عام مشاہدہ ہے کہ اپنے کام میںپر جوش انسان ، ایک عام انسان کے مقابلے میںکام کو کئی گنا زیادہ بہتر انجام دے رہا ہوتا ہے۔ وہ کام کو کم وقت میں، بہتر انداز میں لگن اور جستجو کے ساتھ انجام دے رہا ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ اس انسان کی کامیابی(Pesonal Success) اور بالآخر ادارے کی کامیابی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اسی لیے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایک پرجوش آدمی، سست، جوش و جذبہ سے عاری پوری جماعت پر بھاری ہوتا ہے۔ جدید کاروباری دنیا میں منیجر کی اہم ذمہ داری ماتحتوں کو پرجوش رکھنا بھی ہے، کیونکہ وہ پرجوش ملازمین سے ہی متوقع کام آسانی سے اور بہتر انداز میں کروا سکتا ہے۔

ورنہ ماتحتوں کی کارکردگی گر جاتی ہے اور اس کا نتیجہ منیجر کی خود کی کارکردگی کی کمزوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اگر ہم ایک کامیاب منیجر بننا چاہتے ہیں ماتحتوں کو پرجوش رکھنے کے گر سیکھنا ہوں گے۔ آئیے! دیکھتے ہیں وہ کون سے گر ہیں جنہیں اپنا کر ہم اپنے ماتحتوں کو بآسانی پرجوش رکھ سکتے ہیں اور اس سے بالآخر ادارے کی اور ہماری کارکردگی بہتر ہو گی۔


ملازمین کو پرجوش رکھنے کے طریقے
اگر ملازمین کاموں میں دلچسپی نہیں لے رہے اور کاموں کو جذبے کے ساتھ کرنے کے بجائے ایک بوجھ سمجھ کر کر رہے ہیں تو ایسی صورت حال کو سنبھالنے کے لیے منیجر کیا کرے؟ اس کے لیے مختلف طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔


٭… ایک پرجوش ورکر، ایک سست اور جوش و جذبہ سے عاری پوری جماعت پر بھاری ہوتا ہے ٭…اگر ملازم کو یہ احساس ہو کہ وہ اپنے کام میں بااختیار ہے تو وہ زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا ہے ٭…اگر اچھا کرنے پر منیجر، ملازم کو شاباش دے تو یقینا ملازم پر اس کا مثبت اثر پڑے گا ٭


پہلا طریقہ: مرحلہ وارتنبیہ
پہلا مرحلہ:زبانی ہدایات
منیجر اپنے ماتحتوں کو، کارکردگی بہتر کرنے کی ہدایت کرتا رہے۔ زبانی تنبیہ ملازمین کی ایک جماعت کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شوق دلانے کے لیے کہا جائے کہ اگر وہ اپنی کارکردگی اچھی بنا لیں تو ادارہ ان کے ساتھ تعاون کرے گا۔ ان کے لیے تحائف اور انعامات (Price and Reward) کا اعلان کرے گا۔ انہیں یہ باور کروانے کی کوشش کی جائے کہ اگر یہ زبانی تنبیہ ان پر اثر انداز نہ ہوئی تو ادارہ ان کے بارے میں کسی بھی فیصلے میں حق بجانب ہو گا۔ اس تنبیہ سے کچھ ماتحت وہ ہوں گے جو اپنا رویہ تبدیل کر لیں گے اور کاموں کو دلچسپی کے ساتھ کرنے لگیں گے۔

دوسرا مرحلہ:ماتحتوں کی تعریف
زبانی تنبیہ کے بعد جو ملازمین اپنا رویہ بہتر کر لیں، منیجر انہیں نظر میں رکھے اور مناسب موقع پر تعریف اور حوصلہ افزائی کرے۔ مستقبل میں ان کے لیے تنخواہوں میں اضافہ یا کوئی بھی ادارے کی پالیسیوں کے مطابق فوری مالی حوصلہ افزائی بھی کر دی جائے۔ اس سے ان شاء اللہ ملازم کا حوصلہ بڑھے گا۔ کاموں میں دلچسپی میں اضافہ ہو گا اور وہ ایک پرجوش ملازم بن جائے گا۔

تیسرا مرحلہ:عملی اقدامات
پہلے مرحلے کے مطابق اگر ملازم زبانی تنبیہ کے باوجود اپنا رویہ تبدیل نہ کرے تو منیجر ذرا سختی کرے گا۔ اس مقصد کے لیے ان کی ترقیاںروکنا، تنزلی کر دینا یا مالی ادائیگیاں (Rewards) روک دینا، وغیرہ یا کوئی اور مناسب طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ ملازمین جن پر زبانی تنبیہ کا اثر نہیں ہوا وہ اپنے مستقبل میں اپنے مالی فوائد (Financial Gains) میں کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا رویہ تبدیل کر لیں گے۔ یوں امید ہے آہستہ آہستہ منیجر کی توجہ سے ان میں جوش و جذبہ پیدا ہو جائے گا۔

چوتھا مرحلہ: ملازمت سے فراغت
اگر پہلے تین مرحلوں کے باوجود ملازم کا رویہ تبدیل نہ ہو تو منیجر کے لیے بہتر فیصلہ یہی ہو گا کہ وہ ان ملازمین کو فارغ کر کے نئے ملازمین رکھ لے جو ادارے کے ساتھ مخلص ہوںاور کاموں کو بہتر انداز میں سرانجام دیں۔ کاموں میں پرجوش ہوں۔ کیونکہ ان ملازمین کو مزید ادارے کے ساتھ جوڑے رکھنا، ادارے پر اضافی بوجھ کے علاوہ کچھ نہیں، لہذا مناسب انداز میں ان سے معذرت کر لی جائے تاکہ وہ ایسا کام کریں جو انہیں پسند ہے اور وہ اپنی صلاحیتیں صحیح جگہ پر صرف کریں۔

دوسرا طریقہ:کاموں کی نوعیت میں تبدیلی
دوسری تدبیر منیجر کے لیے یہ ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی کاموں میں عدم دلچسپی کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کرے، کیونکہ ملازمین کو فارغ کرنے میں بھی بہر حال ادارے کا ہی نقصان ہے کہ ایک تجربہ کار ملازم کو چھوڑ کر ناتجربہ کار سے کام کروانا کسی درجہ میں عقل مندی نہیں، لہذا صورت حال کا بغور جائزہ لیا جائے کہ ملازمین جب تنخواہ لیتے ہیں، کام کا معاہدہ ان کے ساتھ ہے تو پھر کیوں وہ اپنے کاموں میں دلچسپی نہیں لے رہے؟ اس کی ایک وجہ ملازم کی طبیعت اور کاموں کی نوعیت کے ہم آہنگ نہ ہونا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے ملازم میں دلچسپی باقی نہیں رہتی اور وہ کاموں کو ایک بوجھ سمجھ کے کر رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یقینا منیجر ان سے وہ نتائج نہیں لے پاتا جس کی ایک پرجوش ملازم سے امید کی جاسکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں منیجر کی اہم ذمہ داری مناسب تدبیر اختیار کرنا ہو گا کہ وہ کاموں کی خصوصیات کا مطالعہ کرے اور ساتھ ساتھ اپنے ماتحت ملازمین کے مزاج کو بھی دیکھے اور اس اکتاہٹ اور کاموں سے بھاگنے کی وجہ تلاش کرے۔ پھر مناسب تدبیر اختیار کر کے ملازمین کو پرجوش رکھے۔

کاموں کی صفات
1 ہنر مندی کی ضرورت (Skilled Required)
کسی کام میں جتنی ہنر مندی درکار ہوتی ہے۔ عموما ملازم ان کو کرنے میں زیادہ پرجوش ہوتا ہے۔ جیسے عموما انتظامی ذمہ داری، تحقیقی (Applied Research) کام وغیرہ میں ہر وقت نئی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے اور انہیں حل کرنے کے لیے مختلف صلاحیتوں کو استعما ل کرنا پڑتا ہے اور ملازمین انہیں کرنے میں ایک خوشی محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب انتہائی آسان اور بار بار کیے جانے والے کاموں (Repetitive) میں ہنر مندی کم ہوتی ہے اور طبیعت اس سے بہت جلد اکتا جاتی ہے۔ جیسے کیش کاؤنٹر پر موجود ملازم جس کا کام صرف کیش گننا اور لینا دینا ہے، اگر وہ ایک ہنر مند تجربہ کار ملازم ہو تو وہ اس کا م سے اکتا جائے گا۔

2 کاموں کا علم (Job identity)
ملازم کو اپنے کاموں کا مکمل علم ہے کہ اسے کیا کیا کام کرنے ہیں۔ کن اوقات میں کرنے ہیں۔ کس طرح شروع کرنا ہے۔ کس طرح وہ انجام پائیں گے۔ اگر ان سب سوالوں کا جواب ملازم کے پاس ہے تو یقینا یہ کاموں کا واضح انداز میںمعلوم ہونا اس کے لیے کاموں میں دلچسپی کا باعث ہو گا، وہ یہ سمجھے گا کہ میں نے کام کیا ہے، یہ اس کے اپنے کاموں کے ساتھ اطمینان کو بڑھا دے گا اور اگر کاموں کا درست انداز میں علم نہیں ہے کہ کیا کام اس کے ذمے ہیں۔ کس طرح انہیں انجام دینا ہے۔ ایسی صورت میں بھی ملازم کاموں میں دلچسپی لینا چھوڑ دیتے ہیں۔

3 کاموں کی اہمیت(Signaficance of Job)
ایک وہ ملازم جو ہسپتا ل میں ایمرجنسی میں ڈیوٹی دے رہا ہے، یقینا اسے یہ احساس ہو گا کہ وہ ایک اہم کام سرانجام دے رہا ہے جس سے اس کی دلچسپی بڑھے گی اور وہ کاموں کو اہمیت دے گا۔ وہ پورے اطمینان کے ساتھ اور اس احساس کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھائے گا کہ میں ایک بڑی خدمت انجام دے رہا ہوں۔ ایک اہم فریضہ میرے ذریعے انجام پا رہا ہے۔

4 اختیار(Autonomy)
اگر ملازم اس بات کو سمجھتا ہے کہ اس کام کے کرنے میں وہ بااختیار ہے تو وہ کام کو سنجیدگی سے کرے گا۔ کیونکہ عموما اختیار کے ساتھ ہی باز پرس بھی ہوتی ہے۔ دوسری جانب اگر اسے اس بات کا اندازہ ہو کہ میری حیثیت تو ایک مشین کے پرزے سے زیادہ نہیں، اصل اختیار تو منیجر کا ہے۔ لہذا کام اچھا ہو یا برا، میری بلا سے۔

5 کاموں پر رد عمل (Feedback)

منیجر کے لیے لائحہ عمل
کاموں اور ملازمین کے مزاج کے مذکورہ تجزیے کے بعد منیجر مختلف پالیسیاں اپنے حالات کے مطابق اپنا سکتا ہے:

1 کاموں کو آسان کرنا (Job Simplification)
بعض اوقات ملازم کے ذمے کام پیچیدہ اور مبہم (Ambigous) ہوتے ہیں۔ جن کو انجام دینے کے طریقوں اور مکمل کرنے کے اوقات کے بارے میں وہ پریشانی کا شکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی دلچسپی کاموں سے ہٹ جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں منیجر کاموں کا جائزہ لے کر ان کو آسان انداز میں ملازمین کو سمجھا دے۔ ان کے کرنے کے طریقہ کار واضح انداز میں بتا دے اور اگر مختلف نوعیت کے کام ایک ملازم کے ذمے ہیں تو کاموں کی نوعیت کا جائزہ لے کر ایک جیسے کام ایک ملازم کو دے دیے جائیں تاکہ وہ انہیں آسانی سے انجام دے سکے۔

2 کام تبدیل کرنا(Job Rotation)
ایک اچھے منیجر کے لیے ضروری ہے کہ اسے اس بات کا علم ہو کہ اس کے ماتحت کن چیزوں میں دلچسپی لیتے ہیں اور کس سے ان میں اکتاہٹ پیدا ہوتی ہے۔ بعض اوقات کاموں کا بہت آسان ہونا یا بہت مشکل ہونا ایک ملازم کے لیے کاموں میں دلچسپی کا باعث بن جاتا ہے۔

3 کاموں میں اضافہ (Job Enlargement)
بعض اوقات بہت آسان یا کم ہونے کی وجہ سے ملازم اکتاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں کاموں میں اضافہ کر دینا ملازمین میں جوش و جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔

4 ذمہ داریوں میں اضافہ (Job enrichement)
بعض ملازمین خطرات کو لینے (Risk taker) اور ذمہ داریاں نبھانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہوتے ہیں۔ انہیں جتنی ذمہ داری دی جائے وہ اُتنا ہی خوش ہوتے ہیں۔ ان کے اندر ایک کام کے کرنے کی لگن پیدا ہوتی ہے۔ اگر انہیں ذمہ داری نہ دی جائے تو ان کی کاموں میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں منیجر انہیں ذمہ دار بنا کر ان کو محنت پر ابھار سکتا ہے۔

اس کے علاوہ منیجر اپنے ماتحتوں کی کارکردگی کو انعامات سے متعلق کر کے (Relate performance to reward) بھی اپنے ملازمین کو کاموں پر ابھار سکتا ہے۔ مزید اچھی کارکردگی کی صورت میں، ادارے کے منافع میں شراکت اور ادارے کی ملکیت (Ownership) کی پالیسیاں اپنائی جا سکتی ہیں۔ جس سے ملازمین میں ادارے کے ساتھ اپنائیت کا احساس پیدا ہو اور وہ ادارے کے لیے پرجوش ہو کر کام کریں۔ مزید ملازمین میں علم کے حصول کی جستجو برقرار رکھنے کے لیے فنی علوم کے حصول پر حوصلہ افزائی کے طور پر مالی انعامات دے دینے کی پالیسی اپنائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ملازمین کے لیے کاموں کے اوقات میں، سہولت دینے کی پالیسی اپنا کر ملازمین کو پرجوش رکھا جا سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مروجہ انتظامی علوم بھی علم حاصل کریں اور یہ بات نہ بھولیں کہ اسلام منیجر اور ملازم دونوں کے لیے ایک زبردست اخلاقی لائحہ عمل رکھتا ہے، جس میں ملازم اپنے منیجر کے ساتھ مخلص ہوتا ہے اور منیجر اپنے ملازم کے لیے ایک سایہ ہوتا ہے۔