ادارے کے اہداف اور منصوبے اس وقت تک، مکمل طور پر مقررہ وقت پر، حاصل نہیں کیے جا سکتے، جب تک ادارے میں کام کرنے والے افراد اپنے کاموں کے ساتھ پرجوش اور پرعزم (Motivate) نہ ہوں۔ اگر ہم مارکیٹ میں نظر دوڑائیں تو وہ ادارے جو مارکیٹ میں لیڈ کر رہے ہیں، ان کی افرادی قوت پرجوش اور حوصلہ مند نظر آئے گی اور دوسری جانب وہ ادارے مارکیٹ میں اپنا مقام کھو رہے ہیں۔ ان کے پیچھے بھی ان کی سست، جوش و جذبے سے عاری (Demotivate) افرادی قوت ہو گی۔

کیونکہ ایک پرجوش افرادی قوت اپنے طے شدہ کام سے ایک قدم بڑھ کر کارکردگی دکھا رہی ہوتی ہے تو دوسری جانب دلی طور پر مایوس اور سست افرادی قوت اپنے طے شدہ کاموں سے بھی راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ نتیجہ ادارے کے اہداف و مقاصد کی تکمیل یا اہداف و مقاصد پر ہی نظر ثانی (Revising) کی صورت میں آتا ہے اور اگر افرادی قوت پرجوش ہو تو ادارے مارکیٹ میں چھا جاتے ہیں اور دوسری صورت میں مارکیٹ میں موجودہ مقام بھی کھو دیتے ہیں۔


٭…اگر ضروریات پوری ہوتی رہیں تو انسان کی بنیادی فکر ختم ہوجاتی اور وہ اپنے کاموں پر توجہ دیتا ہے ٭…مختلف طبیعتوں کو پرجوش رکھنے کے لیے ،منیجر کو مزاج شنا س ہونا بہت ضروری ہے ٭…اگر ہم مارکیٹ میں لیڈ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ماتحتوں کو پرعزم رکھنا ہوگا،ورنہ ملازمین کی بری کارکردگی سارے منصوبوں پر پانی پھیر دے گی ٭


ہم اپنے اداروںمیں بسا اوقات دیکھتے ہیں کہ ملازمین کام (Job) کو ایک ڈیوٹی سمجھ کر تو کر رہے ہوتے ہیں، لیکن دل سے نہیں کر رہے ہوتے۔ اس میں اگر کچھ دیندار ہیں تو اوقات کی پابندی کر رہے ہوتے ہیں کہ ان اوقات میں خیانت نہ ہو، باقی کاموں میں وہ جذبہ نہیں ہوتا اور اگر دینداری بھی نہ ہو تو ایسے ملازمین اوقات میں بھی ڈنڈی مار رہے ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایک بھاری ذمہ داری (Responibility) اور جوابدہی (Accountability) منیجر پر آ جاتی ہے کہ ملازمین کو پرجوش رکھنا اس کی ذمہ داری تھی۔ پھر یہ ملازمین کیوں پرجوش نہیں ہیں؟ جس کی وجہ سے ادارے کے اہداف و مقاصد بھرپور انداز میں پورے نہیں ہو رہے۔ ملازمین کو پرجوش رکھنے کے لیے کیا لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ اس چیلنج سے ایک منیجر کس طرح نبرد آزما ہو؟ اس حوالے سے جدید مینجمنٹ کیا کہتی ہے؟ ملازمین کو پرجوش کرنے والے عوامل کیا ہو سکتے ہیں؟ کن عوامل کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے ایک ملازم اپنا جوش و جذبہ کھو بیٹھتا ہے؟ جدید مینجمنٹ کی روشنی میں آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ باقی ان عوامل کو دیکھتے ہوئے کس طرح ادارے کی پالیسی بنائی جائے؟ کیا تبدیلیاں کی جائیں؟ اور پھر اسلام ہمیں اس حوالے سے کیا ممتاز ہدایات دیتا ہے؟ ان شاء اللہ آئندہ مضامین میں پیش کیا جائے گا۔

جوش پیدا کرنے والے عوامل (Motivational stimulas)
ملازمین میں جوش و جذبہ کس طرح برقرار رکھا جائے؟ ہر انسان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ کوئی اپنے منیجر سے زبانی شاباش سے ہی پرجوش ہو جاتا ہے تو کسی کے نزدیک پیسے کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ کوئی پیسے کے بجائے عزت افزائی مثلاً مجمع میں تعریف کو اہمیت دیتا ہے۔ اسی طرح اپنی خوشی و غمی میں دوسروں کو شریک دیکھ کر ہمت پکڑ لیتا ہے۔ ان مختلف طبیعتوں کو پرجوش رکھنے کے لیے منیجر کو مزاج شناس ہونا بہت ضروری ہے۔ تاکہ ہر ایک کو اس کے مزاج کے مطابق چلایا جائے۔ مزید ان مختلف المزاج ملازمین کے لیے ایک ہی نظریہ نہیں پیش کیا جا سکتا لیکن اکثریت کی بنیاد پر کچھ تحقیقات کی روشنی میں کچھ عوامل ایسے ہیں جن کا ملازم پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

انعامات(Reward)
انسان سب سے زیادہ اپنے رویے کو کسی بھی کام کے نتیجے میں ملنے والے انعام یا بدلے کی وجہ سے تبدیل کر رہا ہوتا ہے۔ کاروباری زندگی میں اسی پر ہمارے رویوں کی بنیاد ہے کہ میں ملازمت کیوں کروں؟ اپنے منیجر کی باتیں کیوں سنوں؟ اس لیے کہ مہینے کے آخر میں تنخواہ ملے گی۔ اسی کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے ملازمین سے زیادہ کام کی توقع اسی وقت رکھ سکتے ہیں جب ہم ان کے لیے کوئی اضافی انعام رکھیں۔ اسی پر ’’ہیومن ریسورس مینجمنٹ‘‘ میں ریوارڈ مینجمنٹ کی بنیاد ہے کہ اچھی کارکردگی پر ملازمین کے لیے کچھ نا کچھ اضافی تنخواہ یا کوئی اور فوائد کا اعلان کیا جائے۔ اس سے ملازمین پرجوش (Motivation) رہیں گے۔

معاشرتی تعلقات (Social Relations)
ہم اپنے بڑوں کی بات بغیر کسی ظاہر ی انعام یا بدلے کے مان لیتے ہیں اور دل و جان سے ان کی قدر بھی کرتے ہیں۔ کیوں؟ اس کی بنیاد یہ ہے کہ انسان اپنے معاشرتی تعلقات (Social Relation) کی بنیاد پر بھی اپنے رویے (Behavior) تبدیل کرتا ہے۔ ان تعلقات کی لاج رکھتا ہے۔ اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اگر ادارے میں منیجر اور ماتحتوں کے تعلقات اچھے ہوں تو منیجر بغیر کسی مادی انعامات کے بھی اپنے ماتحتوں کو اہداف کی جانب پر جوش رکھ سکتا ہے۔ اس کے لیے ماتحتوں کے ساتھ ایسے تعلقات ہوں کہ وہ دل و جان سے اپنے منیجر کی قدر کریں۔ اس کے لیے منیجر کو خود محنتی، علم میں برتر، آپس میں گھلنے ملنے والا اور اپنے ماتحتوں کے دکھ درد میں شریک ہونے والا بننا ہو گا۔ یہ عوامل کس طرح ملازمین کو پرجوش کرتے ہیں؟

1 ضروریات کی تکمیل:
اکثر ہم آپس میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ بس یار ضرورت پوری ہو جائے، باقی ہمیں کون سا ملک کا صدر بننا ہے۔ جس کا حاصل یہ کہ انسان اپنی ضروریات کے پورا ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں سب سے پہلے فکر مند رہتا ہے۔ اگر ضروریات پوری ہوتی رہیں تو اکثر اوقات انسان کی بنیادی فکر ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے موجودہ کاموں پر توجہ دیتا ہے۔ دوسری جانب اگر ضروریات ہی پوری نہیں ہو رہیں تو پھر وہ موجودہ ملازمت سے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اب وہ یا تو مزید جزوی کام (part time job) کرنے کی فکر میں رہے گا یا پھر اس سے اچھی جگہ کی تلاش میں اور اس جگہ کو مجبوری سمجھ کر جاری رکھے گا۔ ایسی صورت حال میں ہم اپنے ملازمین سے اچھی کارکردگی کی امید نہیں رکھ سکتے۔ لہذا اس بات کا خیال رکھنا کہ انہیں اتنی تنخواہ اور دیگر فوائد مل جائیں کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ اب یہ کہ ضرورت کیا ہے؟ اس پر مباحثہ (Debate) ہو سکتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں ضرورت کی تعریف کچھ یوں ہو سکتی ہے: ’’جس کے بغیر انسان کی زندگی نہ گزر سکے یعنی خوراک، لباس اور گھر ایک عادلانہ تعریف معلوم ہوتی ہے۔

2 عدل و انصاف(Equity)
ہم اپنی روز مرہ زندگی میں مختلف ملازمین سے اس قسم کی باتیں سنتے رہتے ہیں۔ منیجر نے اس کو شاباش دی اور میں نے اس سے اچھا کام کیا اور مجھے نظر اندا ز (Ignore) کر دیا۔ فلاں کو تو یہ سہولیات ملی ہوئی ہیں۔ میں عہدے (Position)، کام (Job)، ذمہ داری (Responsibility) میں اس سے آگے ہوں لیکن مجھے یہ سہولیات نہیں ملیں ہوئیں۔ یہ کہانیاں سنا کر بالآخر نظر آئے گا کہ وہ اپنے ادارے سے انتہائی بدظن ہیں، کاموں کو دل سے نہیں کر رہے ہوتے۔ وجہ صرف عدل و انصاف کا نہ ہونا ہے۔ اگر ہم اپنے ماتحتوں کو پرجوش مخلص رکھنا چاہتے ہیں تو ایک عادلانہ رویہ انہیں ادارے کے ساتھ مخلص اور پرجوش کر سکتا ہے۔

3 ملازمین کی امیدیں (Expectancy)
اس قسم کی کہانیوں سے بھی ہمارا واسطہ پڑتا ہے کہ ہمیں تو اپنے ادارے سے یہ امید تھی، یہ امید تو بالکل نہیں تھی، یا اپنے منیجر سے یہ امید تھی لیکن سب امیدوں پر پانی پھر گیا۔ یہ سب اپنے اداروں سے بدظن نظر آئیں گے۔ اس سب صورت حال کے پس پردہ وجہ ملازمین کی امیدوں کا پورا نہ ہونا ہے۔ جس سے ملازمین ادارے سے بدظن اور پرجوش نہیں رہتے۔ الحاصل

اگر ہم مارکیٹ میں لیڈ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ماتحتوں کو پرعزم اور پرجوش رکھنا ہو گا۔ ورنہ ہم اہداف و منصوبہ بنا کر بیٹھے ہوں گے اور ملازمین کی کارکردگی سارے منصوبوں پر پانی پھیر دے گی۔ اس کے لیے دو اہم عناصر جس کی وجہ سے ملازمین پرجوش ہوتے ہیں ان میں انعامات اور معاشرتی تعلقا ت ہیں۔ ملازمین اپنی ضروریات کی تکمیل نہ ہونے، عدل و انصاف کی فراہم نہ ہونے اور امیدیں پوری نہ ہونے کی وجہ سے پرجوش نہیں رہتے۔ ہم اپنے اداروں میں مناسب تنخواہوں کے نظام، آپس کے بہتر تعلقات کے ذریعے، اپنے ملازمین کی ضروریات پوری کر کے، عدل و انصاف نافذ کر کے اور ان کی امیدیں پوری کر کے ایک پرجوش افرادی قوت تیار کر سکتے ہیں۔ جس سے ان شاء اللہ ادارے کی ترقی یقینی ہو گی۔ یاد رکھیے! عزت و ذلت، کامیابی و ناکامی اور عروج و زوال کے فیصلے اللہ کی طرف سے اترتے ہیں لیکن یہ دنیا اللہ تعالی اپنی حکمت بالغہ سے اسباب کے ماتحت چلا رہے ہیں جس میں اللہ تعالی اسباب میں اثر ڈال دیتے ہیں، لہذا ہم اسباب ضرور اختیار کریں لیکن اس کے ساتھ اس بات کا یقین رکھنا ہمارے ایمان کا جزو ہے کہ ان اسباب میں کوئی اثر نہیں اصل اللہ تعالی کا حکم ہے۔ اگر اللہ چاہے تو ان اسباب میں اثر ڈال دے ورنہ یہ اسباب دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ آئیے! ہم اسی یقین کو لے کر مارکیٹ میں پھیلائیں، یہ ہمارے ایمان کا تقاضا اور دنیا میں چین کا باعث اور آخر ت میں کامیابی کاذریعہ ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اعلی درجے کا ایمان عطا فرمائے۔