جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے 23 سال کے مختصر عرصے میں اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچایا اور پھیلایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی جماعت تیار فرمائی جس نے یہ پیغام دنیا کے غالب حصے تک پہنچا دیا۔ اس جماعت کی تربیت اس طرح فرمائی کہ قیامت تک کے لیے یہ جماعت حق و باطل کے درمیان ایک فرق کا معیار قرار دے دی گئی۔ اعلان فرما دیا گیا: ان میں سے ہر ایک ستارے کی مانند ہے جو ان کی پیروی کرے گا ہدایت پا جائے گا۔ اتنا بڑا انقلاب، دنیا کی بدترین قوم کو اقوام عالم کے لیے مثالی نمونہ بنانا، بہترین قائدانہ صلاحیتوں (Leadership Qualities) کے بغیر ناممکن ہے۔

یقینا اللہ تعالی کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو وہ قائدانہ صلاحیتیں عطا کی گئیں تھیں جو اس ذمہ داری کے لیے ضروری تھیں۔ اسی لیے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس بات کا اصولی اعلان فرما دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات میں مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ یہ اسوہ حسنہ صرف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے لیے نہیں تھا، بلکہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے ہے۔ اگر مسلمان اس اسوہ حسنہ کی پیروی کریں تو آخرت میں بھی کامیاب ہو جائیں اور دنیا میں بھی غلبہ حاصل ہو جائے۔


٭… رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام کی تربیت انہی اصولوں کے مطابق فرمائی، جن پر عمل کر کے انہوں نے دنیا کے غالب حصے پر اسلام کا پرچم لہرا دیا ٭…سب سے اہم اصول یہ ہے کہ منیجر خود اپنے ماتحتوں کے لیے رول ماڈل بنے ٭…دعا وہ تدبیر ہے جس کی تاثیر تمام مادی اسباب سے بڑھ کر ہے، یہی تدبیر مسلمان کو کافر سے ممتاز کرتی ہے


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اقدس میں جو صلاحیتیں اللہ تعالی نے رکھی تھیں وہ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان صلاحیتوں کو استعمال کر کے جو نمونہ پیش فرمایا وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور اللہ تعالی کی جانب سے ان کی قبولیت کی گارنٹی ہے۔ اگر ہم آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں لیڈر شپ سے متعلق موجود اصولوں کو جانیں اور ان پر عمل کریں تو وہ اصول یقینا اثر انگیزی کے لحاظ سے جدید مینجمنٹ کے اصولوں سے بہتر بھی ہیں۔ وہ اللہ کے یہاںمقبول بھی ہیں، جن پر عمل کر کے کامیابی گارنٹیڈ ہے۔ آئیے! ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت میں منیجرز میںلیڈرشپ کوالٹی پیدا کرنے کے لیے کیا اصول ہمیں ملتے ہیں؟ اور ہم اپنے آپ سے عہد کریں کہ ان پر عمل کر کے ان شاء اللہ دنیا و آخرت کی بھلائیاں سمیٹیں گے۔

پہلا اصول۔رول ماڈل بنیے
پہلا اصول جو سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ملتا ہے، یہ کہ منیجر خود اپنے ماتحتوںکے لیے رول ماڈل بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نما ز پڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں: ’’جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے ایسے نماز پڑھو‘‘ لیڈر ایسی مضبوط شخصیت رکھتا ہو کہ اس میں کمزوری کم سے کم ہو۔ تب ہی ماتحت اس کے پیچھے چلنے میں اپنی کامیابی محسوس کریں گے۔ اب چاہے اس کے پاس عہدے کی طاقت ہو یا نہ ہو وہ اس کی بات مانیں گے۔ اس کے لیے منیجر پہلے خود مشقت کا عادی ہو، جو کام ماتحتوں سے کروانے ہیں خود بھی ان میں مہارت رکھتا ہو۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خود مسجد نبوی کی تعمیر میں شریک ہو رہے ہیں، غبار آپ کے جسم اطہر پر لگ رہا ہے، غزوہ خند ق میں خندق کھود رہے ہیں۔ دیگر غزوات میں خود بہادری و شجاعت کے پیکر بنے ہوئے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ منیجر دینی لحاظ سے مضبوط ہو، اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق ہو کیونکہ اللہ کے ساتھ تعلق ہی تمام مسائل کے حل کروانے کا آسان اور کامیاب راستہ ہے۔ جب اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق ہو گا تو وہ ہر معاملے میں براہ راست اللہ سے رہنمائی لے رہا ہو گا اور اپنے ماتحتوں کی رہنمائی کر رہا ہو گا۔

دوسرا اصول۔تربیت کا اہتمام
دوسرا اہم پہلو سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہمیں معلوم ہوتا ہے، وہ ہے اپنے ماتحتوں کی تربیت کا اہتمام کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک لمحہ بھی اپنے صحابہ کی تربیت سے غافل نہ ہوتے۔ ان کی ہر دم تربیت فرماتے۔ اسی طرح ایک کامیاب منیجر کے لیے بھی یہ سبق ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کی تربیت کا اہتمام کرے۔ بالخصوص دینی حوالے سے ان کے اندر خوف خدا اور فکر آخرت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ خود احتسابی کا جذبہ پیدا کرے، کیونکہ خوف خدا اور فکر آخرت تمام نیکیوں کی جڑ اور تمام گناہوں سے بچنے کے لیے انتہائی معاون ہیں۔ مزید ان میں یہ احساس پیدا کرنا کہ ایک دوسرے کی عزت کریں۔ اللہ تعالی نے سب کو آپس میں بھائی بھائی بنایا ہے، ان کے حقوق ادا کرنے کی فکر کریں۔ حق وصول کرنے کی فکر نہ کریں۔ جب سب اپنے ذمے کے حقوق ادا کرتے رہیں گے تو سب کو حقوق مل جائیں گے۔ اس کے علاوہ انتظامی لحاظ سے اطاعت امیر کا درس یاد دلائیں کہ امیر کی اطاعت اسی طرح ضروری ہے جس طرح اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت ضروری ہے۔ دین پر عمل اس کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔

تیسرا اصول-حوصلہ افزائی کرنا
تیسرا اصول سیر ت النبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اچھے کاموں پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی جس طرح ممکن ہوتا حوصلہ افزائی فرماتے۔ زبانی تعریف فرما دیتے، انعام دے دیتے اور کچھ نہیں تو دعاؤں سے نوازتے۔ اس سے ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ زندہ رہتا۔ ہم بھی اپنے ماتحتوں کی حوصلہ افزائی کی عادت ڈال کر بہت آسانی سے ان کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں۔

چوتھا اصول-ماتحتوں کے ساتھ انتہائی مخلص
یہ بات ہم روز مرہ میں استعمال کرتے ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ ماتحت آپ کے ساتھ اس وقت تک مخلص نہیں ہو سکتا جب تک آپ ان کے ساتھ انتہائی مخلص نہ ہوں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو پیغام رسالت دے کر بھیجا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی اس ذمہ داری کے پہنچانے میں اتنے مخلص تھے اور اتنی مشقت برداشت فرماتے تھے کہ اللہ تعالی کو قرآن مجید میں یہ تسلی دینا پڑی: ’’آپ اپنی امت کے لیے اتنی مشقت برداشت نہ فرمائیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ آج بھی منیجر اپنے ماتحتوں کے ساتھ جتنا مخلص ہو گا، ماتحت بھی دل و جان سے اس کی قدر کریں گے اور کام کروانا آسان ہو جائے گا۔

پانچواں اصول-دنیاوی و اخروی انعامات
حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کفار مکہ کی طرف سے سخت تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم انہیں جنت کی بشارت دے رہے ہیں۔ صحابہ سخت موسم، بھوک پیاس کی شدت میں خندق کھود رہے ہیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس حالت میں انہیں قیصر و کسری کے خزانوں کی خوشخبری سنا رہے ہیں۔ یہ ہے ایک لیڈر کی صفت کہ سخت سے سخت وقت میں بھی ماتحتوں کے حوصلے پست نہیں ہونے دیتا۔ وہ ہر حال میں ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ہم بھی اس سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم پر عمل کر کے ایک اچھے لیڈر بن سکتے ہیں اور سنت پر عمل کا ثواب اپنی جگہ پر۔

چھٹا اصول-رحمت اور بردباری
زبان نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے اعلان ہوتا ہے: ’’جو اپنے بڑوں کی عزت نہ کرے، اپنے چھوٹوں پر رحم نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ پھر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی صفت اللہ تعالی نے ’’رؤف‘‘ اور رحیم‘‘ بیان فرمائی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ مومنین پر حد سے زیادہ مہربان ہیں۔ اس میں بھی منیجرز کے لیے بہترین تعلیم ہے کہ ان پر اپنے ماتحتوں کے معاملے میں رحمت کا پہلو غالب رہے۔ ماتحتوں سے غلطیا ں ہو سکتی ہیں لیکن ان کے ساتھ رحمت کا معاملہ کرنا، بات بات پر پکڑ نہ کرنا، انہیں آپ کے ساتھ وفادار بنا دے گا۔ آپ بہت بہتر انداز میں اپنے ماتحتوں سے کام کروا سکیں گے۔

ساتواں اصول-مشاورت
اہم معاملات میں اپنے ماتحتوں سے مشورہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وہ سنت ہے جس کا انتظامی معاملات سے گہرا تعلق ہے۔ اس کے بے شمار فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ماتحتوں کا اپنے منیجر کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ ان میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں اہمیت دی گئی ہے، لہذا وہ اپنے منیجر کی بات کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں۔

آٹھواں اصول-رہنمائی کرنا
منیجر کے لیے سیرت نبوی سے ایک اہم اصول یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ماتحتوں سے زیادہ محنت کرے۔ علم رکھے اور ان کے پیش آمدہ مسائل میں ان کی رہنمائی کرتا رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قدم قدم پر صحابہ کرام کی رہنمائی فرماتے تھے۔ جب صحابہ کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو اس کا بہترین حل انہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس مل جاتا تھا۔ آج بھی ہم اگر لیڈر بننا چاہتے ہیں تو یہ صفت اپنے اندر پیدا کرنا ہو گی، تبھی ماتحت ہماری بات لیں گے۔

نواں اصول-نگرانی کرنا
ایک اہم اصول سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ ملتا ہے کہ اپنے ماتحتوں کی کارکردگی سے غافل نہ ہوں۔ ان کی نگرانی کرتے رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بازار تشریف لے جاتے ہیں اور ایک صحابی گندم فروخت کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہاتھ ڈالتے ہیں تو اوپر سے خشک اور اندر سے گیلی محسوس ہوتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم سرزنش فرماتے ہیں۔ اس طرح ماتحتوں کی دینی تربیت سے بہت حد تک وہ اپنے کاموں میں مخلص ہو جائیں گے لیکن اس کے باوجود، نگرانی بھی کی جائے اور جہاں درستگی کی ضرورت ہو ہدایات دے دی جائیں۔

دسواں اصول-دعائیں کرنا
ترتیب میں آخری لیکن عمل میں پہلا اصول یہ ہے کہ منیجر خود بھی اپنے لیے، اپنے ماتحتوں کے لیے اور ادارے کے لیے اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعائیں کرے۔ ماتحتوں میں بھی یہ جذبہ بیدار کرے کہ وہ بھی دعاؤں کا اہتمام کریں۔ دعا وہ تدبیر ہے جس کی تاثیر تمام مادی اسباب سے بڑھ کر ہے۔ یہی تدبیر مسلمان کو کافر سے ممتاز کرتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیر ت سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قدم قدم پر اللہ کی بارگاہ میں دعا فرماتے۔ غزوہ بدر کے موقع پر رات بھر دعا فرمانا جبکہ کامیابی کی بشارت دے دی گئی تھی۔ اسی طرح ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنا ہی ہر معاملے میں درست رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ہم اس بات کا اہتمام کریں تو اللہ تعالی ہم جیسے ناتواں اور پرفتن دور کے مسلمانوں پر کیوں رحم نہ فرمائے گا؟ کیوں ہمیں درست راہ نہیں دکھائے گا؟ جس طرح ہم اجمالی طور پر اللہ سے ہدایت دنیا و آخرت کی کامیابی کی دعا مانگتے ہیں، اسی طرح ان انتظامی معاملات کے لیے بھی اللہ سے دعا مانگیں۔ اللہ ضرور ہماری مدد کرے گا۔

اگر ہم ان الہامی اصولوں پر عمل کریں تو یقینا ہمیں لیڈرشپ کوالٹی پیدا کرنے کے لیے کسی اور جدید مینجمنٹ کے نظریے کا سہارا لینے کی ضرور ت نہیں ہے۔ یہ وہ اصول ہیں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام کی تربیت فرمائی اور انہوں نے ان کو اپنا کر دنیا کے غالب حصے پر اسلام کا پرچم لہرا دیا۔ انہی اصولوں پر چل کر ہم اللہ تعالی سے آج بھی مدد لے سکتے ہیں۔ آیئے! ان اصولوں پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی ان اصولوں پر چلنے کی دعوت دیں۔

یاد رکھیے! جس نے کسی اچھی بات کی بنیاد رکھ دی اور لوگ اس پر چل پڑے تو اس بنیاد رکھنے والے کو عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملتا رہے گا۔ کیوں نہ ہم اس نیکی کی بنیاد بن جائیں کہ علما، صلحا اور بزرگان دین کی محفلوں میں جا کر سنتوں پر عمل سیکھیں اور اپنی تجارت میں، ملازمت میں اور انتظامی ذمہ داریوں میں ان پر عمل کر کے دوسروں کے لیے ایک رول ماڈل بن جائیں اور اپنے لیے صدقہ جاریہ کا کھاتہ کھول لیں۔ قدم بڑھائیے! ان شاء اللہ ہم اللہ کو اپنے بہت قریب پائیں گے۔