٭…سرمایہ کاری کا ایسا کوئی بھی طریقہ جس میں سرمایہ لگانا یقینی ہے لیکن اس سرمائے کا اور اس پر نفع کا واپس آنا کسی غیر یقینی چیز پر مشروط ہو، جوا ہے، ہمارے معاشرے میں انشورنس کا بزنس اسی میں شامل ہے۔ ٭…ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ نفع برائے نفع نہیں بلکہ حلال نفع ہدف ہو مروجہ طریقوں کا شرعی جائزہ ایک مسلمان کے لیے نفع یا نقصان سے کہیں زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ نفع حلال بھی ہے یا نہیں؟ آئیے! گزشتہ تحریر میں ذکر کردہ مختلف طریقوں کا شریعت کے اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔


1 قرض کی بنیاد پر سرمایہ کاری
قرض کو شریعت نے ایک تجارتی معاہدہ قرار دینے کے بجائے ایک ہمدردی کا معاہدہ قرار دیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قرض کو نفع کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ اس پر آخرت میں ثواب کی امید کی جا سکتی ہے۔ لہذا وہ تمام طریقے جس میں قرض کو نفع کمانے کا ذریعہ بنایا گیا ہے، وہ شرعا درست نہیں ہوں گے۔ چاہے وہ روایتی بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹ کی صورت میں ہوں یا سیونگ اسکیمز کی صورت میں ہوں یا پھر بانڈز کی صورت میں ہوں۔ ان کا نفع سود ہے۔


٭…سرمایہ کاری کا ایسا کوئی بھی طریقہ جس میں سرمایہ لگانا یقینی ہے لیکن اس سرمائے کا اور اس پر نفع کا واپس آنا کسی غیر یقینی چیز پر مشروط ہو، جوا ہے، ہمارے معاشرے میں انشورنس کا بزنس اسی میں شامل ہے۔ ٭…ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ نفع برائے نفع نہیں بلکہ حلال نفع ہدف ہو

2 تجارت کی بنیاد پر سرمایہ کاری
اصولی طور پر تجارت کو اللہ تعالی نے جائز قرار دیا ہے۔ لہذا تجارت کی بنیاد پر ہونے والی سرمایہ کاری بھی درست ہو گی اور اس سے کمایا جانے والا نفع بھی حلال ہو گا بشرطیکہ تجارت سے متعلق شریعت کے احکامات کی پاسداری کی جائے۔ جب ہم خود تجارت کر رہے ہوں تو اپنے معاہدات اہل علم کو دکھا کر اس بات کو یقینی بنا لیں کہ اس معاہدے میں کوئی بات شریعت کے خلاف نہیں ہے۔ مزید سرمایہ کاری کی مختلف وہ صورتیں بھی آج رائج ہیں جن کی نگرانی اہل علم کر رہے ہیں، جیسے: مختلف اسلامی بینک اور اسلامی میوچل فنڈز وغیرہ تو جب تک ان کی نگرانی ہو رہی ہے ہم ان میں بھی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
3 وکالت کی بنیاد پر سرمایہ کاری
نفع بخش تجارت کے لیے کسی کو وکیل بنانا اور اس کام کی کوئی فیس ادا کرنا شریعت میں جائز ہے۔ البتہ اس بات کی تحقیق کرنا کہ وہ وکیل شرعا درست جگہوں پر ہی پیسہ لگا رہا ہے، یہ ضروری ہے۔ مروجہ اسلامی مالیاتی مارکیٹ میں مختلف میوچل فنڈز اور انوسٹمنٹ ٹرسٹ اہل علم کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں، ان میں سرمایہ لگایا جا سکتا ہے۔
4 جوے کی بنیاد پر سرمایہ کاری:
جوا جسے عربی میں ’’قمار‘‘ کہتے ہیں۔ قرآن نے واضح الفاظ میں اس کی ممانعت کی ہے۔ لہذا سرمایہ کاری کا ایسا کوئی بھی طریقہ جس میں سرمایہ لگانا یقینی ہے لیکن اس سرمائے کا اور اس پر نفع کا واپس آنا کسی غیر یقنی چیز پر مشروط ہو، جوا ہے۔ اور اس سے ایک مسلمان کو احتیاط کرنی چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں انشورنس کا بزنس اسی میں شامل ہے۔
5 امداد باہمی کے اصول پر سرمایہ کاری
تکافل کی بنیاد امداد باہمی کے تصور پر ہے۔ یہ ایک نیک جذبہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ لیکن سرمایہ کاری میں شریعت کی پاسداری ضروری ہے۔ لہذا جب تک اہل علم اس کی نگرانی کر رہے ہیں ہم ان میں بھی اپنا سرمایہ لگا سکتے ہیں۔
اگر آج میرے پاس ایک بڑی اماؤنٹ آ جاتی ہے تو میرے لیے ضروریات کو پورا کر لینے کے بعد اسے نفع بخش تجارت میں لگانا ضرور جائز ہے۔ اور یتیموں کے مال کے بارے میں شریعت کے احکامات سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کا بے کار پڑا رہنے سے بہتر ہے کہ اسے نفع بخش تجارت میں لگایا جائے لیکن ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ نفع برائے نفع نہیں بلکہ حلال نفع ہدف ہو۔ آج ہماری دین سے غفلت کی وجہ سے بے شمار غیر شرعی طریقے رائج ہو گئے ہیں۔ واپس اللہ کی طرف آئیں اور شریعت کے خلاف کاروباری طریقوں کی اصلاح کریں۔ یا د رکھیے! کل قیامت کے دن ایک ایک پائی کا حساب دینا ہو گا۔ اس حساب سے پہلے ہم خود اپنا حساب کرتے ہیں کہ ہمارے پیسے میں کہیں حرام کا عنصر تو موجود نہیں؟!