3 حقیقی کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی  بینک کا اصل کام تو کاروباری مقاصد کے لیے مالیات کی فراہمی ہے۔ اسی بنیاد پر اسے مروجہ مالیاتی نظام میں ایک اہم رکن تصور کیا جاتا ہے… لیکن کیا بینک صرف کاروباری مقاصد کے لیے سرمایہ فراہم کرتے ہیں؟ اس کا جواب ہے: نہیں، کیونکہ صرفی اخراجات کے لیے دیے جانے والے قرضوں کی بھی ایک فہرست موجود ہے۔ گھر بنانے کے لیے، گاڑی کے لیے، مزید اعلی معیار زندگی برقرار رکھنے کے لیے اورکریڈٹ کارڈ کا اجرا،وغیرہ…یہ تمام غیر کاروباری قرضے ہیں۔

 

بینک صرف اپنا نفع کمانے کے لیے ان جگہوں پر مالیات فراہم کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرے میں طبقاتی فرق پیدا ہوتا ہے۔ ایک طبقہ اپنی آمدنی سے ایک لائف اسٹائل مینٹین کر سکتا ہے، مگر حرص و ہوس میں مبتلا وہ لوگ جو اس لائف اسٹائل کو مینٹین نہیں کر سکتے،بینک انہیں مواقع فراہم کرتا ہے کہ قرض کے ذریعے وہ بھی وہی لائف اسٹائل اختیار کریں۔ نتیجہ قرضوں میں جکڑ جانے کی صورت میں آتا ہے۔ ایسے افراد اپنا سب کچھ ان قرضوں میں لٹا دیتے ہیں۔ اگر مالیات کی فراہمی شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں: مضاربت و شراکت داری پر ہوتی تو مالیات صرف کاروبار ہی میں لگتا۔ اب جو حقیقت میں مال کے حق دار اور معاشرے کے لیے مفید ہیں، وہی مالیات لیتے اور وہ مالیات کاروبار میں لگ کر پورے معاشرے کے لیے مفید ہوتی۔

4 معاشی بیماریوں کا علاج
سود کی بنیاد پر مالیات کی فراہمی کے نتیجے میں مالیات صرف انہیں ملتا ہے جو پہلے ہی مالدار ہوں۔ وہ ایک بڑا سرمایہ بینک سے لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ سرمایہ بینک کے بہت سارے چھوٹے چھوٹے ڈپازیٹرز سے لیا ہوتا ہے، ایک متعین شرح سود پر مل جاتا ہے۔ اس کے بعد کاروبار میں ہونے والے نفع کا مالک یہ سرمایہ دار خود ہوتا ہے۔ رہ گیا سود تو وہ اسے اپنے اخراجات میں شامل کر کے اپنے کسٹمرز سے وصول کر لیتا ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ جن کے سرمائے سے یہ سرمایہ دار اس کاروبار کے قابل ہوا تھا، انہیں اس شرح سے بہت کم شرح سے سود ملتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ شرح سے سود اشیا و خدمات کی لاگتوں میں شامل ہو چکا ہوتا ہے، لہذا صارف جو بینک سے ایک معمولی سود لے کر خوش ہو رہا ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ اسے اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ سرمائے پر ہونے والا کل نفع سرمایہ دار کی جیب میں گیا، صارف کو جو ملا وہ اس نے قیمتوں کی گرانی کی صورت میں واپس کر دیا۔ مزید معیشت کو غربت، غیر منصفانہ تقسیم دولت اور مہنگائی ایسی معاشی بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اگر یہی پورا کام اسلام کے اصول شرکت و مضاربت کی بنیاد پر ہوتا تو اول بینک اور ڈپازٹرز کے درمیان نفع کی شرح تقسیم طے ہوتی۔ مزید بینک اور کاروبار کے درمیان کوئی تقسیمِ نفع کی شرح طے ہوتی جو کاروبار مکمل ہو جانے کے بعد معلوم ہوتا، لہذا اس کی لاگت یہ کاروبار اپنی لاگتوں میں نہیں لگا پاتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ کاروباری فرد ایک اچھا خاصا حصہ بینک کو دے دیتا اور بینک بھی یہ نفع پہلے سے طے شدہ شرح کے مطابق ڈپازٹرز تک پہنچانے کا پابند ہوتا۔ جس کے نتیجے میں تقسیم دولت زیادہ منصفانہ ہوتی، غریب اور امیر کے درمیان فرق کم ہوتا، مہنگائی بھی اتنی نہ ہوتی۔

خلاصہ بحث
بہر حال! سرمایہ کاری کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے شریعت میں مضاربت اور شرکت کے معاہدات مسلمانوں کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے شرکت کے کاروبار کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے۔ خود آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ مضاربت کا معاملہ فرمایا تھا۔

سود کو چھوڑ کر ان معاہدات کو اپنانا، ان کی بنیاد پر سرمائے کی فراہمی ہمارے ایمان کا تقاضا تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی ان پر عمل کی برکت سے ہماری بہت سے لاعلاج معاشی بیماریاں بھی دور فرما دیں گے۔

آج اسلامی بینک، تاجروں سے نالاں ہیں۔ ان میں امانت داری اور دیانت داری کا فقدان ہے۔ ہم کیسے ان شریعت کے حقیقی اصولوں پر عمل کریں۔ یاد رکھیے! شریعت کے نفاذ کے حقیقی اثرات اس وقت تک نظر نہیں آ سکتے جب تک ہم شریعت کے حقیقی اصولوں پر عمل نہ کریں۔ تو آئیے! مارکیٹوں میں اسلامی نظام معیشت سے مہکتی فضا بنائیں۔ جب آپس میں مالیات کی ضرورت ہو تو شرکت و مضاربت کو بنیاد بنائیں۔ اسلامی بینکوں سے بھی مطالبہ کریں کہ وہ مالیات ہمیں مثالی شرعی بنیادوں پر فراہم کریں۔ چاہے اس میں ہمیں نسبتا زیادہ لاگت آئے، لیکن ان شاء اللہ شریعت پر عمل کی نیت سے کریں گے تو اللہ تعالی راضی ہو جائیں گے اور تھوڑے میں برکت دے دیں گے۔