۔اس عمل کے ساتھ ساتھ یہ اعلان فرمادیا کہ سلام کو پھیلاؤ۔ایک اور روایت میں بہت بڑی خوشخبری ہم جیسے مسلمانوں کے لئے دے دی کہ جو سلام کرنے میں دوسرے سے آگے نکل جائے گا اس کے لئے یہ گارنٹی ہے کہ اس کے دل میں تکبر نہیں ہے۔گویا تکبر کے نہ ہونے کی گارنٹی دے دی گئی اس آدمی کے لئے جو سلام میں پہل کرے۔ لہذا ہم آج ہی سے اپنے اداروں میں رواج عام کریں کہ ہر ایک سلام کرنے میں دوسرے سے پہل کرنے کی کوشش کرے۔اس سے آپس میں محبت پیدا ہوگی۔ ہمارے لئے ملازمین کو چلا نا آسان ہو جائے گا۔ نیزاس گئے گزرے وقت میں ایک سنت کو زندہ کرنے پر سو شہیدوں کا ثواب مفت میں اپنے کھاتے میں لکھوا لیں گے۔

دوسرا اصول :باہم گفٹ کا تبادلہ
حدیث میں آتا ہے آپس میں تحفے دیا کرو، اس سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔تحفے کے لئے ضرور ی نہیں کہ کوئی قیمتی چیزہو،کوئی معمولی چیز بھی ہم دوسرے کودے سکتے ہیں۔احادیث میں ایسے واقعا ت اچھی خاصی تعداد میںموجود ہیں جس میں صحابہ نے آپس میں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہدیے دیے۔اداروں میں اس اصول پر عمل کرکے محبت و الفت کی فضا قائم کی جا سکتی ہے۔جو بالآخر ادارے کی ترقی کی ضامن ہے۔

تیسرا اصول:ایک دوسرے کی عزت و تکریم
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی مجلس میں حاضر ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا سا ہل جاتے۔کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مجلس میں جگہ ہوتی پھر بھی یہی طریقہ اختیار فرماتے۔ فرماتے: اس میں آنے والے کی عزت ہے۔یہ ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ۔ہم بھی اس سنت کو اپنے اداروں میں زندہ کرکے آپس میں محبت و الفت کی فضا قائم کرسکتے ہیں۔اس بات کو عام کریں کہ ادارے کا ہر فرد برابر درجے میں عزت و احترام کا مستحق ہے۔ اس لیے کون کس سے بہتر ہے؟ ہمیں اس کی کچھ خبر نہیں۔ اس کا حتمی علم صرف اللہ کو ہے۔ ہمیں ہر ایک کو اپنے سے بہتر سمجھنا چاہئے اور عزت کرنی چاہئے۔

چوتھا اصول:ایک دوسرے کو معاف کرتے رہنا
’’تم آپس میں ایک دوسرے کو معاف کرو اللہ تمہاری خطاؤں کو معاف کرے گا۔‘‘یہ اعلان ہورہا ہے زبان نبوت سے ۔آج ہم اپنا معاملہ دیکھیں تو معافی کا پہلوتو شاید ہماری زندگیوں سے بالکل نکل ہی گیا ہے۔چھوٹی چھوٹی بات پر اپنے ساتھیوں ،دوستوں ،بھائیوں سے یہ کہہ دینا کہ آئندہ ہماری شکل نہ دیکھنا!اگر وہ منانے کی کوشش کرے تو یہاں تک کہہ دینا کہ معافی تو تمہاری بھول ہے۔ہم کس طرف جارہے ہیں؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیں سکھارہے ہیں کہ معافی کو عام کرو اور ہم معاف کرنے کو تیا رنہیں ہیں۔آپس میں معافی اور درگزر کو عام کریں۔ یاد رکھیں! اللہ کو ہم پر اس سے زیادہ قدرت ہے جتنی ہمیں اپنے ماتحت پر ہے۔ اداروںمیں اس بات کو رواج دیں کہ آپس میں لڑائی ہوجائے تو زیادتی کا شکار ہونے کے باوجود درگزر کی عادت ڈالیں۔ بالخصوص منتظمین اپنے ماتحتوں کے ساتھ درگزر سے کام لیں چھوٹی چھوٹی باتوں پرپکڑنہ کریں۔ طریقے سے سمجھاتے رہیں،ان شاء اللہ غلطیاں درست ہوجائیں گی۔یہ بھی یاد رکھیں! اگر بات بات پر پکڑکرنا،ڈانٹنا، دھمکیاں دینے کا مزاج اپنایا گیا تو ملازمین ادارے اور منتظم سے بدظن ہوجائیں گے۔جس سے ان کی کارکردگی پر برا اثر پڑے گا۔

پانچوں اصول:امیر کی اطاعت
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان فرماتے ہیں :اگر تم پر (بالفرض)کوئی حبشی غلام حاکم بنادیا جائے تو اس کی اطاعت کرنا۔پھر اللہ تعالی نے قرآن میں جہاں اللہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے،وہیں اپنے امیرکی اطاعت کا بھی حکم دیاہے۔اتنی اہمیت کے باوجود ہمارا اپنے امیر یعنی ذمہ دار اور مسئول(Immidiate Boss) کے ساتھ کیسا رویہ ہے۔خوف سے تو بات مانتے ہیں لیکن شاید یہ بات کبھی بھی ہمارے خیال کے کسی کونے میں نہیں آتی کہ ہم اپنے منتظم کی بات اس لئے مانیں کہ اللہ کا حکم ہے ۔اگر اس نیت کے ساتھ مانیں گے تو مفت کا ثواب ہمارے نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے گا۔پھر اس کی عظمت دل میں رکھنا چاہئے، چاہے وہ علم میںکم ہی کیوں نہ ہو۔اس کا حق ہے کہ ہم اس کے ساتھ بدگمان نہ ہوں،ہمیشہ خیر خواہ رہیں۔آج ان لازوال ہدایات کو اپنے اداروں میں عام کرکے ہم اداروں میںمحبت و الفت کی فضا قائم کرسکتے ہیں۔

چھٹا اصول:ایک دوسرے کی خدمت
مختلف غزوات کے موقع پر کہیں پڑاؤ ڈالتے تو کھانے کے انتظامات میں نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس اپنے صحابہ کے ساتھ کاموں میں شریک ہوتے۔ اسی طرح مسجد نبوی کی تعمیر میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پتھر ڈھوتے نظر آئے۔ غزوہ خندق میں صحابہ کے ساتھ خندق کھدوانے میں صحابہ سے بھی بڑھ کر مشقت اٹھائی۔یہ ہے مزاج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم! نبی ہوکر،صحابہ جیسی جانثارجماعت ساتھ ہونے کے باوجود ان کے ساتھ کام میں شریک ہیں ۔خدمت کررہے ہیں۔آج ہم اداروں میں اگر اسی مزاج کو زندہ کرنے کی کوشش کریں کہ اگر کسی کو چند افراد پر بڑا بنادیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیںکہ وہ ان کو اپنا خادم سمجھنے لگ جائے۔ ہر مسلمان ، دوسرے مسلمان کی خدمت کا جذبہ رکھے۔ چاہے وہ اس سے عہدے و عمر میں چھوٹا ہے یا بڑا۔

ساتواں اصول:عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک رئیسہ عورت کی چوری کی سزا میں کمی کی سفارش کی جاتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوجاتا ہے۔اعلان فرماتے ہیں: اس فاطمہ کی جگہ اگر فاطمہ بنت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہوتی تب بھی سزا میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔یہ ہے شریعت کا مزاج اور نبوی تعلیمات کہ کسی قیمت پر عدل و انصاف کے تقاضوںکو ہاتھ سے نہ جانیں دیں ۔ اداروں میں منیجرز عدل و انصاف کے تقاضوں کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔عدل و انصاف کے قیام کا مطلب یہ نہیںکہ سب کو برابر رکھیںبلکہ ہر ایک کو اس کے مرتبہ کے مطابق عزت دیں۔ تنخواہوںاور اضافی فوائد(Incentives and Promotions) میں بالخصوص عدل و انصاف سے کام لیں۔کسی کے ساتھ ناانصافی کا معاملہ نہ کریں۔

آٹھواں اصول:مشاورت کا نظام
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو بعثت نبوی سے لے کر ہر موقع پر اپنے اردگرد موجود صحابہ سے ہمیشہ مشورہ فرمایا۔اللہ تعالی نے اسی بات کو سورۃ الشوری میں برملا فرمایا کہ ان(صحابہ کرام) کے معاملات مشورہ سے طے ہوتے ہیں۔یہ سنت بھی ایک ایسی سنت ہے کہ اس پر عمل کرکے ہم پورے ادارے کو ایک فرد واحد کی طرح کام کے لئے یکجا کرسکتے ہیں۔اس کے نتیجے میں ادارے کے ہر فرد کی فکر ایک ہو جاتی ہے۔اگر دیکھا جائے تو ہم اپنی کاروباری زندگی میں ہم اپنے ہم منصب افراد سے تو مشورہ کرتے ہیں لیکن اپنے ماتحتوں سے جنہوں نے کام کرنا ہے ان سے مشورہ نہیں کرتے۔یاد رکھئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے اور یہ اللہ کا حکم تھا ۔ہم بھی اپنے ساتھیوں سے مشورہ کریں اس سے سب کی فکر ایک ہو جائے گی۔

نواں اصول: ایک دوسرے کی خوشی و غمی میں شریک ہونا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںایک صحابی حاضر ہوتے ہیں۔فقر سے بے حال۔اپنے حالات سناتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ارشاد ہوتا ہے کہ ان کی مدد کرو۔موجود صحابہ ان کی مدد کرتے ہیں۔وہ صحابی خوش ہوجاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بھی خوشی سے چمک اٹھتی ہیں۔یہ کیا تھا ؟اپنے صحابہ کی خوشی ،غمی کو ایسا سمجھا جیسے خود اس تکلیف میں ہوں اور اس کے حل کرنے کی فورا فکر کی۔یہ ہے ہمارے پیارے نبی کا اسوہ جسے قرآن بہترین نمونہ قرار دیتا ہے۔آج ہم اپنے اداروں میں اس بات کو عام کریں کہ ہم سب ایک خاندان کی مانند ہیں ہم ایک دوسرے کی خوشی اور غم کو برابر محسوس کریں۔ منتظمین بالخصوص اور دیگر ملازمین بھی آپس میں ایک دوسرے کی خوشی و غمی میں شریک ہوں،ملازمین کی ذاتی زندگی کو ادارے سے الگ نہ سمجھیں۔

دسواں اصول:تربیت کا اہتمام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کاگذر ایک مردہ بکری کے بچے کے لاشے کے پاس سے ہوتا ہے۔ اس کی طرف اشارہ فرما کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:تم میں سے کون ہے جو اسے ایک درہم کے بدلے میں خرید ے؟آواز آتی ہے: ہم مفت میں بھی لینا پسند نہیں کریں گے۔اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ کی نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جتنا کہ تم اس مردہ بکری کے بچے کو ذلیل سمجھتے ہو۔یہ تھی پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر!کوئی موقع تربیت کا ہاتھ سے جانے نہ پائے اور ذخیرہ احادیث میں کثرت سے ایسے واقعات ملتے ہیں۔یہ ہے نبوی صلی اللہ علیہ وسلم فکر اور سنت اپنے ساتھیوں کی فکر کرنے کی ۔ہم اگر آج اپنا جائزہ لیں تو ہمیں اور ہمارے ساتھ کام کرنے والوں کو تربیت کی اس سے کہیں زیادہ ضرورت ہے ۔ہم جس طرح اپنے ماتحتوں کی کاموں کے حوالے سے تربیت کی فکر کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے دین کی بھی فکر کریں اور عبادات و عقائد کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور معاملات کے حوالے سے خصوصی توجہ دیں۔تاکہ ان کے اندر وہ صفات پیدا ہوں جن کا ہونا ایک مسلمان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے اور اس سے ہمارے اداروں میں محبت و الفت کی فضا پیدا ہو۔ یہ دس اصول نہیں ہمارے لئے نسخہ حیات ہے۔ان پر عمل کے نتیجہ میں ان شاء اللہ کامیابی یقینی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے صرف پڑھنے سننے تک محدود نہ ہوں بلکہ عمل کے لئے میدان میں آئیں۔جب تک یہ باتیں عمل میں نہیں آئیں گی نتائج نہیں آئیںگے۔تاجر برادری اور منیجر برادری کوشش کرے کہ ہمارے بازاروں اور اداروں کا ماحول ایسا بن جائے کہ اس میں دینی ہدایات پر عمل کرنا آسان ہوجائے۔ جب تک ایسا نہیں ہو تا ہم اپنی ذات تک تو عمل کریں۔یاد رکھئے! چراغ سے چراغ جلتا ہے۔بارش کے قطرے کی تو اہمیت نہیں لیکن یہی قطرے سیلاب کا سبب بن جاتے ہیں۔اپنی ذات تک کی کاوش کو حقیر نہ سمجھیں۔اس دور میں جہاں گمراہی کا دور دورہ ہے ایک سنت پر عمل کرنے والے کے لئے بھی سو شہیدوں کا ثواب کا وعدہ ہے ۔ اللہ تعالی ہماری اس کاوش کو بھی اسلام کے غلبہ کا ذریعہ بناسکتا ہے ،جس کی بنیاد ہم تھے۔ آئیے! عہد کریں کہ سننے اور پڑھنے سے آگے بڑھتے ہوئے اب ہم ان سب ہدایات پر سوفیصد عمل کی کوشش کریں گے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین۔