ٹیم ورک کے طریقے میں ادارے کو چھوٹی چھوٹی خود مختار ٹیموں میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے ادارے کو مختلف فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ٹیم ورک کے طریقے میں ادارہ بڑے بڑے شعبوں میں تقسیم نہیں رہتا۔ اس کے ذریعے موجودہ بدلتی دنیا میں کام کرنا آسان ہوجاتا ہے، کیونکہ مارکیٹ میں سرفہرست رہنے کے لیے نئے نئے طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ جن میں کبھی طریقہ پیداوار تبدیل کرنا پڑتا ہے، تو کبھی شعبہ جاتی ترتیب میں تبدیلی لانی پڑتی ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر ادارہ ٹیم ورک طریقہ انتظام کے مطابق چل رہا ہو تو صرف ٹیموں کے اہداف میں ہی تبدیلی کرنی پڑے گی۔

یہ تبدیلی کا عمل بڑے شعبوں کی بنسبت چھوٹی ٹیموں میں کرنا آسان ہوتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ آج دنیا میں لیڈ کرنے والے ادارے بھی ٹیم ورک طریقے اختیار کررہے ہیں۔ آئیے! ہم بھی دیکھتے ہیں ٹیم ورک کے طریقہ کو ہم اپنے اداروں میں کیسے متعارف کروا سکتے ہیں؟ ٹیم کا سائز کتنا ہو؟ ٹیم کے افراد کیسے ہوں؟ ٹیمیں کس طرح کام کرتی ہیں؟


٭… ایک ٹیم کے افراد کے لیے دو خصوصیات ضروری ہیں،کام میں مہارت ،اسے کرنے کی لگن اور آپس میں اچھے تعلقات قائم رکھنا ٭…کسی ادارے کو ٹیم ورک پر لا کر پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ اور ملازمین کو زیادہ مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ ٭… ماہرین کہتے ہیں ایک موثر ٹیم کا سائز 5 سے12افراد پر مشتمل ہونا چاہیے


ٹیم ورک کا بنیادی ڈھانچہ
منیجر کی ایک ذمہ داری منصوبہ بندی (planning)کے بعد تنظیم سازی (organizing) ہے۔ تنظیم سازی سے مراد کاموں کو افراد پر اس طرح تقسیم کرنا کہ ہر ایک کی صلاحیت بہتر سے بہتر انداز میں استعمال ہو جائے۔ جس کا نتیجہ ادارے کی پیداواری صلاحیت میںاضافہ اور ادارے کی ترقی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس مرحلہ پر روایتی طریقوں میں کاموں کی بنیاد پر ادارے کو شعبہ جات میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں شعبہ کا کوئی ایک سربراہ مقرر ہوتا ہے۔ وہی پورے شعبہ کی کارکردگی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ باقی افراد اس کے ماتحت ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح جڑے ہوتے ہیں۔ اوپر سے نیچے تک طاقت کا ایک بہاؤ ہوتا ہے۔ یہ ایک رائج طریقہ ہے۔ ٹیم ورک طریقہ کے مطابق ہم ادارے میں موجود کاموں کو صرف تین، چار بڑے شعبوں میں تقسیم کرنے کے بجائے غور وفکر کے بعد مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیں۔ پھر بجائے کسی ایک کو اس کا ذمہ دار بنانے کے، اس کام کو چند افراد کی مشترکہ ذمہ داری میں دے دیں اور اس کام کو کرنے کے لیے انہیںذمہ دار بنادیں اور اختیارات دے دیں۔ اس طرح کرنے سے کام زیادہ بہتر انداز میں ہوگا۔ افراد زیادہ کام کرنے میں دھیان دیں گے اور نتیجہ ادارے کی پیدواری صلاحیت میں اضافہ اور ترقی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔

ٹیم کا سائز
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیم کا سائز کیا ہو؟ ٹیم کے سائز میں چھوٹا یا بڑا ہونے کے اپنے فوائد و نقصانات ہیں۔ جیسے اگر ٹیم بڑی ہوگی تو کام کو کرنے کے لیے معاملات میں ان کے درمیان اختلاف زیادہ ہوگا، اس اختلاف رائے سے ان کی کاموں پر توجہ کم ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک فائدہ ہے کہ بڑی ٹیم میں مختلف افراد کی آراء جمع ہونے سے کام بہتر انداز میں ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر ٹیم میں افراد کم ہوں تو ان میں اختلاف تو کم ہوگا اور کا موں پر توجہ زیادہ ہوگی، لیکن افراد ہی کم ہیں تو کاموں کو بہتر کرنے کی تجاویز کم ہوں گی۔ لہذا جو نتائج متوقع ہیں وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ مختلف تحقیقات کے نتیجے میں ایک موثر ٹیم کا سائز 5افراد سے12افراد تک قرار دیا جاسکتا ہے۔

ٹیم کے افراد کا کردار
ٹیم ورک کے طریقہ سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ٹیم کے افراد کا کردار اہم ہے۔ ٹیم اتنی متوازن ہونی چاہیے کہ اس میں کام کرنے کی درکار صلاحیتیں دستیاب ہوں۔ دو اہم صلاحیتیں ایک ٹیم کے افراد کے لیے ضروری ہیں۔ ایک کاموں کی مہارت اور کرنے کی جستجو۔ دوسری آپس میں اچھے تعلقات قائم رکھنا۔

1کام کی لگن
وہ افراد جنہیں کام سے پیار ہوتا ہے، کاموں کی معلومات حاصل کرنے میں متحرک رہتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کاموں کو کرنے کے نئے نئے طریقے معلوم کیے جائیں۔ اس کے لیے وہ دیگر ممبروں سے رائے لیتے ہیں۔ ان آراء پر اظہار کرتے ہیں۔ مختلف آراء کو باہم ملا کر کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں۔ اس طرح ایک متحرک ممبر کے طور پر ٹیم میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

2اچھے تعلقات استوار کرنا
دوسرا اہم کردار کسی بھی ممبر کا آپس کے تعلقات کو بہتر رکھنا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ٹیم کے افراد ہی آپس میں لڑ پڑیں۔ ایسی ٹیم کیسے ادارے کو بہتر نتائج دے سکے گی۔ ٹیم میں کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں، جو ٹیم کو جوڑ کر رکھتے ہیں۔ ایسے افراد ایک دوسرے کی آراء کا احترام کرتے ہیں۔ کسی کی اچھی رائے پر اس کی تعریف کرتے ہیں تاکہ ممبران کے حوصلے بلند رہیں۔ یہ افراد آپس میں ہونے والے اختلافات کو حل کروانے میں متحرک رہتے ہیں۔ ٹیم میں تناؤ کی کیفیت پیدا نہیں ہونے دیتے۔ اس کے لیے خوش مزاجی سے پیش آتے ہیں۔ یہ افرا د دوسروں کی آراء کا احترام کرتے ہوئے جھگڑے سے بچنے کے لیے اپنی رائے کو چھوڑ دیتے ہیں۔

ایک اچھی ٹیم میں افراد میں دونوں کردار ہونے چاہییں۔ اگر تمام افراد میں دونوں خوبیاں نہیں ہیں تو کم از کم ایک کا پایا جانا بھی ٹیم کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن اگر دونوں خوبیوں میں کوئی ممبر کمزور ہے تو اسے ٹیم کا حصہ بنانا، فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

موثر ٹیم ورک کے لیے مراحل
جب ٹیمیں بنائی جاتی ہیں تو وہ فورا ہی موثر انداز میں کام کرنا شروع نہیں کر دیتیں، بلکہ انہیں یک جان ہونے میں وقت لگتا ہے اور مختلف مراحل سے گزر کر وہ ٹیم یک جان کی مثل ہو جاتی ہے، پھر وہ موثر انداز میں مطلوبہ اہداف کو حاصل کر رہی ہوتی ہے۔ ان مراحل کو ہم اس طرح بیان کرسکتے ہیں۔

1ٹیم سازی
پہلا مرحلہ ٹیم بنانے کا ہے۔ اس مرحلے میں مطلوبہ اہداف کو دیکھتے ہوئے مناسب افراد پر مشتمل ایک ٹیم بنائی جاتی ہے۔ جیسے ادارے میں افراد کے انتخاب کے لیے ایک ٹیم بنائی جائے۔ اس ٹیم کا ہدف ادارے کے لیے، پُرجوش، محنتی، ماہر افراد کا انتخاب ہے۔ اس ٹیم میں کس قسم کے افراد ہوں؟ یقینا ایسے افراد اس ٹیم میں ہوں جو تجربہ کار ہوں، مردم شناس ہوں۔ مزید مختلف تعلیمی، تجرباتی پس منظر رکھتے ہوں، کیونکہ انتخاب کبھی اکاؤنٹس کے لیے کرنا ہوگا، کبھی مارکیٹنگ کے لیے، کبھی پروڈکشن کے لیے۔ اس ٹیم میں ہم مختلف ڈپارٹمنٹ کے تجربہ کار منیجرز کو رکھ سکتے ہیں۔ یہ پہلا مرحلہ ہے۔ اب یہ افراد ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ اپنے اہداف کا تعین کریں گے اور ذمہ داریوں کا جائزہ لیں گے۔

2اختلاف کا جنم لینا
دوسرے مرحلہ میںجب یہ ٹیم کام شروع کرے گی تو بہت سی باتوں میں ان کے اختلافات ظاہر ہوں گے۔ جیسے بیان کردہ مثال میں جب پہلی بار یہ ٹیم کسی آسامی کے لیے انتخابی مرحلہ پر جائے گی، ممکن ہے کہ ایک فرد کی رائے یہ ہو کہ یہ انتخاب ہمیںادارے کے اندرسے ہی کرلینا چاہیے اور دوسری جانب ایک کی رائے یہ ہو کہ نہیں ہمیں اس کے لیے اشتہار دینا چاہیے۔ اسی طرح مختلف افراد کے انٹرویو کے بعد انتخاب کے حوالے سے ان کا آپس میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ ایسا ہونا فطری ہے۔ درحقیقت یہ اختلاف ہی نئے طریقوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس طرح ٹیم کے افراد کو ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا علم ہوتا ہے۔

3اختلاف کا حل
تیسرے مرحلے میں یہ اختلافات ختم ہونے لگیں گے۔ افراد ایک دوسرے کی پسند ناپسند سے واقف ہوجائیں گے۔ ان میں سے کچھ اپنی مہارتوں یا دیگر صلاحیتوں کی بنا پر دوسرے فرد کو اپنی بات منوانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ کچھ افراد تعلقات کو بہتر رکھنے کے لیے اپنی رائے سے دستبردار ہوجائیں گے۔ اس طرح اب ٹیم میں اختلافات نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے۔ اگر ایک فرد مثلا مارکیٹنگ منیجر کی رائے کسی مارکیٹنگ کے ملازم کے انتخاب کے بارے میں ایک ہے اور دوسرے ممبر کی دوسری ہے۔ اس مرحلہ پر ہو سکتا ہے کہ دیگر افراد مارکیٹنگ منیجر کی رائے کا حترام کرتے ہوئے اپنی رائے سے دستبردار ہوجائیں کیونکہ وہ اپنے کام کا ماہر ہے اور مزید کام بھی وہی کروائے گا۔ ٹیم کا خاموش معاہدہ اس بات پر ہوجائے کہ جس شعبہ کے لیے ملازم کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ اس شعبہ کے ممبر کی رائے حتمی ہوگی، کیونکہ وہ اپنے شعبہ کا ماہر ہے۔ اس طرح اس ٹیم میں اختلافات ختم ہو جائیں گے۔

4کارکردگی کا مظاہرہ
جب ٹیم کے افراد میں ہم آہنگی پیدا ہوجائے گی، اس مرحلے پر یہ ٹیم موثر انداز میں کارکردگی بھی دکھاتی ہے۔ اس مرحلے پر آکر ٹیم کے اہداف بہتر انداز میں پورے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ جب ٹیم اس مرحلہ پر پہنچے گی تو ان کے درمیان ضابطہ اخلاق طے ہوچکا ہوگا۔ مثلا جب بھی کسی آسامی کے لیے انٹرویو کرنا ہوگا تو کوئی ایک ممبر دیگر ممبروں کو اطلاع دے گا۔ پھر جب انٹرویو کا مرحلہ آئے گا تو وقت اور جگہ طے ہوجائے گی۔ انٹرویو میں کون کس قسم کے سوالات کرے گا؟ یہ بات بھی طے ہوچکی ہوگی۔ اب یہ ٹیم بہتر انداز میں کام کررہی ہوگی۔

5 آخری مرحلہ: تحلیل کا عمل
اس طرح ہم اپنے ادارے میں مختلف کاموں کی خودمختار ٹیمیں بنا سکتے ہیں۔ جن کا سائز کاموں کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے5سے 12 افراد تک ہو سکتا ہے۔ مزید ٹیم بناتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ کس قسم کے افراد پر مشتمل ہو۔ چنانچہ ایسے افراد ٹیم میں زیادہ اچھا کردار ادا کرسکتے ہیں جن میں کام کرنے کی جستجو ہو، کام سے پیار ہو اور آپس میں اچھے تعلقات بھی قائم رکھ سکتے ہوں۔ ایسے افراد جن میں یہ دونوں خصوصیات نہ ہوں وہ ٹیم میں بجائے اچھا کردار اداکرنے کے ،ممکن ہے ان کی موجودہ کارکردگی بھی گر جائے۔ پھر یہ ٹیم آہستہ آہستہ اچھے اندازمیں کام کرنے لگے گی۔ اس سے ملازمین کی ادارے کے ساتھ وفاداری اور کاموں سے اطمینان بڑھنا شروع ہوجائے گا۔

ہم اپنے اداروں کو ٹیم ورک پر لا کر پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافے اور افراد کے اطمینان کا سامان کر سکتے ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے اپنے ادارے کو ترقی دینے سے زیادہ اعلی ہدف بھی ہے۔ وہ آخرت کے گھر کی کامیابی ہے۔ ہمیں اپنے کاروبار کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی فکر کرنی چاہیے کہ ہمارا آخرت کا ادارہ، آخرت کی تجارت کیسے بہتر ہو۔ اللہ پاک نے ہماری جانوں اور مالوں کا سودا جنت کے بدلے میں کر لیا ہے۔ وہ تجارت ہماری اس دنیاوی تجارت سے خسارے میں تو نہیں چلی گئی ؟؟ یہ فکر کا استحضار ہر لمحہ رہے تو ان شااللہ ہمارا شمار ان کامیاب بندوں میں ہوگا، جن کی صفت اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے کہ ان کی تجارت ان کو اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتی۔ اس کے لیے ہم کچھ وقت ان لوگوں کے ساتھ گزاریں،جنہیں یہ فکر نصیب ہے۔