ایک اچھے منیجر کی صفات میں سے اہم صفت، اچھا پیغام رساں ہونا بھی ہے۔جب تک ایک منیجر میں اپنی بات موثر انداز میں دوسروں تک پہنچا نے کی صلاحیت نہیں ہوگی وہ نہ تو اپنی بات اپنے بڑوں تک پہنچا کر منوا سکتا ہے،نہ اپنا پیغام اپنے ہم منصب لوگوں کو پہنچا کر مطلوبہ نتائج لے سکتا ہے۔ اس کے بغیر اپنے ماتحتوں کو کام پر آمادہ بھی نہیں رکھ سکتا۔ اسی لیے آج کی دنیا میں کوئی بھی انتظامی ذمہ داری دینے کی اہم شرط ایک اچھا پیغام رساں ہونا بھی ہے۔

اگر ہمارے اندراپنے کام کے بارے میں مہارت بہت اچھی ہی کیوں نہ ہو،لیکن اگر ہم ایک اچھے کمیونیکیٹر نہیں ہیں تو ہم کام تو بہت اچھا کررہے ہوں گے لیکن جب کسی انتظامی ذمہ داری سپرد کرنے کی بات آئے گی تو ہم یقینا پیچھے رہ جائیں گے۔


٭… جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسلام کی دعوت آگے پہنچانے کی ذمہ داری دی ہے تو کیا اس کے لیے راہ عمل نہیں دی ہوگی؟ ٭…رابطہ کاری کے نبوی صلی اللہ و علیہ و سلم اصول اثر انگیزی میں جدید کمیونیکیشن کے اصولوں سے بہت فائق ہیں ٭… جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہم بات کو ایک سے زائد بار فرماتے تھے ٭…آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سے مخاطب ہوتے تواس کی طرف مکمل رخ فرماتے ٭


لیکن ایسا کیوں ہے کہ ہم ایک اچھے پیغام رساں نہیں ہیں ؟جبکہ پیغام رسانی تو امت محمدیہ کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک عالمگیر پیغام کا امین بنایا ہے۔ وہ پیغام: اسلام اور ایمان کا پیغام ہے۔ جسے اپنی استطاعت کے مطابق دنیا میں پھیلانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ذمہ داری دی ہے تو کیا اس کے لیے راہ عمل نہیں دی ہوگی؟ایسا نہیں ہوسکتا ۔آئیے! ہم دیکھتے ہیں وہ کون سے اصول ہیں جو پیغام رسانی یا جدید مینجمنٹ کی زبان میں کمیونیکیشن سے متعلق ہمیں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے عطا ہوتے ہیں۔ جن پر عمل کرکے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 23 سال کے مختصر عرصے میں اسلام کا پیغام لاکھو ں انسانوں تک نا صرف پہنچایا بلکہ اس اثر انگیز طریقے سے پہنچایا کہ اس پیغام سے متاثر ہونے والے لوگ، رہتی دنیا تک کے لیے حق کا معیار بن گئے۔ اس جماعت نے یہ پیغام انہی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے غالب دنیا میں پہنچادیا اور آج دنیا کا شاید کوئی خطہ ہو جہاں تک یہ پیغام نہ پہنچا ہو۔اس پیغام رسانی کے پیچھے کیا اصول تھے ؟یقینا آج بھی ہم ان اصولوں پر عمل کرکے وہ اثر اپنے پیغام میں ڈال سکتے ہیں۔ اور یقین کیجیے کہ اثر انگیزی میں دین اسلام کے بتائے ہوئے یہ اصول و آداب جدید کمیونیکیشن کے اصولوں سے بہت فائق (Superior) ہیں۔ آئیے! دیکھتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام رسانی کے کیا اصول تھے جن پر عمل کرکے ہم اپنا پیغام پر اثر انداز میںدوسروں تک پہنچا سکتے ہیں؟اور سنت پر عمل کی نیت سے کریں گے تو اس میںنتائج و اثرات میں اضافہ ہونا بھی یقینی ہے اور آخرت کی کامیابی بھی۔

اس حوالے سے سب سے پہلے یہ جانیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام رسانی کی ممکنہ تمام صورتوں کو اختیار فرمایا ۔ زبانی، تحریری، الفاظ کے ساتھ اور بغیر الفاظ کے محض اشاروں سے بھی۔ یہ تمام صورتیں جدید کاروباری دنیا میں بھی اختیار کی جاتی ہیں۔یہاںان سب صورتوں کے لیے مشترکہ اصول آپ کی خدمت میں پیش کیے جارہے ہیں۔ انفرادی صورتوں کے لیے تفصیلات ہم علماء سے پوچھ کر اپنے عمل میں لا سکتے ہیں۔

یہ 11 اصول حسب ذیل ہیں:

1 مخاطب کی بات کو توجہ سے سننایا پڑھنا
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جب کو ئی بات کررہا ہوتو اس کی باتوں کو غور سے سنا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ مخاطب آپ سے بات کرنا چاہ رہا ہے اور آپ کسی اور طرف متوجہ ہیں، یہ نامناسب رویہ ہے۔اگر کسی کام میں مصروف ہیں اسے کچھ دیر انتظارکا کہا جاسکتا ہے لیکن جب وہ کوئی بات کرے تو اسے توجہ سے سنا جائے۔کیونکہ ہم کسی کو موثر پیغا م اسی وقت دے سکتے ہیں ،جب ہم اس کی بات غور سے سنیں گے ۔ ہماری کاروباری زندگی میں جب کوئی کسٹمر تو یا ماتحت وغیرہ کوئی بات کر رہا ہوتو اگر اہم اسے مطمئن کرنا چاہتے ہیں تو اس کی بات کو توجہ سے سنیں پھر ہم جو بات اسے سمجھانا چاہیں گے وہ اسے زیادہ بہتر انداز میں سمجھ آئے گی۔اسی طرح تحریری کمیونیکیشن میں پیغام کو بغور پڑھنا ہی موثر ردعمل (Feedback)میں معاون ہوگا۔

2 مکمل متوجہ ہونا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سے مخاطب ہوتے تواس کی طرف مکمل رخ فرماتے، پھر کچھ ارشاد فرماتے۔ ایسا نہ ہوتا کہ بات کسی سے فرما رہے ہوں اور رخ کسی اور طرف ہو۔ہمیں بھی اس سنت پر عمل کرنا چاہیے۔ اس کا ہماری پیغام رسانی کی صلاحیت سے گہر ا تعلق ہے۔پیغام رسانی کا مقصد اپنی بات دوسرے تک اس انداز میں پہنچانا ہے کہ وہ مخاطب ہماری بات کو ناصرف سنے بلکہ اس کے اثر کو قبول کرکے اپنا رویہ بدلے۔یہ زیادہ بہتر اندازمیں اس وقت ہو سکتا ہے کہ جب ہم مکمل متوجہ ہوکر اس سے بات کریں ۔

3 اصل پیغام سے پہلے اس کی اہمیت پیدا کرنا
جدید مینجمنٹ میں اسے بفر کریئٹ کرنا (Buffer creating) کہتے ہیں۔ جب کوئی اہم پیغام دیا جائے تو پہلے اس کی اہمیت دلوں میں بٹھا دی جائے۔ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کی متعدد مثالیں ہیں۔ کئی مواقع پر آپ علیہ السلام نے کوئی بات بتانے سے پہلے ایک سوال کیا کہ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ اللہ تعالی تمہارے تمام گناہ معاف فرمادے؟ ’’معنی خبردار ہوجاو‘‘، ’’کان کھول کے سنو‘‘، یہ طرز تخاطب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبوں میں جابجا ملتا ہے۔ جس سے مقصود مخاطب کی مکمل توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ پیغام پر اثر رہے۔ آج کل ہم انگریزی میں ؟؟؟ کا لفظ استعمال کرتے ہیں یا شعبہ مارکیٹنگ والے اپنے کسٹمرز کی توجہ لینے کے لیے کوئی سوال قائم کرتے ہیں۔ ان سب پر عمل ہمارے لیے جنت کا سامان بن سکتا ہے اگر ہم اسے سنت کے مطابق انجام دیں۔

4 بات کو دہرانا
جب بات دہرائی جائے تو زیادہ اثر کرتی ہے۔سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہم بات کو ایک سے زائد بار فرماتے تھے۔ہمیں اس سے پیغام پہنچانے کے حوالے سے یہ اصول ملتا ہے کہ ہم اپنے پیغام میں اہم بات کو دہرا دیںتاکہ مخاطب اسے اچھی طرح سمجھ بھی لے اور اسے اس بات کا احساس بھی ہوجائے کہ یہ بات اہم ہے۔ وہ اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔

5 خیر خواہی
مخاطب پر کسی پیغام کا اثر اس وقت ہوتا ہے جب پیغام دینے والا خیر خواہی کے ساتھ پیغام پہنچائے۔اس میں ذاتی مفاد کے بجائے مخاطب کا مفاد مقدم رکھے۔جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی خیر خواہی کے ساتھ پیغام پہنچاتے ۔ہم بھی جب کوئی پیغام دیں تو دل سے مخاطب کی بھلائی دل میں ہوتو یقینا بات دل سے نکلے تو اثر رکھتی ہے۔

6 خیرخواہ ہونے کا احساس دلانا
یہ احساس دلانا کہ ہم مخاطب کے لیے خیر خواہ ہیں،اس کا بھی اثر ہمارے پیغام پر پڑے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے مخاطب پر اس بات کو واضح کر دینا بھی پیغام کے موثر ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ وہ بعض اوقات پیغام کو مزید موثر بنانے کے لیے مخاطب پر یہ بات جتلا دیتے تھے کہ دیکھو میرے پیش نظر تمہارا ہی فائدہ ہے۔ بات ما ن لو۔چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان والوں کو دین کا پیغام پہنچایا تو کوہ صفا پر کھڑے ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے دشمن کی فوج آرہی ہے تو تم یقین کرو گے ؟سب نے ایک زبان ہو کر کہا: کیوں نہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم امین ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت پیش کی۔ اسی طرح ہم بھی اپنا اصل پیغام پہنچانے سے پہلے ،اپنے مخاطب کو اس بات کا احساس دلائیں کہ ہم آپ کے خیر خواہ ہیںتو یقینا اس سے مخاطب پر پیغام سننے اور اسے قبول کرنے کے حوالے سے ایک مثبت اثر پڑے گا۔

7 صاف صاف بات کہنا
قرآن پاک کی صفت ہے اللہ تعالی نے اس میں پیغام واضح انداز میں بیان کردیا ہے۔ نیز مسلمانوں کو صاف صاف بات کہنے کا حکم فرمایا ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہی تھی کے بات بالکل واضح انداز میں مخاطب تک پہنچا دیتے تھے۔ کیونکہ واضح کلام ہی پیغام کو درست انداز میںپہنچاتا ہے۔

8 حسی مثالوں کا استعمال
کلام نبوت میں جابجا پیغام پہنچانے کے لیے حسی مثالوں کا بیان ملتا ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسم خزاں میں ایک درخت کو ہلاتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ دیکھو جس طرح یہ پتے جھڑ رہے ہیں، اس طرح نماز سے مومن کے گناہ جھڑتے ہیں۔ اسی طرح پانچ نمازوں کی مثال بیان فرمائی۔ جیسے ایک آدمی کے راستے میں پانچ نہریں ہوں تو وہ ان میں غسل کر کے جس طرح پاک صاف ہوجاتا ہے، اسی طرح فرض نمازوں سے مومن گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ہم بھی اپنے ماتحتوں سے بالخصوص پیغام رسانی میں حسی مثالوں کا اور جدید دور میں دیگر ذرائع جیسے گراف ،جائز تصاویر کا استعمال کریں تو اس پیغام زیادہ بہتر اندازمیں پہنچ سکتا ہے۔

9 مخاطب کی ذہنی،علمی استعداد کا لحاظ رکھنا
ایک اہم خصوصیت پیغام رسانی کی یہ ہے کہ مخاطب کی ذہنی ،علمی استعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے پیغام دیا جائے ۔ سیرت نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مخاطب دیہاتی ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سیدھے سادھے انداز میں اسے دین کی تعلیمات سمجھا دیتے، جبکہ مسلسل ساتھ رہنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دین کی باریکیاں بھی بیان فرماتے۔ہم بھی کسی بھی پیغام کو مخاطب تک پہنچانے سے پہلے اس بات کو ضرور ملحوظ رکھیں کہ مخاطب کی ذہنی اور علمی استعداد کیا ہے اور اسی کے مطابق ذرائع کا استعمال کریں۔

10 دعائیں
ایک اہم تدبیر اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعائیں کرتے رہنا ہے۔کیونکہ کسی بات میں اثر ڈالنا،دل کا پلٹنا،خالصتا اللہ کا کام ہے۔ہم سبب اختیار کرسکتے ہیں لیکن اسے باآورکرنا اللہ تعالی کا کام ہے۔ پیغام پہنچانے کے ساتھ اللہ سے دعا بھی کرتے رہیں کہ اللہ تعالی اس میں اثر ڈال دے۔جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم قدم قدم پر اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعاگو رہتے۔ ہم بھی اپنے لیے، اپنے ماتحتوں کے لیے، بڑوں کے لیے، کاروبارکے لیے، دعائیں کرتے رہیں ۔

11 مسلسل محنت
پیغام پہنچا دینے کے بعد سکون سے نہ بیٹھ جائے بلکہ پیغام مسلسل پہنچاتا رہے۔ اس کا اثر فورا نظر آئے یا نہیں۔بعض اوقات پیغام پہنچانے کے پیرایہ بدلنے سے اور موقع محل تبدیل ہونے سے اس کی تاثیر میں فرق آجاتا ہے۔ لہذا منیجر بھی اگر اپنے ماتحتوں سے کسی خاص رویہ اختیار کروانا چاہتا ہے تو صرف ایک آدھ بار کہہ دینے پر اکتفا نہ کرے بلکہ محنت جاری رکھے، ان شاء اللہ اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے۔

پیش کردہ اصولوں کے ساتھ ساتھ مروجہ طریق پیغام رسانی کے جو طریقے ہم اختیار کرنا چاہیں، ہم کرسکتے ہیں اور ان اصولوں سے ہم آہنگ کسی بھی طریقے میں سنت رسول پر عمل کی نیت سے ان شاء اللہ اس طریقے میں اللہ تعالی کی جانب سے برکت بھی آجائے گی اور اس کی اثر انگیزی میں حیرت انگیز اضافہ ہو گا اور آخرت کا اجر و ثواب بھی ان شاء اللہ یقینی ہے۔