اگر ہم ان لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کریں، جنہوں نے اپنے کاروبار کو ترقی دی یا اپنے اداروں کو مارکیٹ لیڈر بنایا، تو یہ بات بالکل واضح نظر آتی ہے کہ ناصرف ان میں ایک لیڈر کی صفات موجود تھیں بلکہ وہ اس فن سے بھی آشنا تھے کہ کس ماتحت کے ساتھ کس طرح کا لیڈرشپ اسٹائل اپنانا ہے؟ کس صورت حال میں ماتحتوں کو کس طرح لے کر چلنا ہے؟ کس وقت ملازمین کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنا ہے؟ اور کس وقت کام کے لیے ملازمین کی معاشرتی زندگی کو قربان کروا کر کام کو ترجیح دینی ہے؟ وہ اس گر سے واقف تھے کہ کس صورت حال میں ملازم سے مشورہ لینا ہے؟ اور کس صورتحال میںحاکمانہ انداز میں ملازمین سے کام کروانا ہے؟ کس قسم کے ماتحتوں سے مشورہ لینا ہے؟ کن کو صرف حکم پر چلانا ہے؟ کن فیصلوں میں ماتحتوں کو آزاد چھوڑنا ہے؟ اور کن فیصلوں کو نافذ کروانا ہے؟


جب انہیں اپنے ماتحتوںکو چلانے کے گر آتے تھے تب انہیں اپنے کاروبار میں ترقی ملی یا انہوں نے اداروںکو ترقی دی۔ ہم بھی اپنے کاروبار کو، مناسب لیڈرشپ اسٹائل اپنا کر، تیزی سے ترقی دے سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے ماتحتوں کو سنبھالنے کا گر آنا ضروری ہے۔ آئیے! ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کیا گرہیں جن کی مدد سے ہم بہتر انداز میں اپنے ماتحتوں کو چلا سکتے ہیں؟ اور وہ مخلص ہو کر ہماری بات مانیں، اور ادارے کی ترقی کے لیے مثبت حصہ ڈالیں۔

 کام یا تعلق؟(Relation or Job)

پہلا سوال یہ ہے کہ لیڈر کام کو زیادہ اہمیت دے یا ملازمین کی فلاح کو؟ اکثر اوقات دونوں یعنی کام اور ملازم کی فلاح و بہبود ساتھ ساتھ حاصل ہو رہے ہوتے ہیں لیکن کاروبار میں ایسے مواقع آتے ہیں جہاں پر ان دونوں اہداف کے درمیان ٹکراؤ آتا ہے۔ اس وقت لیڈر کو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کس کو ترجیح دی جائے؟ کاموں کو ترجیح دینے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ماتحتوں کے کاموں کا گہرائی سے مطالعہ کرنا، کرنے کا طریقہ صاف صاف بتانا اور کام کی کارکردگی کے حوالے سے فکر مند رہنا۔ اس بات سے قطع تعلق ہو کر کہ ملازم کے کاموں میں اس مداخلت کی وجہ سے وہ غیر مطمئن تو نہیں ہو جائے گا یا لیڈر کے اس کے ساتھ تعلقات خراب تو نہیں ہو جائیں گے؟ جبکہ ملازم کی فلاح پر توجہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس بات پر توجہ دینا کہ لیڈر کے ملازم سے تعلقات اچھے رہیں، وہ اپنی جاب سے مطمئن رہے، کام کا درجہ ثانوی ہے۔ اس بات کا فیصلہ کہ کاموں کو زیادہ اہمیت دی جائے یا ملازم کے ساتھ تعلقات کو؟


٭… اچھا منیجر وہ ہے جو لیڈر شپ کی خصوصیات کا مالک ہو اور ماتحتوں کو حالات کے مطابق درست انداز میں چلا سکے ٭… کاروباری ذمہ داری کو بہترین انداز میں ادا کرنا دنیاوی ترقی کا ضامن بھی ہے اور شرعی ذمہ داری بھی ٭… مناسب رویہ اختیار نہ کرنا ماتحتوں کی کارکردگی کو کمزور کر دے گا، وہ اپنے کاموں سے غیر مطمئن ہو جائیں گے

اس کا فیصلہ تین عناصر کی بنیاد پر کیا جاتا ہے: 

٭…لیڈر اور ماتحت کے تعلقات: اس سے مراد یہ ہے کہ ماتحت لیڈر سے مخلص ہے، وہ لیڈر کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے۔ اپنے لیڈر اور اپنے کام سے مکمل مطمئن ہے۔ ٭…کاموں کا مرتب ہونا: کاموں کے مرتب ہونے سے مراد یہ ہے کہ کام روز مرہ کے ہیں، کرنے کا طریقہ مقرر ہے، منیجر سے ہدایات کی خاص ضرورت نہیں پڑتی۔

٭… عہد ے کی طاقت: عہدے کی طاقت کا مطلب یہ ہے کہ منیجر کو اپنے ماتحتوں سے پوچھ گچھ کرنے، انہیں غلط کاموں پر سزا دینے، انہیں کام کرنے کی ہدایات کرنے کے کتنے اختیارات حاصل ہیں۔ کاموں کو کب اہمیت دی جائے؟

ان تین عناصر کو دیکھتے ہوئے درج ذیل صورتوں میں کام پر لیڈر کو زیادہ توجہ دینی چاہیے:

1 پہلی صورت تو یہ کہ منیجر اور ماتحت کے تعلقات اچھے ہیں، کام اچھی طرح مرتب ہیں، تو کاموں کو اہمیت دی جائے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ملازم کو اس کے کام بالکل واضح انداز میں بتا دیے جائیں، کارکردگی کا اچھی طرح مطالعہ کیا جائے، اس لیے کہ تعلقات تو پہلے ہی اچھے ہیں، اس صورت میں ملازم پر گہری نظر رکھنے اور کام کو ترجیح دینے سے اس ملازم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی جس سے ادارہ تیزی سے ترقی کرے گا۔

2 دوسری صورت یہ ہے کہ جب آپ کے ملازم سے تعلقات تو اچھے ہیں، لیکن کام مرتب نہیں ہیں اور آپ کے پاس اپنے عہد ے کی طاقت ہے۔ ایسی صورت حال میں بھی لیڈر کے لیے کاموں پر توجہ دینا ہی کاروبار کی ترقی کا ضامن ہو گا کیونکہ کام چونکہ مرتب نہیں ہیں ایسی صورت حال میں اگر ملازم کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور گہری نظر سے اس کی کارکردگی کا مطالعہ نہ کیا جائے تو ملازم کی کارکردگی گر جائے گی، کیونکہ کام روز مرہ کے نہیں ہیں، کام کرنے کے طریقے مقرر نہیں ہیں اور منیجر کو اپنے عہدے کی طاقت حاصل ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے ماتحت کی بھرپور نگرانی کر سکتا ہے اور آپ کے اس سے تعلقات اچھے ہیں جس کی وجہ سے آپ کی سختی کے ساتھ نگرانی وہ برداشت کر لے گا اور اس کی کارکردگی بہتر ہو گی جس سے ادارہ ترقی کرے گا۔

3 تیسری صورت یہ ہے کہ جب منیجر اور ملازم کے تعلقات اچھے نہیں ہیں، کام غیر مرتب ہیں ایسی صورت حال میں بھی لیڈر کا اپنے ماتحتوں کے کاموں پر توجہ دینا زیادہ سود مند ہو گا، بجائے ا س کے کہ ملازم کو اس کی جاب سے مطمئن رکھا جائے۔ کیونکہ اس صورت حال میں جب کام غیر مرتب ہیں یعنی ان کے کرنے کے طریقے واضح نہیں ہیں، آپ کے اپنے ملازم سے اچھے تعلقات نہیں ہیں تو کاموں کا گہرائی سے مطالعہ نہ کرنا، ملازم کی کارکردگی گرا دے گا۔ کب تعلقات کا اہمیت دی جائے؟

1 وہ صورت حال جب آپ کے ملازم سے تعلقات اچھے ہیں، کام غیر مرتب ہیں اور عہدے کی طاقت کمزور ہے یعنی آپ مشورہ دے سکتے ہو لیکن حکم نہیں چلا سکتے، جیسے عموما اس صورت حال میں ہو تا ہے جب ماتحت آپ کے ساتھ کام تو کر رہا ہے لیکن تنظیمی ڈھانچے میں وہ اپنی کاموں کے حوالے سے کسی اور کو جوابدہ ہے۔ تو ایسی صورتحال میں آپ کا زیادہ نگرانی کرنا ملازم کو بدظن کر سکتا ہے لہذا اسے مشورہ دے دینا کافی ہے۔ ہاں! آپ کے تعلقات اچھے رہیں گے تو وہ آپ کی باتوں کو لیتا رہے گا لہذا تعلقات کو اہمیت دی جائے کہ ملازم اپنی جاب سے مطمئن رہے۔

2 دوسری وہ صورت حال جب لیڈر اور ماتحت کے تعلقات اچھے نہیں ہیں، لیکن کام بالکل واضح اور روز مرہ کے ہیں، اب اس صورت حال میں چاہے عہد کی طاقت ہو یا نہ ہو، ملازم کو اس کے کاموں سے مطمئن رکھنا ہی کافی ہے کیونکہ اسے زیادہ نگرانی یا ہدایات کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، ہاں! اگر وہ اپنے کاموں سے غیر مطمئن ہو گیا تو اس کی کارکردگی کمزور پڑ جائے گی۔

حاکمانہ یا مشیرانہ انداز
دوسرا اہم فیصلہ منیجر کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ کس صورت حال میں حاکمانہ انداز اپنایا جائے اور کس صورت حا ل میں ماتحتوں سے مشورہ کیا جائے۔ کیونکہ مناسب انداز اختیار نہ کرنا ماتحتوں کی کارکردگی کو کمزور کر دے گا، وہ اپنے کاموں سے غیر مطمئن ہو جائیں گے، جس سے بالآخر ادارے کی کارکردگی متاثر ہو گی۔ آگے آپ کے سامنے وہ عناصر پیش کیے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جانا چاہیے کہ کس وقت ماتحتوں پر حاکمانہ انداز اختیار کرنا سود مند ہو گا اور کس صورتحال میں ماتحتوں سے مشورہ لیا جائے گا۔

1 ماتحتوں کا علم، تجربہ اور صلاحیت
اگر ماتحت تجربہ کار ہے، تعلیم یافتہ ہے مستقبل کے بارے میں درست سمت سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ادارے کے کلچر اور اخلاقیات سے واقف ہے، وہ اپنے کاموں اور ادارے کے بارے میں واضح سمجھ بوجھ رکھتے ہیں تو فیصلوں میں ان سے مشورہ لینا، معاملات مشاورت سے طے کرنا ہی بہتر حکمت عملی ہو گی۔ اس سے ان کی اپنے کاموں سے لگن (Motivation) میں اضافہ ہو گا۔ اپنے منیجر کی عزت دل میں بیٹھے گی، مزید منیجر کو بھی قیمتی آراء ملیں گی۔ جس سے وہ بہتر انداز میں ادارے کے اہداف و منصوبوں کو لے کر چل سکے گا۔ دوسری جانب اگر ماتحتوں میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اپنے کاموںاور ادارے کے بارے میں اچھی رائے دے سکیں تو وہاں حاکمانہ انداز اختیار کرنا ہی ادارے کے اہداف و منصوبوں کو بہتر انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا ہے۔

2 ماتحتوں میں لگن و جستجو
بعض اوقات منیجر مشکل صورت حال میں گھر جاتا ہے کہ اس کے ماتحتوں میں آگے بڑھنے اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ نہیں ہوتا، چاہے اپنی تربیت کی وجہ سے یا علم کی کمی کی وجہ سے جس کی وجہ سے وہ کام کو صرف ایک ڈیوٹی کے طور پر کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ان سے مشورہ کرنا منیجر کو بھی سست بنا دیتا ہے، لہذا ایسی صورت حال میں منیجر کے لیے ان پر حاکمانہ انداز اپنانا ہی بہترین حکمت عملی ہو گی اور بعض اوقات اس کے برعکس ماتحتوں میں توانائی ہوتی ہے وہ کچھ کر دکھانے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں مشیرانہ انداز اپنا نا اور فیصلوں میں ان سے مشورہ کرنا، ناصرف ان کی لگن و جستجو کو بڑھا دیتا ہے بلکہ خود منیجر بھی ان کے جذبات سے سبق لیتا ہے اور اسے بھی ایک انرجی ملتی ہے۔

3 کاموں کی نوعیت
ایک اہم عنصر منیجر کے لیڈر شپ کے انداز کے تعین کے لیے ماتحتوں کے کاموں کی نوعیت بھی ہے، کیوں کہ اگر کام بالکل واضح، روز مرہ کے ہیں تو وہاں مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی اگر کاموں کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ بدلتے رہتے ہیں تو ایسی صورت حال میں مشاورت سے کام کرنا ناصرف ماتحتوں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا بلکہ منیجر بھی بہتر انداز میں اپنے ماتحتوں سے کام لے سکے گا۔

بہر حال! ایک اچھا منیجر وہ ہوتا ہے جس میں ناصرف لیڈر شپ کوالٹیز پائی جاتی ہوں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ماتحتوں کو حالات کے مطابق درست انداز میں چلا بھی سکے۔ اس حوالے سے منیجر کو اس بات کا علم ہونا از حد ضروری ہے کہ کن صورت حال میں ماتحتوں کے کاموں پر توجہ رکھنی ہے اور کب ان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دینی ہے؟ کب ان سے مشاورت کا انداز اپنانا ہے اور کب فیصلہ صادر کر دینا ہے؟ اس علم کے بغیر ایک منیجر کامیاب لیڈر نہیں بن سکتا۔ ان عناصر میں ماتحتوں سے تعلقات، کاموں کی نوعیت، منیجر کی طاقت، ماتحتوں کا علم و تجربہ، جیسے اہم عناصر ہیں جن کا تجزیہ منیجر کے لیے راہ متعین کرتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے ماتحتوں کو چلائے۔

اگر ہم بھی ایک اچھے منیجر بننا چاہتے ہیں تو ان عناصر کا تجزیہ کر کے اپنے لیے راہ عمل متعین کر سکتے ہیں اور کامیاب منیجر بن کر اپنے کاروبار کو یا ادارے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تو آئیے! اپنا جائزہ لیں، اپنے ماتحتوںکا جائزہ لیں اور طے کریں کہ ہمیں اپنے ماتحتوںکو کس طرح لے کر چلنا ہے۔ یاد رکھئے! ہمارا کاروبار ہماری ذمہ داری ہے، ہماری جاب ہماری ذمہ داری ہے، اس ذمہ داری کو بہترین انداز میں ادا کرنا ناصرف ہماری دنیاوی ترقی کا ضامن ہے بلکہ اپنے کاموں کو بہتر انداز میں ادا کرنا ہماری شرعی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم اپنے ذمہ کاموں کو بہترین انداز میں کریں گے تو ان شاء اللہ ہم دنیا میں سرخرو ہوں گے اور آخرت میں بھی اس کا بہتر بدلہ ہمارا منتظر ہے۔ ان شاء اللہ اگلے مضمون میں آپ کی خدمت میں پیش کروں گا کہ سیر ت النبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کس طرح لیڈر شپ کے لیے ہمیں رہنمائی ملتی ہے۔