کاروباری زندگی میں منصوبہ بندی کرنے کے بعد ایک اہم کام ان منصوبوں کو بہتر انداز میں تکمیل تک پہنچانا ہے۔ ہم اپنے کاروبار کے لیے اچھے منصوبے بنا لیتے ہیں۔ لیکن جب بات آتی ہے انہیں نافذ کرنے اور تکمیل تک پہنچانے کی، تو اس میں ہم مختلف مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ان مشکلات میں سب سے پہلے تو ماتحتوں کا ان کے مطلوبہ کاموں پر راضی ہونا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے کاموں کو محنت اور لگن سے کریں۔ اگر ماتحت کاموں کو محنت و لگن سے نہیں کریں گے تو منصوبوں کی تکمیل مشکل ہی نہیں بلکہ بعض اوقات ناممکن بھی ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب جب منصوبے مکمل نہیں ہو پائیں گے تو ادارہ ترقی کے بجائے تنزلی کا شکار ہو جائے گا۔ اسی لیے ماہرین مینجمنٹ نے مختلف نظریات (Theories) صرف افراد کو پرجوش اور مطمئن رکھنے کے لیے پیش کیے ہیں۔ ان نظریات میں ایک اہم نظریہ افراد کو ذمہ داری دینا، ادارے کی فکر میں شریک رکھنا بھی ہے۔ جسے جدید مینجمنٹ میں ٹیم ورک کہا جاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عملی لحاظ سے روایتی طریقوں سے ٹیم ورک کا طریقہ بہتر ہے۔ آئیے! ٹیم ورک سے متعلق تفصیل سے پڑھتے ہیں۔


٭… دو یا زائد افراد کا متعینہ ہدف کے حصول کے لیے کام کرنا اور رابطہ رکھنا ٹیم ورک کہلاتا ہے ٭… بدلتی کاروباری دنیا میں صرف ٹیم ورک ہی ایسا طریقہ ہے جس میں رہتے ہوئے تیزی سے بدلہ جا سکتا ہے ٭…جدید مینجمنٹ سے مدد لینے کے ساتھ ساتھ دیکھیں کہ اس کے کون سے نظریات دینی احکام سے متصادم ہیں ٭


ٹیم ورک کیا ہے؟
دو یا زائد افراد کا متعینہ ہدف کے حصول کے لیے کام کرنا اور رابطہ رکھنا ٹیم ورک کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر ادارے میں مشینوں کی مینٹینینس کے لیے ایک ٹیم بنا دی جاتی ہے جن کی ذمہ داری مشینوں کا خیال رکھنا ہے۔ یہ ٹیم ایک فرد کی طرح کام کرے گی۔ ان میں سے ہر فرد کام کا ذمہ دار ہو گا۔ یہ اپنے کاموں کے کرنے میں بااختیار ہوں گے۔ یہی اختیار اور ذمہ داری ٹیم ورک کی خصوصیت ہے۔ روایتی طریقوں میں شعبے کا بڑا بااختیار اور ذمہ دار ہوتا ہے۔ لیکن ٹیم ورک میں ہر ایک بااختیار بھی ہے اور ذمہ دار بھی۔

ٹیموں کی اقسام
ہم اپنے اداروں میں کاموں کے لیے مختلف ٹیمیں بنا سکتے ہیں، عموما دو قسم کی ٹیمیں بنائی جاتی ہیں: ادارتی ٹیمیں
ان سے مراد وہ ٹیمیں ہیں جو کہ ادارتی ڈھانچے (Formal Teams) کا حصہ ہوتی ہیں۔ یعنی جب ادارے میں تنظیم سازی اور شعبہ بندی کی جاتی ہے تو اس مرحلے پر ہی کچھ کاموں کے انجام دہی کے لیے ٹیمیں بنا دی جاتی ہیں۔ جیسے ایک چھوٹا ادارہ جس میں انسانی وسائل کی تنظیم (Human Resource Management) کے لیے الگ سے شعبہ نہ بنایا گیا ہو، وہاں افرادی وسائل کے انتخاب کے لیے ایک ٹیم بنادی جائے۔ اور اس میں مثلا اکاؤنٹس، فائی نینس، پروڈکشن کے سربراہ اس ٹیم کے ممبر ہوں۔ ایسی ٹیمیں دو طرح تشکیل دی جا سکتی ہیں:

1 مختلف سطح کے افراد پر مشتمل ٹیم
ایک صور ت ٹیم بنانے کی یہ ہے کہ ہم ادارتی ڈھانچے میں مختلف مراتب کے افراد کو ملا کر (Vertical Teams) ٹیم بنا دیں۔ اگر دیکھا جائے توادارے کا کوئی بھی ایک شعبہ اس قسم کی ٹیم ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ اس میں شعبے کا سربراہ بھی ہے اور اس کے ماتحت افراد بھی ہیں۔ یہ سب افراد مشترکہ اہداف کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں، جیسے: اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ، یا مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ، وغیرہ۔

2 ہم مرتبہ افراد پر مشتمل ٹیم
دوسری صورت ہم یہ کر سکتے ہیںکہ ادارے میں ہم مرتبہ افراد (Horizantal Team) کو ملا کر کسی کام کو کرنے کے لیے ٹیم بنا دیں۔ ایسی ٹیمیں اس وقت بنائی جاتی ہیں جب کسی کام کو کرنے کے لیے مختلف مہارتوں کی ضرورت پڑ رہی ہو، جیسے: افراد کے انتخاب کے لیے ٹیم بنائی جائے تو اس میں کسی بھی فرد کی اس کے کام کرنے کی صلاحیت، مزاج اور تعلیمی قابلیت وغیرہ جانچی جاتی ہے۔ اب اس کے لیے مختلف مہارتوں کے تجربہ کار افراد کی ضرورت ہو گی۔ لہذا ہم مختلف شعبہ جات کے سربراہوں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دے سکتے ہیں۔ مزید ٹیموں کے کاموں کے حوالے سے ہم یہ ٹیمیں مستقل بنیادوں پر بھی بنا سکتے ہیں اور عارضی بنیادوں پر بھی۔

مستقل ٹیمیں
ایسے کام جو ادارے میں مستقل ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو اگر ٹیم ورک کے ذریعے کروایا جا رہا ہو تو وہ ٹیمیں مستقل نوعیت (Permenent Teams) ہوں گی۔ جیسے افرادی وسائل کے انتخاب کی ٹیم یا مشینوں کی دیکھ بھال کی ٹیم۔ یہ ٹیمیں مستقل اپنا کام کرتی رہیں گی۔

عارضی ٹیمیں
بعض اوقات کسی خاص موقع کے لیے کام کروانے کے لیے ٹیمیں بنائی جاتی ہیں۔ ایسی ٹیموں کا مقصد وہ کام کرنا ہوتا ہے اور وہ کام دوبارہ ہونے کی امید نہیں ہوتی۔ ایسے کاموں کے لیے ہم عارضی ٹیمیں بنا سکتے ہیںجیسے ادارے میں کوئی پروگرام ہونا ہے، جیسے سالانہ جلسہ (Annual Conference) وغیرہ اسے منعقد کرنے کے لیے مختلف شعبہ جات کے افراد پر مشتمل ٹیم بنا دی جائے تو جیسے ہی یہ کام مکمل ہو گا وہ ٹیم بھی تحلیل ہو جائے گی۔

خود مختار ٹیمیں
ٹیم ورک کی ایک صورت یہ ہے کہ باقاعدہ ادارتی ڈھانچے میں تو ٹیم نہ بنائی جائے بلکہ ادارہ ہی ٹیموں میں تقسیم کر دیا جائے۔ یہ ٹیمیں بااختیار بھی ہوں (Autonomous Teams) اور ذمے دار بھی۔ ان ٹیموںکے ذمہ متعین اہداف لگا ئے جاتے ہیں۔ یہ اہداف انہیں مشترکہ ذمہ داری کے طور پر حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ جدید مینجمنٹ کی متعدد تحقیقات اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ جاپانی کمپنیوں نے اس قسم کی ٹیمیں بنا کر اپنی پیداواری قوت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ جیسے 8 یا 10 افراد پر مشتمل ایک ٹیم بنائی جائے اور ان کے ذمے پورا پیداواری عمل (Production Process) لگا دیا جائے۔ اب وہ اسے کس طرح انجام دیں گے؟یہ ٹیم کے افراد پر چھوڑ دیا جائے۔ اس طرح بااختیار ٹیمیں بنانے سے افراد کے کاموں سے اطمینان میں اضافہ ہوتا ہے۔ پیداواری عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ بدلتی دنیا میں بدلنا آسان ہو جاتا ہے۔

ٹیم ورک کے فوائد
اب ہم دیکھتے ہیں کہ ٹیم ورک کے کیا فوائد ایک ادارہ اٹھا سکتا ہے، نیز ہم بھی اپنے اداروں میں ٹیم ورک کو رواج دے کر یہ فوائد کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

ملازم کی پیدواریت (Productivity) میں اضافہ
سب سے اہم فائدہ ٹیم ورک کا یہ ہے کہ ملازمین جب بااختیار اور ذمہ دار ہوں گے تو ان کے کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔ وہ سب احساس ذمہ داری کے ساتھ کاموں کو سر انجام دیں گے۔ جس سے ادارے کی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔

افراد کی ادارے سے وفاداری میں اضافہ
دوسرا اہم فائدہ ٹیم ورک کا یہ ہے کہ افراد اپنے ادارے کے ساتھ زیادہ وفادار ہو جاتے ہیں کیوں کہ اس طریقے میں انہیں زیادہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ سہولت کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جس کا نتیجہ افراد کا ادارے کے ساتھ لگاؤ میں اضافہ ہے۔ افراد ادارے کے ساتھ وفاداری کے ساتھ کام کریں گے اور انسانی وسائل کی انتظام کاری (HRM) پر ادارے کی لاگت کم آئے گی۔ نتیجہ ادارے کی ترقی اور منافع میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا۔

افراد کی معلومات اور ہنرمندی میں اضافہ
ٹیم ورک کے نتیجے میں ٹیم کے افراد کو کاموں کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی کام صرف ایک آدمی کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ ہر ایک اس کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ لہذا اس کام کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔ مختلف کاموںکو کرنے سے افراد کی ہنرمندی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ افراد کے علم میں اضافہ یا ہنر مندی میں اضافہ بالآخر ادارے کے لیے مفید ہے اور ادارے کی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔

ادارے میں بدلنے میں لچکداری
موجودہ بدلتی ہوئی کاروباری دنیا میں صرف ٹیم ورک کا طریقہ ہی ایسا ہے جس میں رہتے ہوئے تیزی سے بدلہ جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ روایتی طریقے جن میں شعبہ جات بنائے جاتے ہیں، بوقت ضرورت اپنے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی لانا ممکن نہیں ہوتا۔

ٹیم ورک کے متوقع نقصانات
اپنے اداروں میں ٹیم ورک کا طریقہ متعارف کرواتے وقت یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ان فوائد کے ساتھ ساتھ کچھ نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ تمام حالا ت میں ہم ٹیم ورک کو قابل عمل طریقہ نہیں قرار دے سکتے۔ بلکہ جہاں اس کے نقصانات زیادہ ہوں تو پھر روایتی طریقہ ہی قابل عمل ہو گا۔

عہدے کی طاقت کی منتقلی
پہلا نقصان جو ٹیم ورک کے طریقے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، وہ یہ کہ اس طریقے کے ذریعے، اختیارات اوپر کی سطح سے نچلی سطح کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ ان اختیارات کی منتقلی سے جہاں دیگر بہت سے فوائد ملتے ہیں، وہیں بہت سارے تجربہ کار اور ماہرین اختیارات کی اس منتقلی پر نالاں بھی ہو سکتے ہیں جس سے ادارے کو نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

مفت خوری (Free rider problem)
کسی بھی ٹیم میں تمام افراد ایک جیسا کام نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ کچھ افراد بہت محنت سے جبکہ کچھ وہ ہوتے ہیں جن کو صرف اپنا نام کروانا مقصود ہوتا ہے اور کام سے بھاگتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں اگر روایتی طریقہ ہو تواس ملازم کو اس کی کارکردگی کے مطابق انعام (Reward) دیا جائے لیکن جب ٹیم ورک کا طریقہ اختیار کیا جائے گا تو اسے بھی اتنا ہی سراہا جائے گا جتنا ان افراد کو جن کا اصل حصہ ہے۔ یہ ایک متوقع نقصان اس صورت میں ہو سکتا ہے۔

اوقات کا ضیاع
چونکہ ٹیم ورک میں بہت زیادہ میٹنگز رکھنا پڑتی ہیں۔ ہر ممبر کاموں کی ذمہ داری محسوس کررہا ہوتا ہے۔ ہر ایک کی رائے کااحترام ضروری ہوتا ہے۔ ایسی صورت حال میں بعض اوقات بہت زیادہ میٹنگز کی وجہ سے بہت سا وقت ضائع ہو جاتا ہے۔

نتیجہ
ہم ٹیم ورک اپنے اداروں میں متعارف کروا کر یقینا اس کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ بالخصوص افراد کو کاموں میں پرجوش رکھنے اور ادارے سے وفادار رکھنے کے لیے یہ طریقہ نہایت پر اثر ہے۔ ٹیم ورک کے نتیجے میں افراد میں احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ افراد محنت اور لگن سے کام کرتے ہیں اور ادارہ ترقی کرتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی کاروبار ی زندگی میں جدید مینجمنٹ کے نظریات سے بھی مدد لیں، تاکہ ہم موجودہ دور میں مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی غور و فکر کریں کہ ان طریقوں میں سے کون سے طریقے دین متین کے مطابق ہیں جنہیں آپ ترجیحی بنیادوں پر اپنا سکیں اور کون سے اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں، جن سے ہم بچنے کی کوشش کریں۔ اسی میں ہماری دنیوی اور اخروی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔