ریٹائرمنٹ کے بعد بڑی رقم ملی، لاٹری کھل گئی یا وراثت میں بڑی اماؤنٹ مل گئی۔ اب اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے کیا کریں؟ خیر خواہ لوگوں سے مشورہ کیا۔ اب مختلف مشورے دوست احباب کی طرف سے ہیں۔ ایک مشورہ ہے کہ یہ رقم میرے کاروبار میں لگا دو، دس ہزار مہینہ دیتا رہوں گا۔ نیز اصل رقم جب مانگو گے دے دوں گا۔ ایک مشورہ آتا ہے کہ ’’مرکز قومی بچت‘‘ میں رکھوا دو، اچھا نفع ملتا ہے۔ میں نے بھی رکھوائی ہوئی ہے۔ کسی سے کاروباری جھنجٹ کے بغیر اتنا نفع ملے گا کہ گھر آرام سے چلے گا۔ جن کا کام کاج اچھا چل رہا ہو تو مشورہ آتا ہے کہ ان پیسوں سے پلاٹ خرید کر ڈال دو، بڑی زبردست انوسٹمنٹ ہے۔ بچوں کے کام بھی آ جائے گا۔

 

 

ہمیں اپنی رقم کو بہتر استعمال کرنے کے لیے اس قسم کے مختلف مشورے مل رہے ہوتے ہیں۔ حقیقت میں یہ سب سرمایہ کاری کے مختلف طریقے ہیں۔ پھر ہم ان میں سے کسی نہ کسی طریقے کو اختیار کر لیتے ہیں۔ لیکن جب ہم اپنا پیسا لگا رہے ہوتے ہیں تو یہ بات تو ہمارے ذہنوں میں ہوتی ہے کہ جس طریقے سے زیادہ نفع، کم نقصان کے خطرے کے ساتھ ملے اس میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ لیکن یہ بات شاید کبھی ہم نہیں سوچتے کہ ان طریقوں میں سے کون سا طریقہ شریعت کے مطابق ہے اور کون سا نہیں ہے؟ کیا یہ سارے طریقے درست ہیں؟ کیا ہر ایک سے ملنے والا نفع ہمارے لیے حلال ہے؟ اس کی فکر ہم میں سے بہت کم افراد ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ایک مسلمان ہونے کے بعد ہمارے لیے اس بات کا خیال رکھنا سب سے اہم ہے۔ ورنہ سارے اعمال اللہ کے نزدیک بے وزن ہو سکتے ہیں۔ آئیے! پہلے تو ہم جائزہ لیتے ہیں ہم کن کن طریقوں سے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟ ان میں سے کون سے طریقے ہمارے لیے بالکل جائز ہیں؟ کون سے طریقے بالکل ناجائز ہیں؟ کن طریقوں سے متعلق علما کرام کی رائے لینا ضروری ہے۔

ہم یہاں سرمایہ کاری کی عمومی طور پر رائج صورتیں ذکر کر رہے ہیں، فی الحال ان کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے، مضمون کی اگلی قسط میں ہر ایک کا شرعی حکم ذکر کیا جائے گا۔
مروجہ سرمایہ کاری کے مختلف طریقوں کو ہم پانچ قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ قرض کی بنیاد پر سرمایہ کاری
قرض کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی تین صورتیں رائج ہیں:
1 بچت کی اسکیمیں:
بچت کی مختلف اسکیمیں معاشرے میں رائج ہیں۔ یہ اسکیمیں بعض اوقات ’’مرکز قومی بچت‘‘ سے چل رہی ہوتی ہیں۔ کبھی بینک بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ پوسٹ آفس بھی اس میں کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ ان اسکیموں پر عموما عام شرح سود سے زیادہ نفع دیا جا رہا ہوتا ہے۔ ان کا مقصد عوام میں بچت کا شعور بیدار کرنا ہوتا ہے۔ ان کی بنیاد قرض پر ہوتی ہے کہ یہ ادارے عوام سے قرض پر رقم لیتے ہیں اور یہ رقم آگے زیادہ شرح سود پر دے کر کما رہے ہوتے ہیں۔
2 بانڈز:
بانڈز کا مطلب یہ ہے کہ جب حکومت یا کسی ادارے کو بڑی رقم قرض کی ضرورت ہوتی ہے تو بجائے کسی ایک فرد سے یہ رقم قرض لینے یہ بہت سارے لوگوں سے تھوڑی تھوڑی رقم قرض لیتے ہیں۔ تحریری طور پر اس کی دستاویز بھی دے دیتے ہیں جس میں قرض میں لی گئی رقم اور اس پر شرح سود لکھی ہوتی ہے۔ پھر یہ بانڈز آگے بیچے بھی جا سکتے ہیں اور قرض دار اس کو قرض واپس کرنے اور سود دینے کا پابند ہوتا ہے جس کے پاس یہ بانڈز ہوں۔ ہمارے معاشرے میں پرائز بانڈز کے نام سے بانڈز کی شکل موجود ہے جس میں بانڈز بیچ کر قرض گورنمنٹ لے رہی ہوتی ہے اور اس کا سود تمام بانڈز والوں کے بجائے چند افراد کو قرعہ اندازی کے ذریعہ تقسیم کیا جاتا ہے۔ جسے انعام کا نام دیا جاتا ہے۔
3 بینک اکاؤنٹس:
تیسری صورت سود کی بنیاد پر پیسے لگانے کی روایتی بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا یا ٹرم ڈپازٹ کروانا ہے۔ ان ڈپازٹ پر بینک طے شدہ شرح سے سود دے رہا ہوتا ہے۔
تجارت کی بنیاد پر سرمایہ کاری
اس حوالے سے بھی عموماً تین صورتیں ہوتی ہیں:
1 رئیل اسٹیٹ اینڈ گولڈ انوسٹمنٹ: اثاثہ جات کی خرید و فروخت
سرمائے کو نفع بخش بنانے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس سے ایسے اثاثہ جات خرید لیے جائیں جن کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں، نیز مستقبل میں بڑھنے کی بھی امید ہوتی ہے۔ یوں انہیں ابھی خرید اور مستقبل میں بیچ کر مناسب نفع کمایا جا سکتا ہے۔ زمین اور سونے کو عموما ایک نفع بخش اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ ضرورت سے زائد رقم زمین یا سونے میں لگا دی جاتی ہے۔ پھر بوقت ضرورت بیچ کر کام میں لے آئی جاتی ہے۔ یہ نسبتا محفوظ سرمایہ کاری ہے۔

2 مضاربہ کمپنیز:شراکت داری کی بنیاد پر سرمایہ کاری تجارت کا ایک اہم طریقہ شراکت داری ہے۔ جس کے پاس سرمایہ موجود ہو وہ شراکت داری کی مختلف صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔ جیسے کسی چلتے ہوئے کاروبار میں نفع یا نقصان کی بنیاد پر شرکت کر لی جائے یا مروجہ اسلامی بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوا لیے جائیں تو وہ بھی شراکت داری کی بنیاد پر اکاؤنٹ کھولتے ہیں۔ اسی طرح مختلف افراد مل کر کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ شراکت داری کی ایک صورت اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری بھی ہے۔ اس صورت میں کسی کمپنی کے شیئرز خریدے جاتے ہیں۔ شیئرز خریدنا، اس کمپنی میں حصہ دار بننا ہی ہے۔ اس کے نتیجے میں دو طرح سے نفع مل رہا ہوتا ہے۔ ایک تو اس شیئر کی قیمت کے بڑھنے کے نتیجے میں اور دوسرا کمپنی کے سالانہ نفع کی تقسیم کے نتیجے میں نفع حاصل ہوتا ہے۔
3 میوچل فنڈ اور انوسٹمنٹ ٹرسٹ: وکالت کی بنیاد پر سرمایہ کاری
ایک صورت سرمایہ کاری کی یہ ہے کہ سرمایہ ان لوگوں کو دے دیا جائے جو مارکیٹ کی مکمل معلومات رکھتے ہیں، سرمایہ کاری کے اتار چڑھاؤ سے واقف ہیں۔ یہ ماہرین ہمارے پیسے کو جہاں مناسب سمجھیں نفع بخش کام میں لگا دیں۔ یہ کام کرنے والے خود ایجنسی فیس رکھ کر باقی نفع نقصان سرمایہ لگانے والوں کو دے دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ، اور مختلف میوچل فنڈز اسی بنیاد پر چل رہے ہیں۔
فارن ایکسچینج میں سرمایہ کاری
ایک صورت تجارت کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی یہ ہے کہ پاکستانی کرنسی کے علاوہ کسی مستحکم جیسے ڈالر، یورو یا پونڈ خرید لینا اور جب ان کی قیمتیں بڑھیں تو مارکیٹ میں بیچ دینا اس طرح نفع کمانا۔
صکوک
’’صکوک‘‘ بھی سرمایہ کاری کا ایک مصرف ہے۔ ’’صکوک‘‘ لفظ ’’صکّ‘‘ کی جمع ہے۔ اردو کی اصطلاح میں انہیں اسلامی بانڈ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد کسی تجارتی بنیاد جیسے شرکت داری یا اجارہ کی بنیاد پر مختلف لوگوں سے رقم جمع کر کے انہیں تحریری دستاویز دے دینا اور پھر اسے کسی پروجیکٹ میں لگا کر نفع کمانا یا کوئی اثاثہ خرید کر اسے کرائے پر دے کر نفع کمانا اور یہ نفع ان لوگوں میں تقسیم کرنا جن کی رقم لی گئی ہے۔
انشورنس: جوے کی بنیاد پر سرمایہ کاری
سرمایہ کاری کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ سرمایہ لگا دیا جائے اور کمپنی اس کے بدلے میں آپ کو کسی مستقبل کے خطرے سے تحفظ فراہم کر دے۔ یہ خطرہ مالی بھی ہو سکتا ہے، جانی بھی لیکن سرمایہ پر نفع اسی وقت دیا جاتا ہے جب نقصان ہو۔ انشورنس کمپنیز کی صورت میں سرمایہ کاری کی یہ صورت بھی ہمارے معاشرے میں رائج ہے۔
تکافل: امداد باہمی، وکالت کی بنیاد پر سرمایہ کاری
ایک نئی صورت جسے انشورنس کا متبادل کہا جا رہا ہے، تکافل ہے۔ جس کی بنیاد امداد باہمی کے اصولوں پر ہے۔ تکافل کمپنی ایک منیجر کے طور پر مختلف افراد کا آپس میں معاہدہ کرواتی ہے کہ جو سرمایہ لگایا جا رہا ہے۔ اس سے ان افراد کا کوئی خاص نقصان پورا کیا جائے گا اور مزید رقم مختلف نفع بخش جگہوں پر لگائی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں تکافل کمپنی کے ممبران کو اپنے نقصان سے تحفظ اور سرمایہ کاری پر نفع دونوں فوائد حاصل ہوجائیں گے۔