مسئلہ کیا ہے؟ میں ایک ایسے صاحب سے واقف ہوں جنہیں ہر لمحہ یہ شکوہ رہتا ہے کہ ان کی تنخواہ کم ہے۔ کام کا بوجھ زیادہ ہے۔ جانوروں کی طرح کام لیا جاتا ہے۔ مگر یقین کیجیے ان کے دفتر میں گزارے گئے پانچ گھنٹوں میں سے بمشکل صرف آدھا گھنٹہ کام میں گزرتا ہو گا۔ اس کے علاوہ وہ اس لیے پریشان رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ برنارڈ شاہ کا یہ اصول زندگی بھر یاد رکھیے: ’’جب آپ کسی بات پر پریشان ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔

اس لیے مصروف رہیے تاکہ آپ بھی ایک نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔‘‘ جو شخص دفتر میں پریشان رہتا ہے یاد رکھیں! وہ کبھی گھر میں بھی سکون سے نہیں رہتا۔ جو شخص دفتر میں ہر وقت کام زیادہ ہونے کا شکوہ کرتا ہے وہ گھر میں بھی کام نہیں کرتا۔


٭ جو شخص دفتر میں ہر وقت کام زیادہ ہونے کا شکوہ کرتا ہے وہ گھر میں بھی کام نہیں کرتا ٭ ہماری زندگی بھی جگ کی طرح ہے۔ اس میں مختلف چیزیں اپنی جگہ بناتی چلی جاتی ہیں۔ زندگی کے کسی لمحے پر مصروفیات سے تھک کر ہتھیار مت ڈالو


جیک ولیخ نے اپنی کتاب میں لکھاہے: ایک کمپنی کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ جب کوئی کارکن مجھ سے دوسری جگہ تبادلے کا مطالبہ کرتا ہے یا گھریلو مصروفیات کی خاطر دیر سے آتا ہے تو میں اسے کہتا ہوں: آپ جن الفاظ میں اپنا مطالبہ پیش کر رہے ہیں، ان کا مطلب ہے کہ آپ یہاں موزوں نہیں ہیں۔ اسٹیفن بوسٹن کے مشہور ہسپتال میں ڈاکٹر تھا۔ اس نے اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ مگر کاروبار کی خاطر اپنی پہلی نوکری نہیں چھوڑی۔ وہ دن بھر ہسپتال میں ڈیوٹی دیتا، اس کے بعد کاروبار سنبھالتا۔ اسی دوران خیال آیا کہ ایم بی اے بھی مکمل کر لے۔ اس طرح ڈاکٹر، بزنس مین اور طالب علم، وہ بیک وقت تینوں کام کرنے لگا۔ یہی نہیں اس کے ساتھ ہی شادی بھی کی اور بچے بھی ہوئے۔ وہ ایک تاجر، ڈاکٹر اور طالب علم ہی نہیں، شوہر اور باپ بھی ہے۔ اس کے باوجود اسے کبھی وقت کی کمی کا شکوہ نہیں ہوا۔

آئیے! دیکھتے ہیں کس طرح دفتر اورگھر کی زندگی کو متوازن رکھا جا سکتا ہے:

1 مشکل کام کا انتخاب کریں:
پروفیسر نے شیشے کا جگ لیا اور اس میں چھوٹی چھوٹی گیندیں ڈالنا شروع کیں۔ جگ کناروں تک بھر گیا۔ طلبہ سے پوچھا: کیا اس میں گنجائش باقی ہے؟ سب نے کہا: ’’نہیں۔‘‘ پروفیسر نے چھوٹی چھوٹی کنکریاں لے کر جگ میں ڈالنا شروع کر دیں۔ کنکریوں نے گیندوں کے درمیان جگہ بنائی اور جگ ایک بار پھر بھر گیا۔ طلبہ سے پوچھا تو سب نے بیک آواز کہا: اب مزید جگہ نہیں بچی۔ پروفیسر نے ایک اور برتن اٹھایا اس میں ریت تھی۔ ریت نے کنکریوں اور گیندوں کے درمیان اپنا راستہ بنایا اور بہت سی ریت جگ میں بھر گئی۔ اب سب طلبہ نے کہا جگ میں مزید گنجائش نہیں رہی۔ اب پروفیسر نے اسی جگ میں پانی ڈالنا شروع کیا۔ جگ میں پانی نے بھی جگہ بنا لی۔ اب پروفیسر نے جگ ایک طرف رکھ کر کہا: ’’ہماری زندگی بھی جگ کی طرح ہے۔ اس میں جتنے کام کر سکتے ہو کرتے جاؤ۔ زندگی کے کسی لمحے پر مصروفیات سے تھک کر ہتھیار مت ڈالو۔‘‘

غالب ؎ نے کہا تھا: مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں۔ اس لیے مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ہر مشکل کام آپ کو زندگی کے سفر میں چند قدم آگے بڑھا دیتا ہے اور کامیابی کے مزید قریب کر دیتا ہے۔ برطانیہ کے مشہور اخبار فائنانشل ٹائمز نے ’’ویونی کوکس‘‘ کی کہانی شائع کی۔ کوکس کو 45 سال کی عمر میں برطانوی پیٹرولیم کمپنی کے پاور، گیس اور انرجی ڈویژن کا سربراہ بنا دیا گیا۔ اس کی نہ صرف شادی ہوئی تھی بلکہ دو بچے بھی تھے۔ اسے کبھی بھی زندگی کی مشکلات کا شکوہ نہیں رہا۔

نکمے ملازم کی خصوصیات نکمے لوگوں میں تین خامیاں مشترک ہوتی ہیں:
1 وہ اپنا وقت ضائع ہونے سے نہیں بچا سکتے۔ وہ اپنے اہم ترین کاموں کے انتخاب میں نا کام رہتے ہیں۔ گھر اور دفتر دونوں جگہ انہیں کام کی زیادتی اور وقت کی کمی کا شکوہ رہتا ہے۔

2 ان کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہوتی۔ وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، نہ ہی ترقی حاصل کرنے کا سوچتے ہیں۔ اس لیے وہ خود بھی نوکری ختم ہونے سے ڈرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ڈراتے رہتے ہیں۔

3 وہ زندگی میں تبدیلی لانے اور نت نئے تجربے کرنے سے گھبراتے ہیں۔ رعایت طلب کرنے والے کارکن کمزور ہوتے ہیں۔

2 دفتری مجبوریاں:

ممکن ہے آپ ایک گھنٹے میں ہی دن کا کام نمٹانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، مگر جس دفتر میں سارا عملہ کام میں مصروف ہو وہاں آپ کو گھر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر آپ مختصر وقت میں کمپنی کو کام دے کر رخصت ہونا چاہتے ہیں تو یاد رکھیے! دفتر میں ترقی انہیں کارکنوں کو ملتی ہے جو ہر لمحہ برق رفتاری سے کام کرتے نظر آتے ہیں۔ ہر میٹنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ جن کا کام بولتا ہے اور منیجر ان کی کارکردگی دل سے تسلیم کرتا ہے۔ ایک ملازم نے جمعہ کے دن مصروفیت کے باعث گھر پر رہ کر کام کرنے کی اجازت لے لی۔ مگر ایک سال کے بعد اس ملازم کو دفتر سے نکال دیا گیا۔ نوکری ختم ہونے کی اطلاع ان لفظوں سے دی گئی: ’’اگرچہ کمپنی اپنے ملازمین کو گھر پر رہ کر کام کرنے کی اجازت دیتی ہے مگر کمپنی یہ بھی کہتی ہے…………‘‘۔ ایک طویل فہرست سے ثابت کیا گیا کہ آپ کی صلاحیتوں سے ادارے کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا۔

3 باس کی نظر سے سوچیں:
جب منیجر یا باس آپ کے دکھڑے اور غم سنتا ہے تو وہ ایک نئے زاویے سے سوچ رہا ہوتا ہے۔ باس آپ کو خوش رکھنا چاہتا ہے۔ اگر آپ خوش نہ ہوئے تو دل جمعی اور تن دہی سے کام نہیں کریں گے۔ آپ اچھے کارکن ہیں تو منیجر آپ کو خوش رکھنے کے لیے ہر بات ماننے پر آمادہ ہو جائے گا۔ اس لیے یاد رکھیں! آپ کی کارکردگی اتنی عمدہ ہو کہ باس خود آپ کی بھلائی کا سوچ رہا ہو۔