ہر تجارتی ادارے کے قیام کا مقصد تجارت کے ذریعے نفع کمانا ہوتاہے۔کاروبا ر کے نفع کا دارومدار دو اہم عناصر (Factors) پر ہے: ایک ادارے کی پروڈکٹ کی فروخت کے نتیجے میں ہونے والی وصولیاں (Revenues) اور دوسرا اخراجات(Costs)،جو اس پروڈکٹ کو بنانے میں ادارہ برداشت کررہا ہوتاہے۔جدید کاروباری دنیا میں دونوں پہلوؤں پر انتہائی زور دیا جاتا ہے۔وصولیاں بڑھانے کے لیے تشہیری مہم کا سہارا لیتے ہیں۔تاکہ ادارے زیادہ قیمت پر زیادہ سے زیادہ فروخت کرسکیں۔

دوسری جانب ادارے کے اندرونی ڈھانچہ میں نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جاتا ہے۔تاکہ زیادہ سے زیادہ وصولیاں اور کم سے کم لاگت برداشت کرکے نفع کو بڑھایا جاسکے ۔نگرانی کا موثر نظام ہی ادارے کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنی لاگتوں کو کم کرکے ، مارکیٹ میں مقابلہ ہی نہیں بلکہ لیڈ کرسکے۔ ہم بھی اگر مارکیٹ میں لیڈ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یقینا اپنے اداروں میںنگرانی کا موثر نظام متعارف اور نافذ کرنا ہوگا۔آئیے! دیکھتے ہیں ہم کس طرح اپنے اداروں میں موثر نگرانی کا نظام متعارف اور نافذ کرسکتے ہیں۔ موثر نگرانی کے بنیادی عناصر ادارے کے مختلف شعبہ جات کے حوالے سے نگرانی کے چارنظام بنائے جاتے ہیں۔


جدید مینجمنٹ کے مختلف نظریات کو دیکھتے ہوئے سب سے بہتر نظام انسانی وسائل کے لیے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے رویوں پر محنت کی جائے


پیداوار کی نگرانی کا نظام Controling/Monetring Output
اس نظام کا مقصد بقدر ضرورت وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بروقت معیاری پیداوار کو یقینی بنانا ہے۔پیداواری عمل کی موثر نگرانی اس لیے بھی ضروری ہے کہ ادارے کے لیے سب سے اہم چیز اس کی پیداوارہے۔کیونکہ پیداوار کو ہی فروخت کرکے اس کی وصولیاں ہوتی ہیں۔پیداوار کی کوالٹی کے اچھے یا برے ہونے کی وجہ سے صارفین اس کی پیداوار کی طلب بڑھاتے یا کم کرتے ہیں۔پیداواری نظام کو بہتر کرکے ادارہ اپنی لاگتوں کو کم کرکے اپنا نفع بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح پیداواری عمل کی موثر نگرانی کے ذریعے ضیاع کو کم کیا جاسکتا ہے۔پیداواری عمل کی نگرانی کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔جنہیں ہم اپنے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنا سکتے ہیں۔

٭…پہلا طریقہ اہداف و منصوبوں کی روشنی میں پیداواری عمل کی نگرانی ہے۔اس میںسب سے پہلے تو ادارے کے اہداف و منصوبوں(جو کہ بنے ہوئے ہوتے ہیں) کے ذریعے پیدوار ی اہداف طے ہو جاتے ہیں۔ان اہداف و منصوبوں کو اوقات کے ساتھ متعلق بھی کردیا جاتا ہے۔ جیسے روزانہ،،ہفت واری،ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر کہ کتنی پیداوار کا ہدف ہے۔دوسرے مرحلے میںان اہداف کے حصول کے لیے درکار وسائل کا تخمینہ(Budgeting) لگا لیا جاتا اور بروقت ان کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے نظام قائم کیا جاتا ہے۔جس میں خام مال،انسانی وسائل اور دیگر درکار وسائل کے حصول کے اوقات متعین کردیے جاتے ہیں۔ تاکہ پیداواری عمل بلا تعطل کے جاری رہے۔ ان سب کاموںکو تحریری شکل دے دی جاتی ہے۔ ٭…اگلا مرحلہ ان تمام تحریری اہداف و منصوبوں، وسائل کی ترسیل کی رپورٹوںاور حقیقی پیداواری عمل کی نگرانی کرنا منیجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقی پیداوار کو اہداف کے مطابق رکھے۔اگر کسی موقع پر یہ اہداف سے منحرف (Deviation) ہو رہے ہیں تو ان کی وجوہات معلوم کرکے انہیں اہداف کے مطابق لائے۔اس نگرانی کے عمل کے لیے منیجر حسب حال تحریری اور زبانی ہدایات جاری کرتا ہے۔جیسے لائن سپروائزر اپنے ماتحت کاریگروں اور مزدوروں کے لیے عموما زبانی ہدایات جاری کرتا ہے کہ کام کس طرح کرنا ہے، نیز وہ مستقل کام کی نگرانی بھی کررہا ہوتا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ان کی رپورٹ تیار کرتا ہے۔جس سے اسے انفرادی سطح پر ہر ماتحت کی کارکردگی معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح درمیانی سطح کے منیجر تحریری شکل میں اپنے سپروائزرز کے لیے ہدایات جاری کرتے ہیں اور ہفت واری یا ماہانہ بنیادوںپر ان سے کارکردگی کی رپورٹ لیتے رہتے ہیں۔اسی طرح اعلی سطح کی انتظامیہ ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔اس طرح منظم انداز میں پیداواری عمل چلتا رہتا ہے۔ اور منظم نگرانی کا نظام بروقت پیداواری عمل میں درستگی لاتا رہتا ہے۔پیدواری نگرانی کے نظام میں ایک اہم نگرانی پیداوار کی کوالٹی کے حوالے سے ہے۔

مالیات کی نگرانی کا نظام Financial controling system
ادارے کے مالیاتی نظام کی نگرانی ادارے کے اندورنی نگرانی کے ڈھانچے کا ایک اہم جزو ہے۔مالیات میں ایک جانب پیسوں کی وصولی ہے اور دوسری جانب پیسوں کا خرچ ہے۔دونوں جانب ہی ایسا نظام بنانا کہ ایک ایک پیسے کی وصولی اور خرچ نا صرف ریکارڈ ہوتا رہے،بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ کوئی ضروری وصولی یا خرچ رکے نہیں اور غیر ضروری خرچ ہوکے نہ دے۔اس کے لیے ماہرین مالیات کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔جو مالیات کا نظام تشکیل دیتے ہیں۔جس میں اس بات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ ہر وصولی یا خرچ کے مناسب تحریری دستاویزات تیار ہوں،تاکہ مالیات کا نظام شفاف رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر دستاویزپر متعلقہ بااختیار(Authorised) منیجر کے دستخط بھی ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر سطح کے منیجر کے اختیار ات مالیات کے حوالے سے متعین ہوں کہ کتنے اخراجات کے لیے کو ن اختیار کھتا ہے؟کس ڈاکومنٹ پر کس کے دستخط ہوں گے؟ وغیرہ۔

اس کے ساتھ ساتھ مالیات کا ایک ایسا نظام جس میں اخراجات کے لیے پہلے سے تخمینہ متعین کردیا جائے۔پھر روزانہ کی بنیادوں پر ہونے والے اخراجات کو متعلقہ منیجرز سے منظور کروایا جاتا ہے اور پھر وہ اخراجات کیے جاتے ہیں۔ پھر سہ ماہی،ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر مختلف مالیاتی جائزے (Financial Statements) بنائے جاتے ہیں۔جن سے ادارے کی نفع ونقصان کی صورتحال،مالیاتی حالت اور کیش کی پوزیشن واضح ہوتی ہے۔جسے اعلی سطح کے منیجرز اورآڈیٹرزپرکھتے بھی رہتے ہیں۔

انسانی وسائل کی نگرانی کا نظام
انسانی وسائل یعنی عملہ جسے ہم کسی اداے کی جان کہہ سکتے ہیں، سب سے اہم ہے۔ان کے بغیر دیگر وسائل کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ان کی نگرانی سب سے اہم بھی ہے اور مشکل بھی، کیونکہ یہ وہ وسیلہ ہے جو احساسات رکھتا ہے۔اس کی نگرانی کرنے کو یہ ایک قید سمجھتا ہے۔ایسی صورتحال میں ایک مناسب انسانی وسائل کی نگرانی کا نظام قائم کرنا ادارے کے لیے ضروری تو ہے، لیکن اس میں کمزوری ادارے کو نقصان بھی پہنچاسکتی ہے۔جدید مینجمنٹ کے مختلف نظریات کو دیکھتے ہوئے سب سے بہتر نظام انسانی وسائل کے لیے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے رویوں پر محنت کی جائے۔قدم قدم پر ان کی نگرانی کے بجائے اس بات کی کوشش کی جائے کہ وہ خود اپنے کام کی ذمہ داری محسوس کریں اورکام کو ذمہ داری سے کریں۔اس کے لیے لیڈر شپ کوالٹی کو استعمال کیا جائے۔

معلومات کی نگرانی کا نظام
ادارے کے لیے معلومات کو جدید مینجمنٹ کے ماہرین انسانی زندگی کے لیے خون کی مانند قرار دیتے ہیں۔معلومات کی ترسیل ہو، لیکن وہ بروقت بھی ہو اور متعلقہ لوگوں تک ہو۔ اس کے لیے اصول وضوابط طے کر لیے جائیںکہ کون سی معلومات صرف اعلی سطح کے منیجرز تک محدود رہیں گی۔کون سی درمیانی سطح کے منیجرز تک اور کون سی پورے ادارے میں عام کر دی جائیں گی۔ مزید معلومات کو ادارے سے باہر پھیلانے کا کون ذمہ دارہوگا؟بعض اوقات معلومات کے پھیل جانے سے بھی ادارے کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ایسی معلومات اعلی سطح کے منیجرز تک تھیں۔ اگر ادارے میں عام ہوجائیں تو بعض اوقات اس سے ادارے میںمسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔اسی طرح اگر ادارے کی معلومات مارکیٹ میں پھیلانے کا کوئی طریقہ کار وضع نہ ہو تو اس سے بھی بعض اوقات وہ معلومات مارکیٹ میں چلی جاتی ہیں،جس سے ادارے کو نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔بہر حال! ایک ایسا نظام جس کے نتیجے میں معلومات کی بروقت اورمتعلقہ لوگوں تک ترسیل ہو،قائم کیاجائے۔

چھوٹے اداروں میں یہ تمام نظام بعض اوقا ت ایک منیجر خود دیکھ رہا ہوتا ہے۔لیکن جیسے جیسے ادارے بڑے ہوتے ہیں،ان کے لیے نگرانی کے نظاموں کو بنانا اہم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔کیونکہ اب افراد کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ادارے کا بڑا ایک ایک چیز کو خود نہیں دیکھ سکتا تو اب ایک بہتر نگرانی کا نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ادارہ درست سمت سفر کررہا ہے۔ہوسکتا ہے ہم ابھی یہ سوچ رہے ہو ں کہ ہم اپنی دکان اور کارخانے میں خود ہی سارے کاموں کی نگرانی کرلیتے ہیں۔لیکن یاد رکھیے! جیسے جیسے کام بڑھے گا،افراد بڑھیں گے۔نہیں تو ہم خود ایک دن اپنے کاروبا ر میں اپنے بچوں کوداخل کریں گے،اس وقت ایک موثر نگرانی کا نظام ہی ادارے کو درست سمت میں لے جاسکتا ہے۔اسی لیے ہم اپنے ارد گردکاروبار کی مثالیں دیکھتے ہیں کہ جب تک باپ اکیلاذمہ دار تھا،نگران تھا، کاروبار بہترین چلا۔بیٹوں کے آتے ہی کاروبار زوال کا شکار ہوگیا۔اس میں ایک عنصر موثر نگرانی کے نظام کا نہ ہونا بھی ہوتا ہے۔لہذا ہم اپنے کاروبارمیں نگرانی کا نظام بنائیں۔

ایک مسلمان تاجر اورمنیجر کے لیے تو کاروبار میں نگرانی کی اور بھی اہمیت ہے۔ہمیں معلوم ہے یہ وسائل اللہ تعالی کے ہیں،انہیں ضائع کرنا ہمارے لیے جائز نہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے ماتحت ہماری نگرانی میں ہیں۔ہماری ڈھیل کی وجہ سے وہ کسی غلط کام میں ملوث ہو گئے تو اس کی ذمہ داری ہم پر آئے گی اور قیامت کے دن ہم سے باز پر س ہو سکتی ہے۔اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم اپنے اداروں میں نگرانی کے نظام کو موثر بنائیں۔