’’آہ! میں کتنا بدنصیب باپ ہوں۔ میرے بچے، آہ! میرے نالائق بچے۔ آج میرے کسی کام کے نہیں۔ میں نے انہیں پالا پوسا۔ جوان کیا۔ ان کی شادیاں کیں۔ آج جب میرے بوڑھے جسم میں طاقت ختم ہو گئی ہے۔ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہا تو میرے بچوں نے مجھے گھر سے نکل جانے کی دھمکی دے دی۔ اے خدا! کاش! تو مجھے ایسی اولاد نصیب نہ کرتا۔ اولاد تو ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ ان کے جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے…

لیکن میری اولاد۔ کاش! میری اولاد بھی نیک ہوتی۔ اے کاش!! وہ دعا مانگتے ہوئے اللہ سے آہ و زاری کر رہا تھا۔ اس نے ایک طویل سرد آہ بھری۔ اپنا سر اوپر کیا۔ چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ مسجد خالی ہو چکی تھی۔ پھر وہ اپنے گھر آیا۔ آج وہ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے اس بنگلے میں ایک اجنبی سے زیادہ کوئی وقعت نہ رکھتا تھا۔ گھر کا یہ گوشہ اس کے بیٹوں نے ’’اولڈ ہاؤس‘‘ کے طور پر مختص کر دیا تھا۔ اس کی زبان ایک بار رواں ہو گئی:


٭…تم آپس میں ایک دوسرے کو معاف کرو اللہ تمہاری خطاؤں کو معاف کرے گا ٭…یہ بات کبھی ہمارے خیال میں بھی نہیں آتی ہم اپنے منتظم کی بات اس لئے مانیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے ٭…تاجر اور منیجر کوشش کریں بازاروں اور اداروں کا ماحول ایسا بن جائے اس میں دین پر عمل آسان ہو ٭


’’کاش! میں نے اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے بھی روشناس کرایا ہوتا۔ کاش! انہیں دین اسلام کی کچھ باتیں ہی سکھا دی ہوتیں، انہیں زندگی گزارنے کے کچھ طریقے ہی سکھا دیے ہوتے تو شاید میرے ساتھ یہ حال نہ ہوتا۔ ہاں! غلطی میری ہی تھی۔ میں نے انہیں شروع سے ہی شہر کے اونچے اور انگلش میڈیم اسکول میں داخل کروایا۔ ان کا سارا نصاب تو انگلش میں تھا ہی، ماحول بھی انگلش والا تھا۔ گویا وہ اردو اور اسلام کے نام سے ہی بمشکل واقف تھے۔ ظاہر ہے جب میں نے انہیں انگریزوں والی تعلیم دلوائی تو انہوں نے میرے ساتھ سلوک بھی انگریزوں والا ہی کرنا تھا۔ سو، آج انہوں نے مجھے اپنا قیدی بنا ڈالا اور نکل جانے کی دھمکی ساتھ دیتے ہیں۔ آہ! میری نیک اور سلیقہ شعار بیوی۔ اس نے ایک دفعہ مجھ سے کہا تھا: ’’نومی کے پاپا! میں چاہتی ہوں ہمارے بچے قرآن مجید بھی پڑھیں، اس کے لیے کوئی انتظام بھی کرنا چاہیے۔‘‘ میں ان کی خوبصورت پیشکش پر اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا تھا: ’’ان کے پاس کوئی وقت فارغ ہی نہیں۔ قرآن کریم کی تعلیم وہ کیسے حاصل کریں گے؟؟‘‘

ٹی وی، میڈیا، کارپوریٹ کلچر اور دنیا کی دوڑ میں آگے رہنے کی ہوس نے آنکھوں پہ وہ پٹی باندھی ہے کہ ہمارے سامنے ہمارا مستقبل تک دھندلا کر رہ گیا ہے۔ بیوی، بچوں کی ہر تمنا پوری کرنے کی ایسی دھن سوار ہوئی کہ ہم نے اپنا کل، اپنے آج پر قربان کر دیا۔ جب ہم بچپن میں اپنی اولاد کو درست رخ پہ نہیں ڈالتے تو جلد وہ نامبارک گھڑی ہمیں دیکھنا پڑتی ہے کہ ہمارا گریبان ہوتا ہے اور ہماری اولاد کا ہاتھ۔ ہم صبح سے شام تک محنت کر کے ان کی جسمانی غذا کا انتظام تو کرتے ہیں، مگر روحانی غذا کے لیے بندوبست کرنے کی طرف ہماری توجہ نہیں۔ اگر ہم نے انہیں روحانی غذا نہ دی تو نیکی کا بیج جو ان کے دل میں موجود تھا، وہ سوکھ کر آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔ پھر گمراہی، گناہ اور برائی کا بیج ان کے دل میں نشونما پانے لگتا ہے۔ یہ بیج جب تن آور درخت بن جاتا ہے تو اس کا نتیجہ بڑا بھیانک نکلتا ہے۔ اولاد بڑھاپے میں ہمیں دھکے دے کر گھر سے نکال دیتی ہے۔ تب ہمیں احساس ہوتا ہے، مگر اس وقت افسوس کا فائدہ نہیں ہوتا ۔ سو، ہمیں بچپن ہی سے جسمانی غذا کے ساتھ ساتھ روحانی غذا اسلامی تربیت کی صورت میں دینی چاہیے تھی۔

تاریخ اسلام کے عظیم بزرگ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مثالی واقعہ ملاحظہ کیجیے۔ والدہ سخت سردی کی رات میں فرماتی ہیں: بیٹا! مجھے پانی کی ضرورت ہے پانی لاؤ۔ عجیب اتفاق کہ گھر میں موجود پانی ختم ہو چکا ہے۔ بایزید اسی وقت کنوئیں کی طرف جاتے ہیں۔ راستے میں شدید برف باری ہے، سخت سردی ہے۔ لیکن اس کے باوجود پانی لے کر آتے ہیں اور پیالے میں پانی لے کر ماں کے سرہانے پہنچتے ہیں تو والدہ کی آنکھ لگ چکی ہے۔ اب آپ سوچتے ہیں کہ ماں نے پانی مانگا تھا۔ اب اگر میں سو جاؤں تو یہ نافرمانی ہے۔ اگر ماں کو جگاؤں تو نیند خراب ہونے کا اندیشہ ہے، لہذا ساری رات ماں کے سرہانے کھڑے رہتے ہیں۔ سردی اس قدر ہے کہ پیالے سے جو چند قطرے ہاتھ پر گرے تھے، وہ برف بن گئے اور پیالہ ہاتھ سے چپک گیا۔ صبح کے وقت والدہ محترمہ کی آنکھ کھلتی ہے اور پیالہ اٹھاتی ہیں۔ اس وقت بھی ماں پر کوئی احسان کا اظہار نہیں کرتے۔ خاموشی سے پیالہ پیش کر دیتے ہیں لیکن جس وقت پیالہ ہاتھ سے جدا ہوتا ہے، تو برف سے جم جانے کی وجہ سے ہاتھ سے خون جاری ہو جاتا ہے۔ والدہ پوچھتی ہیں: بیٹا یہ خون کیوں نکل رہا ہے؟ سارا واقعہ عرض کرتے ہیں اور ماں کی دعائیں حاصل کرتے ہیں۔

کیا آپ ذرا سی توجہ، تھوڑی سی مشقت اور کچھ دن کی مخالفت برداشت کر کے ایسی سعادت مند اولاد کی خواہش رکھتے ہیں؟ اگر ہاں تو اس پر عطا ہونے والا اجر بھی سنیے۔ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’بروز قیامت جب ان کے سر پر قیمتی تاج اور نوری لباس پہنایا جائے گا تو کہیں گے اے مالک و مولیٰ! یہ کن اعمال کا صلہ ہے؟ فرمایا جائے گا: یہ بچوں کی ’’اسلامی و قرآنی تربیت‘‘ کا صلہ ہے۔‘‘ (مجمع الزوائد:161/7) نیک اولاد ہی اصل اولاد ہے۔ قرآن پاک میں ہے: ’’حضرت زکریا علیہ السلام نے عرض کی اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے ستھری اولاد دے۔‘‘ (آل عمران:38) ایک اور حدیث پاک پڑھیے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس سے تین چیزیں مستثنیٰ ہیں (یعنی ثواب کا یہ کھاتہ مرنے کے بعد بھی کھلا رہتا ہے): صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہو یا نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعا کرے۔‘‘ (رقم:3084)

اپنی دنیا، اپنی آخرت، اپنے مستقبل کے لیے ایک سرمایہ کاری یہ بھی ہے۔ اسے بھی اپنے ایجنڈے میں شامل کیجیے۔ نیک اولاد آپ کو اسی ’’پرانے‘‘ اسلامی طرز تعلیم و تربیت سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ’’ماڈرن لائف اسٹائل‘‘ کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کا مستقبل… اللہ بچائے… ’’اولڈ‘‘ ہاؤس ہی ہو تا ہے۔