ادارے کی کامیابی ادارے میں ایک مضبوط کمیونیکیشن سسٹم قائم کرنے میں ہے کیونکہ اگر ایک اچھا کمیونیکیشن سسٹم موجود نہ تو اس کا نتیجہ مینجمنٹ کے تمام کاموں کا درست انداز میں پورا نہ ہونے کی صورت میں آئے گا۔ نتیجتاً ادارے کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئیے! دیکھتے ہیں ایک بہتر کمیونیکیشن سسٹم کے بنیادی عناصر کیا ہیں تاکہ انہیں دیکھتے ہوئے ہم اپنے اداروں میں ایک بہترین کمیونیکیشن سسٹم قائم سکیں۔


افراد کی ذاتی خصوصیات سے کمیونیکیشن کی ہم آہنگی
کمیونیکیشن میں مسائل کی ایک وجہ افراد کی اپنی صفات ہیں کہ وہ چیزوں کو مختلف انداز میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ایک بات کا مطلب ایک کچھ سمجھ رہا ہوتا ہے جبکہ دوسرا اس کا مطلب کچھ اور سمجھ رہا ہوتا ہے۔ایسی صورت حال میں مینجمنٹ کے لیے اپنے ادارے کے اقدار و روایات کے مطابق اپنے ملازمین کوڈھالنا ضروری ہوتا ہے، تا کہ وہ پیغام کامطلب وہی سمجھیں جو کہ مینجمنٹ سمجھ رہی ہے ۔اس کے لیے مختلف ٹریننگ سیشن رکھے جاسکتے ہیں۔ جن میں ملازمین کی ایک ہی انداز میں تربیت کر دی جائے۔

مناسب ذرائع کا استعمال
اداروں میں اس بات پر توجہ دی جائے کہ پیغام کی نوعیت کے مطابق درست ذریعے کا انتخاب کیا جائے۔ جیسے ایک ادارتی پالیسی کا اعلان ہے تو وہ ایک میل کے ذریعے یا نوٹس بورڈ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے لیکن اگر پیغام سے اپنے ماتحتوں کے رویوں کو تبدیل کرنا مقصود ہے تو پھرخط کے ذریعے یا میل کے ذریعے پیغام دینا زیادہ مناسب ذریعہ نہیں ہوگا، بلکہ اس صورت حال میںبالمشافہہ پیغام دینا موثر ذریعہ ہوگا۔

مناسب پیغام کی تیاری
معلومات کے تبادلے میں اپنے مخاطب کی سوچ ان کے علمی استعداد کا لحاظ رکھنا اور اس کے مطابق پیغام ترتیب دینا، موثر کمیونیکیشن کے لیے ضروری ہے۔ اگر مخاطب عام مزدور ہے، پڑھا لکھا نہیں ہے تو اسے معلومات فراہم کرنے میں انگریزی کا استعمال یا موثر نہیں ہو گا۔ اسی طرح اگر کمیونیکیشن اعلی سطحی انتظامیہ کے ساتھ ہے تو وہاں زبانی کے بجائے تحریری اور قانونی زبان میں پیغام پہنچانا زیادہ مناسب ہو گا۔ پیغام کو اس طرح ترتیب دینا کہ مختصر ،واضح اور پیغام کے تمام پہلوؤوں کو جامع ہو۔

لائحہ عمل
ایک بہتر کمیونیکیشن سسٹم اپنے ادارے میں ترتیب دینے کے لیے ہم اپنے منیجرز کی کمیونیکیشن کی صلاحیت کو بڑھائیں،تاکہ وہ بہتر انداز میں کمیونیکیشن کرسکیں۔جن معاملات کو معیاری انداز میں طے کیا جاسکتا ہے انہیں طے کر کے ادارے کی پالیسی کا حصہ بنا دیا جائے۔جیسے مختلف درخواستوں مثلا چھٹی،بیماری یا قرض کی درخواستیں، وغیرہ۔ ان کے لیے معیاری فارمز بنا لیے جائیں تاکہ ایک جیسی معلومات فراہم ہو سکیں جن کی ضرورت اس حوالے سے فیصلے کے وقت ہوتی ہے۔

اس طرح ادارے میں مناسب معلومات(Needed Information)،مناسب مقدار (Reasonable Quantity) میں، مناسب افراد(Relevent Person) تک، بروقت موجود ہوں گی جس سے مینجمنٹ کے مختلف کاموں کو کرنے میں سہولت پیدا ہو گی اور منیجرز بروقت فیصلہ کر سکیں گے جس سے ادارے کی ترقی میں یقینا تیزی سے اضافہ ہو گا۔ الحاصل!

خلاصہ یہ کہ کمیونیکیشن اسکلز منیجر کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کے بغیر وہ ادارے میں رہتے ہوئے اپنے کاموں کو بہتر انداز میں انجام نہیں دے سکتا۔ایک مسلمان تاجر اور منیجر کے لیے ان صلاحیتوں کو حاصل کرنے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ صلاحیتیں جس طرح اس کے اپنے فرائض منصبی (Managerial Works) کی ادائیگی کے لیے ضروری ہیں، اسی طرح ایک اور فریضہ منصبی ہر مسلمان کا ہے، جس کا اعلان جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا۔ وہ یہ کہ ’’حاضرین، غائبین تک اس اسلام کے پیغام کو پہنچا ئیں۔‘‘ اس اعلان کے ساتھ ہی اسلام کی دعوت،اعمال صالحہ کی دعوت،گناہوں سے بچنے کی دعوت ہر مسلمان کے ذمے ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق یہ کام کرتا ہے۔چاہے وہ کہیں بھی ہو، اپنی دکان پر ،اپنے آفس میں ہے،اپنے کارخانے میں یااپنے گھر پر … یہ کام ہر مسلمان کے ذمے ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق نیک کاموں کو پھیلاتا رہے اور برے کاموںسے روکتا رہے۔اس فرضِ منصبی کی ادائیگی میں بھی ہماری کمیونیکیشن کی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال بھی ہے۔ سو، اس نیت کے ساتھ جب ہم اپنی کمیونیکیشن کی صلاحیتوںکو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے تو ان شاء اللہ جس طرح دنیا کا فائدہ ہوگا، اسی طرح آخرت کے نفع سے بھی ہم محروم نہیں رہیں گے۔ آئیے! اپنی کمیونیکیشن کی صلاحیتوںمیں نکھار لا کر ایک اچھا لیڈر بنیں اور اپنی دنیا و آخرت کو بہتر کریں ۔