حلال روزی کمانا ہر مسلمان کی شرعی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ہر ذی شعور مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے۔ ہم میں سے اکثر عقل و شعور کی عمر تک پہنچتے ہی اس کے لیے فکر مند بھی ہو جاتے ہیں اور عملی کوشش بھی شروع کر دیتے ہیں۔ جب ہم اس حوالے سے سوچتے ہیں تو ایک اہم مسئلہ یہ آتا ہے کہ کمانے کے مختلف طریقوں میں سے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے؟


یہ فیصلہ ہماری زندگی کے اہم فیصلوں میں سے ایک ہے۔ اس مرحلے کی ذرا سی کوتاہی دنیا و آخرت کے وبال کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ کرتے وقت عموما تعلیم و تربیت، ماحول اور دستیاب مواقع اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم بنیادی معلومات کا ہونا ہمارے لیے بہر حال ضروری ہے۔ کما نے کے کیا کیا طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں؟ پھر ان طریقوں میں سے کون سے شریعت کی نگاہ میں بہتر ہیں؟ کون سے طریقے قابل قبول ہیں؟ کون سے طریقے منع ہیں؟ یہ معلومات ایک مسلمان کے لیے ضروری ہیں کیونکہ شریعت کے احکام کی پاسداری کرنا ہماری پوری معاشی سرگرمی کو عبادت بنا دے گا، جبکہمعاشی سرگرمیوں میں شرعی احکامات کا لحاظ نہ کرنا ہمارے سارے نیک اعمال کو ضائع کر دے گا۔ آئیے! کچھ اسی قسم کی تفصیل ملاحظہ کرتے ہیں۔


٭…احادیث کی روشنی میں علمائے کرام ایسی تجارت کو افضل قرار دیتے ہیں، جس میں اپنا کاروبار ہو، کسی کی ملازمت نہ ہو۔ لیکن تمام طریقوں میں شریعت کی تعلیمات کا پاس رکھنا بہر حال ضروری ہے


کمانے کے بنیادی ذرائع
اللہ تعالی نے انسان کو اس دنیا میں بھیجا اور اس کے لیے اس زمین پر گزارا کرنے کے لیے اسباب اور و سائل رکھ دیے۔ ان اسباب کو استعمال کر کے انسان اپنی روزی کا بندوبست کرتا ہے۔ بنیادی طور پر انسان کمانے کے لیے تین ذرائع اختیار کرتا ہے:

1 قدرتی ذرائع
اس سے مراد وہ طریقے ہیں جن میں براہ راست اللہ تعالی کے دیے ہوئے وسائل کو حاصل کیا جاتا اور اس سے روزی کمائی جاتی ہے، جیسے: زراعت، کان کنی، ماہی گیری یا جنگلات سے لکڑیاں، شہد یا کوئی اور چیز حاصل کرنا۔ ان طریقوں میں اللہ کے دیے ہوئے وسائل کا حصول ہو رہا ہوتا ہے۔ زراعت میں انسان کا کام صرف پودے یا درخت کی پیدائش کے لیے ساز گار ماحول فراہم کرنا ہے۔ باقی اس پودے کو اگانا، اسے پھل دار کرنا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا عمل ہے۔ اسی طرح کان کنی کے پیشے میں کانوں سے معدنیات نکالنے کے عمل میں ہمارا کام صرف ان معدنیات کو نکالنا ہے،اس کا پیدا کرنا براہ راست اللہ کا عمل ہے۔ اسی طرح ماہی گیر ی کا معاملہ ہے۔ خلاصہ یہ کہ ایک اہم بنیادی ذریعہ کمانے کا یہ ہے کہ اس کائنات میں موجود اللہ کی پیدا کی ہوئی وہ اشیا جو کسی کی ملکیت نہیںہیں، انہیں حاصل کر کے روزی کمائی جائے۔ یہ ذریعہ سب سے بنیادی بھی ہے اور قدیم بھی۔

2 صنعتی ذرائع
دوسرے وہ ذرائع معاش ہیں جن کا تعلق براہ راست قدرتی وسائل کو حاصل کرنے سے نہیں ہے۔ بلکہ اس میں لوگ ان قدرتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے، ان کو مزید کارآمد اشیا میں تبدیل کرتے ہیں۔ تمام صنعتی کاروبار کی بنیاد یہی ذریعہ معاش ہے، جیسے: کپاس زراعت کے نتیجے میں حاصل ہو گئی۔ اب اسے دھاگے میں تبدیل کرنا، اس سے کپڑا بنانا اور اسے بیچنا۔ اسی طرح لکڑی جنگلات سے حاصل ہو گئی، اس سے میزیا کرسی بنانا ثانوی ذرائع معاش میں آئے گا۔

3 خدمات
تیسری قسم کی وہ سرگرمیاں اختیار کی جا سکتی ہیں جن کی وجہ سے پہلے دو ذرائع کی مدد ہو، مثلا:زرعی پیداوار کو بازار تک پہنچانے کی خدمات فراہم کرنا۔ اسی طرح صنعت کے لیے افرادی قوت فراہم کرنا، سرمایہ فراہم کرنا، ڈاک کی سہولیات فراہم کرنا، ٹرانسپورٹیشن کی سہولت فراہم کرنا۔ اس قسم کی سرگرمیوں کے نتیجے میں بھی کمایا جا سکتا ہے۔

کون سا طریقہ اختیار کیا جائے؟
ان تین ذرائع میں سے کمانے کا کون سا طریقہ اختیار کیا جائے؟ اس کے لیے تین صورتیں ہیں:
٭ آپ محنت کر سکتے ہیں؟
٭آپ کے پاس کوئی ہنر ہے؟
٭آپ کے پاس سرمایہ موجود ہے؟
اگر آپ کے پاس تین میں سے کوئی ایک چیز موجود ہے تو آپ حلال کما سکتے ہیں۔ اس کی کیا صورت ہو گی؟ آئیے! دیکھتے ہیں۔

1 آپ محنت کر سکتے ہیں
اللہ تعالی نے دست و بازو میں قوت دی ہے۔ محنت کر سکتے ہیں۔ ایک حدیث پاک کے مطابق: اللہ تعالی ایسے شخص کو محبوب رکھتے ہیں جو اپنے ہاتھ سے کماتا ہے۔ جب اللہ تعالی نے قوت بازو دی ہے تو کسی پر بوجھ بننے کے بجائے کمانے کے لیے میدان عمل میں آئیں، اللہ کے محبوب بن جائیں۔ اس محنت کے حوالے سے ہم کیا کرسکتے ہیں؟ اس کے لیے دو راستے ہیں:
1 قدرتی وسائل کی فراہمی
وہ حدیث تو یاد ہی ہو گی جس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو جو کچھ مانگنے آیا تھا فرمایا کہ جاؤ اور جنگل سے لکڑیاں کاٹو اور بازار میں بیچو۔ سو، اللہ تعالی نے قدرتی وسائل جن میں ہوا، پانی، جنگلات، معدنیات، آبی حیات، جنگلی حیات وغیرہ انسانوں کے لیے پیدا فرمائے ہیں۔ انہیں حاصل کر کے بیچنا، کمانے کا حلال طریقہ ہے۔ البتہ اس حوالے سے اگر حکومت وقت کی جانب سے مفاد عامہ کی خاطر قوانین بنائے گئے ہوں تو بحیثیت ایک شہری ان قوانین کا لحاظ رکھنا شرعا بھی ہمارے اوپر لازم ہو گا۔ اس طریقے پر عمل کرتے ہوئے قوانین کا خیال بھی رکھا جائے تو ہم لکڑیاں، پانی، مچھلیاں، معدنیات کی سپلائی کا کام کر سکتے ہیں۔

2 مزدوری / ملازمت
اس محنت کا دوسرا استعمال یہ ہے جسے آپ کی محنت کی ضرورت ہے اس تک پہنچ کر اپنی محنت کی اجرت لے سکتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بعثت سے پہلے بکریاں چرائیں، اس کے علاوہ صحابہ کرام نے بھی مختلف محنت مزدوری کی۔’’مزدوری‘‘ کی صورت میں دو طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں:

٭ آجر: یعنی خود معاملات طے کریں اور اسے ذاتی کاروبار سمجھیں، جیسے: آج اگر ایک مزدور براہ راست کام کے معاملات طے کرتا ہے۔ چوکیداری کی مزدوری ہو گی۔

٭ ملازمت: دوسری صورت یہ ہے کہ کام کے حوالے سے معاملات کوئی اور طے کرتا ہے۔ آپ صرف اپنی محنت اسے دے دیتے ہیں۔ یعنی باقاعدہ کسی کی ملازمت اختیار کر لے، جیسے:ایک ٹھیکیدارکے مختلف پروجیکٹ چلتے رہتے ہیں تو وہ مستقل اس ٹھیکیدار کا ملازم بن جائے۔

2 آپ ہنر مند ہیں
دوسری صورت یہ ہے کہ آپ دست بازو سے تو بہت زیادہ محنت نہیں کر سکتے لیکن آپ کو کوئی ہنر آتا ہے۔ ہنر کی دو صورتیں ہیں:
٭ ذہنی ہنر: ذہنی ہنر مندی سے مراد یہ ہے کہ اس میں دست بازو کا کردار نہیں ہے بلکہ ذہن کا کردار ہے۔ جیسے آپ کو کمپیوٹر پروگرامنگ آتی ہے، آپ کو اکاؤنٹنگ آتی ہے، آپ کو مینجمنٹ آتی ہے۔ اس ہنر مندی کو استعمال کر کے کما سکتے ہیں۔
٭ جسمانی ہنر مندی: دوسری صورت یہ ہے کہ آپ کے پاس جسمانی ہنر مندی ہے جیسے آپ کمپیوٹر صحیح کرنا جانتے ہیں، موبائل ٹھیک کر سکتے ہیں۔ اس ہنر مندی کے ذریعے آپ کما سکتے ہیں۔ یہاں بھی آپ اپنا کاروبار کر سکتے ہیں اور کسی کی ملازمت بھی۔
محنت اور ہنر مندی سے کمانے کے مختلف طریقے
ہنرمندی اور محنت سے کمانے کی درج ذیل مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں:
1 صنعت: ہنر مندی کو استعمال کرتے ہوئے آپ کچھ بنا کر بیچ دیں۔ جیسے مارکیٹ کی ضرورت کی چیز بنائیں اور بیچ دیں جیسے موجودہ حالات میں چارجنگ لائٹس اور پنکھے وغیرہ۔

2 ذاتی کاروبار: ذاتی کاروبار کی بنیاد پر بھی اپنی ہنرمندی سے کما سکتے ہیں۔ جیسے آپ نے فریج، ائرکنڈیشن وغیرہ کی مرمت کرنے کی دکان کھول لی۔

3 وکالت: بعض اوقات وکالت کی بنیاد پر اپنی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔ جیسے آپ مارکیٹ کی صورت حال سے بہتر انداز میں واقف ہیں۔ کسی چیز کی خرید و فروخت کے لیے آپ اپنی خدمات وکالت کی بنیاد پر دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جائیداد اور شیئرز کی خرید و فروخت میں اس قسم کا کاروبارعام ہے۔

4 مضاربت: ہنر مندی کے ذریعے کمانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ ایک ایسے شخص کے ساتھ شراکت داری کر سکتے ہیں جس کے پاس سرمایہ ہو۔ دونوں مل کر کاروبار کریں گے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نفع میں طے شدہ شرح کے مطابق شریک ہوں گے۔ اس معاہدے کو مضاربت کہا جاتا ہے۔
ان تمام صورتوں میں آپ ایک جائز معاوضہ اپنے لیے لے سکتے ہیں۔
3 آپ کے پاس سرمایہ موجود ہے
اگر آپ کے پاس سرمایہ موجود ہے تو اس سے کمانے کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں: ٭ تجارت: یعنی تیار شدہ چیزکی خرید و فروخت کے ذریعے نفع کمانا۔ اس میں ہول سیل ار ریٹیل بھی دونوںکام کیے جا سکتے ہیں۔
٭ صنعت: کوئی چیز بنانا اور بیچنا۔
٭سرمایہ کاری: خود کچھ نہ کرنا بلکہ سرمایہ شرکت یا مضاربت کی بنیاد پر دے دینا اور اس پر نفع کمانا۔ ٭ وکالت: ایک صورت یہ ہے سرمایہ دے دینا کہ اس سے کاروبار کرو لیکن تم میرے وکیل ہو، تمہیں تمہاری فیس ملے گی۔ کاروبار بھی میرا ہے اورنفع بھی میرا ہو گا۔

٭ کرایہ داری: ایک صورت یہ بھی ہے کو ئی ایسا اثاثہ خرید لیں، جس سے اسے ختم کیے بغیر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اسے کرائے پر دے دیں جیسے گھر یا گاڑی وغیرہ۔

یہ مختلف کمانے کے طریقے تھے ان میں سے تمام طریقے جائز ہیں۔ مختلف احادیث کی روشنی میں علمائے کرام ایسی تجارت کو افضل قرار دیتے ہیں جس میں اپنا کاروبار ہو کسی کی ملازمت نہ ہو۔ لیکن تمام طریقوں میں شریعت کی تعلیمات کا پاس رکھنا بہر حال ضروری ہے۔ کیونکہ بعض اوقات اصولی طور پر معاملہ درست ہوتا ہے، لیکن علم نہ ہونے کی وجہ سے اسے عملا کرنے میں ایسی غلطی ہو سکتی ہے جس سے وہ معاملہ شرعی اعتبار سے درست نہ رہے۔ لہذا ہم معاملات کے حوالے سے علم بھی حاصل کریں اور اپنے معاملات کو شریعت کے مطابق کرنے کی فکر بھی کریں۔ ان شاء اللہ شریعت پر عمل سے ہماری آخرت کی کامیابی تو یقینی ہے لیکن تجربہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالی ایسے آدمی کی دنیا بھی خراب نہیں کرتے۔