کاروبار شروع کرنے اور اسے بڑھانے کے لئے سب سے بنیادی عنصر مالیات ہے۔مالیات کی بنیاد پر ہی پورے کاروبار کی تشکیل ہورہی ہوتی ہے۔مالیات کی فراہمی کی بہت سی صورتیں رائج ہیں۔جن سے ادارہ مالیات وصول کرسکتا ہے۔لیکن ہر طریقے میں مالیات کی کچھ نہ کچھ لاگت اداکرنا پڑتی ہے۔ایک اچھا منیجر وہ ہوتا ہے جو ادارے کی مالیاتی ضروریات کو اس طرح پورا کرے کہ نہ تو ادارہ مالیات کی کمی کی وجہ سے کاروباری مواقع کے حصول سے پیچھے رہ جائے اور نہ ہی مالیات کے غیر ضروری حصول کے ذریعے ادارے کی نفع اندوزی پر فرق آئے۔

مارکیٹ میں لیڈ کرنے والے اداروںکی ترقی کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک وجہ ان کا بہترین مالیاتی کنٹرول بھی ہوتا ہے۔آج ان موضوعات پر باقاعدہ ادارے قائم ہیں جو تعلیم و تربیت دیتے ہیں کہ کس طرح ادارے کے مالیاتی نظام کو بہتر بنایا جائے؟آئیے!ہم ایک تعارفی جائزہ لیتے ہیں کہ ایک ادارے کے مالیاتی نظام سے کیامراد ہے؟مالیات کے کون کون سے ذرائع عموما موجود ہوتے ہیں؟ان میں سے ایک مسلمان تاجر کون سے اختیار کرے؟ایک مسلمان کے لئے اس کی کیا اہمیت ہے؟


ہم اپنی مالیاتی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے اسلامی بینکوں سے رجوع کریں۔یہ مالیاتی ادارے علمائے کرام کے تجویز کردہ دیگر متبادل طریقہ ہائے تمویل کو استعمال کرتے ہوئے ،ہماری مالیاتی ضرورت کو پورا کردیں گے


فائنانشل مینجمنٹ
فائنانشل مینجمنٹ سے مراد ادارے کے لئے مالیات کی فراہمی کے ذرائع اور ان کے فوائد و نقصانات کا جائزہ لینااور ادارے کے لئے بروقت مناسب مالیات کی فراہمی کو یقینی بنانا۔

مالیات کی فراہمی کے ذرائع
عموما درج ذیل ذرائع مالیات کی فراہمی کے ہمارے پاس کاروباری زندگی میں موجود ہوتے ہیں:
اپنی سیونگ
پہلی صورت تو یہ ہے کہ اپنی آمدنی کا خرچ کے بعد رہ جانے والا حصہ،جسے سیونگ کہتے ہیں۔اگر کاروبار کی ابتدا کرنی ہے یا چلتے ہوئے کاروبار میں مال کی ضرورت ہے تو سب سے پہلا راستہ یہ ہے اپنی سیونگ کو لگا یا جائے۔یہ وہ مال ہے جس پر کوئی لاگت ادانہیں کرنی ۔

ادھارمعاملہ
دوسری صورت یہ ہے کہ ہمیں جس مقصد کے لئے مال کی ضرورت ہے ہم دوسری پارٹی سے ادھار معاملہ کرلیں۔مثلا مال کی ضرورت خام مال کی خریداری کے لئے ہے تو اپنے سپلائر سے خام مال ادھار منگوا لیا جائے اور جب مالی حالت بہتر ہو تو اسے ادائیگی کردی جائے۔اگرچہ مروجہ کاروباری نظم میں بعض اوقات اس معاملہ میں سودی معاملہ ہوتا ہے۔ یعنی ادائیگی کی شرائط میں یہ شرط لگادی جاتی ہے کہ مثلا اگر ایک ماہ میں ادائیگی کی تو قیمت دینی پڑے گی اور ادائیگی میں تاخیر ہوئی تو مثلا5فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ دینا ہوگا۔یاد رکھیے! اس قسم کے معاملے میں یہ اضافہ چاہے بہت کم ہی کیوں نہ ہولیکن سود ہے، لہذا اس قسم کی شرط ہم اپنے کاروباری لین دین میں نہ رکھیں۔ہاں! البتہ اگر سپلائر ہمیں ادائیگی میں مہلت دے رہا ہے تو وہ اپنی چیز کی قیمت زیادہ رکھ سکتا ہے۔لیکن خریدتے وقت قیمت اور ادائیگی کی مدت کا تعین ضروری ہوگا۔جیسے ایک چیز نقد ادائیگی کی صورت میں دس ہزار کی ہے لیکن اگر سپلائر مہلت دیتا ہے کہ ادائیگی دو ماہ بعد کردینا تو وہ اسی چیز کی قیمت بارہ ہزار رکھ سکتا ہے ۔لیکن آج ہی یہ بات طے ہوجائے گی کہ یہ چیز بارہ ہزار کی ہے اور ادائیگی دوماہ بعد کی جائے گی۔اور اس عقد کے بعد اس کی قیمت میں ذرہ برابر اضافہ نہیں کیا جاسکے گا۔

قرض
اگر معاملہ ادھار پر نہیں ہوسکا تو اگلا راستہ یہ ہے کہ قرض لیا جائے ۔چاہے ذاتی جان پہچان کی بنیاد پر کسی شخص سے یا کسی مالیاتی ادارے سے۔ایک مسلمان کے لئے یہ ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے۔یاد رکھیے! قرض لینے کی شریعت میں حوصلہ افزائی نہیںکی گئی،بالخصوص صرف اپنے نفع کو بڑھانے کے لیے۔البتہ ضرورت کے وقت قرض لینے کی گنجائش ہے۔لیکن اس میں اس بات کا خیال رہے کہ قرض کی ادائیگی میں ذرہ برابر اضافے کی شرط لگائی گئی تو وہ سود ہوجائے گا۔جس کی شریعت میں سخت انداز میں ممانعت ہے۔دوسری جانب ضرورت کے وقت کسی کو قرض دینا ایک باعث اجرو ثواب کام ہے ۔لہذا مسلمان تاجر ایک دوسرے کو بوقت ضرورت قرض دیں تو یہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔

قرض کی دوسری صورت یہ ہے کہ کسی مالیاتی ادارے سے قرض لیا جائے۔عموما یہ قرض سود سے پاک نہیں ہوتے۔ لہذا ان سے بچنا ہی ایک مسلمان کے لئے راہ عمل ہے۔

شراکت داری
چوتھی صورت مالیات کی فراہمی کی یہ ہے کہ شراکت داری کی بنیاد پر مالیات وصول کرلئے جائیں۔لیکن اس کے جائز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ شریعت کے بیان کئے ہوئے،شراکت کے اصولوں کے مطابق معاہدہ کیا جائے۔ مروجہ شراکت داری میں مختلف شرائط شریعت سے متصادم ہیں۔جیسے کسی شریک کے لئے تنخواہ مقرر کرنایا کسی شریک کے لئے کوئی متعینہ نفع مقرر کردینا۔شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔لہذا جب شراکت داری کا معاہدہ کریں تو کسی اہل علم سے اس کے بارے میں رائے ضرور لے لیں کہ یہ معاملہ شریعت کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر ہمارا ادارہ کمپنی کی صورت میں ہے اور منظور شدہ حصص کی حد ابھی باقی ہے تو ایک راستہ مزید حصص کا اجرا بھی ہے ۔یہ بھی اپنے کاروبارمیں شرکا کا اضافہ ہی ہے۔

لائحہ عمل
تجارتی زندگی میںبھی شریعت کی تعلیمات اسی طرح موجود ہیں جیساکہ عبادات ،معاشرت میں ہیں۔ہم مکمل مسلمان اسی وقت ہو سکتے ہیں جب ہم جس طرح عبادات شریعت کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔معاشرتی حقوق کی ادائیگی کی فکر کرتے ہیں۔اسی طرح کاروباری زندگی میں بھی شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں کی پاسداری کریں۔

ایک مسلمان کے لئے تجارتی مالیات کے حوالے سے کیا لائحہ عمل ہو؟حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کا طریقہ ہمارے سامنے ہے۔جب مدینہ تشریف لائے تو خالی ہاتھ تھے۔جس انصاری صحابی کے ساتھ مواخات کا معاملہ ہوا ان سے کہا کہ مجھے بازار کی راہ بتا دو۔اس موقع پر قرض نہیں لیااور بغیر سرمائے کے کاروبار شروع کیا۔تجارت سے کمایا اور لگایا اسی طرح ترقی کرتے گئے۔ یہاں تک کہ مالدارصحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ہاں البتہ ان کی سیرت میں اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص ان کے پاس امانت رکھواتا تو اسے وہ قرض رکھتے اور اسے کاروبا رمیںلگا دیتے، لیکن خود سے کسی کے پاس قرض کے لئے نہیں جاتے۔

ایک مسلمان تاجر کے لئے راہ عمل یہی ہے کہ اپنے تجارتی معاملات میں بھی قرض سے بچے۔بالخصوص جبکہ اکثر قرض کے معاملات سود پر مشتمل ہیں ۔لیکن اگر کاروبار میں مالی تنگی ہے تو پھر درج بالا راستو ںکے علاوہ مزید راستے بھی اختیار کیے جاسکتے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔

٭مضاربت
بعض اوقات ایک آدمی کے پاس کاروباری تجربہ، ہنرمندی ہوتی ہے لیکن مال نہیںہوتا۔دوسری جانب ایسے افرا د بھی موجود ہوتے ہیں جن کے پاس سرمایہ بہت لیکن کاروبار کرنے کی استعداد نہیں ہے یا فرصت نہیں ہے۔لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ان کا سرمایہ کاروبار میں لگ جائے۔ایسی صورت حال کے لئے شریعت،مضاربت کا عقد ان دونوں کے درمیان کرنے کی راہ بتلاتی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک پارٹی اپنا سرمایہ لگاتی ہے،دوسری پارٹی اپنی کاروباری صلاحیتیں لگاتی ہے۔کاروبار کے نفع میں دونوں شریک ہوتے ہیں۔جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب امی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا مال شام لے گئے تھے تو عقد مضاربت کی ہی بنیاد پر تھا۔

٭اسلامی بینکوں سے رجوع
ایک اور صورت یہ ہے کہ ہم اپنی مالیاتی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے اسلامی بینکوں سے رجوع کریں۔یہ مالیاتی ادارے علمائے کرام کے تجویز کردہ دیگر متبادل طریقہ ہائے تمویل کو استعمال کرتے ہوئے ،ہماری مالیاتی ضرورت کو پورا کردیں گے۔مختلف طریقوں میں مرابحہ،اجارہ،سلم اور استصناع کی بنیاد پر یہ ادارے ہماری ضرورت شرعی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کرسکتے ہیں۔ان شاء اللہ ان کا تعارف اگلے کسی مضمون میں کیا جائے گا۔

ایک اچھا مسلمان تاجر وہ ہے جو کسی بھی حال میں اللہ کو نہ بھولے،جس طرح مسجد میں اللہ کو یا د رکھتا ہے،گھر میں اللہ کو یاد رکھتا ہے،اسی طرح بازار میں بھی اللہ کو یاد رکھے۔جب کاروبار کے مالیات کی فراہمی کا معاملہ آئے تو ایسا نہ ہو کہ اپنے مالیات کی لاگت بچانے کے لئے بجائے شراکت داری کے،بجائے مضاربت کے یا کسی اور جائز طریقہ تمویل کے وہ سودی قرضوں کی طرف چل پڑے۔ رمضان المبارک کی کی مبارک ساعتیںہیں،ہم اللہ پاک سے عہد کریں کہ ہم تمام گناہوںسے توبہ کرتے ہیں بالخصوص سود سے اور آئندہ سود کی بنیاد پر کوئی مالی معاملہ نہیں کریں گے ۔اللہ پاک ہم سب کو مکمل دین پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔