اگر ہم سے سوال کیاجائے کہ ہماری آمدنی حلال ہے؟ یقینا ہم تھوڑا سا سوچ کر یہ جواب دے دیں گے: ہاں! حلال ہے۔ مثال کے طور پرمیں ملازمت کرتا ہوں، یہ ایک حلال ذریعہ آمدنی ہے۔میں تجارت کرتا ہوں، یہ ایک حلال ذریعہ معاش ہے۔میں نے مکان کرائے پر دیا ہوا ہے، یہ روزگار کا ایک حلال ذریعہ ہے۔میں نے اپنا سرمایہ مضاربت کی بنیاد پر لگایا ہوا ہے،اس کے حلال ہونے میں کوئی شک نہیں۔میں کسی دوسرے کے سرمائے سے کام کررہا ہوں،شریعت نے اسے بھی ایک حلال ذریعہ آمدنی بنایا ہے۔


٭…کسی شریک کے لیے متعین مقدار نفع کی مقرر کرنا درست نہیں۔جیسے ہونے والے نفع میں سے 10 ہزار روپے توایک شریک کے لیے مقرر کردے جائیں۔ اس کے بعد بچا ہوا نفع دوسرے کے لیے یا پھر بقایا نفع کو تقسیم کرلیا جائے، یہ درست نہیں ٭


کیامیرا یہ جواب درست ہے؟کیا کسی کام کا شرعاً اصولی طور پر حلال ذریعہ آمدن ہونا، میری کمائی کے پاکیزہ ہونے کے لیے کافی ہے؟کیا میں مطمئن ہوجاؤں کہ چونکہ میں تجارت کررہا ہوں اور تجارت کو شریعت نے ایک حلال ذریعہ آمدن قرار دیا ہے، لہذا میری آمدنی حلال ہے؟یا مزید بھی مجھے سوچنے کی ضرورت ہے؟کیا صرف اصولی طور پر ذریعہ آمدنی کا حلال ہونا کافی ہے؟یا اپنی آمدنی کو حلال کرنے کے لیے مزید ذمہ داری بھی میرے اوپر ہے؟

آئیے! دیکھتے ہیں اس حوالے سے شریعت ہم سے کیا مطالبہ کرتی ہے؟مزید شرکت و مضاربت کی بنیاد پر میں کمارہا ہوں تو شریعت اس کے کیا اصول مجھے دیتی ہے؟ مروجہ شرکت و مضاربت میںہم سب کہاں شرعی اعتبار سے کمی پائی جاتی ہے ؟اور یہ کمی ایک جائز معاملے کو خراب کر دیتی ہے۔

آمدنی کب حلال ہوتی ہے؟
آمدنی کے حلال ہونے کے لیے دو مرحلے ہیں:
ایک یہ کہ بنیادی طورپر ذریعہ آمدنی حلال ہو،جیسے: تجارت یا ملازمت۔اگر ذریعہ آمدنی ہی حلال نہیں تو چاہے کتنی محنت کی جائے،کتنا ہی امانت داری سے کام کیاجائے، آمدنی حلال نہیںہو سکتی۔جیسے اگر جوے کے ذریعے آمدنی حاصل کی جارہی ہے تو چاہے کتنے ہی انصاف سے کیا جائے، چاہے کتنا ہی شفاف ہولیکن یہ حلال نہیں ہو سکتا ۔
دوسرے مرحلے میں بنیادی ذریعہ حلال ہونے کے بعد اس ذریعے کے لیے شریعت کے دیے گئے اصول بھی پورے ہونا ضروری ہیں۔جیسے میرا ذریعہ معاش تجارت ہے۔ حلا ل ہے۔لیکن میں چیز کے اپنے قبضے میں آنے سے پہلے بیچ دیتا ہوں۔یہ شریعت کے اصولوں کے خلاف ہے۔اس سے میری آمدنی پاکیزہ نہیں رہے گی۔

لہذا جس طرح ہمیں اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ ہماری آمدنی کا ذریعہ حلال ہے یا نہیں؟ اسی طرح یہ بھی اہم ہے کہ ہم کام شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق کررہے ہیں یا نہیں؟گزشتہ مضمون میں شرکت و مضاربت کی ضرورت و اہمیت پر کچھ گفتگو ہوئی تھی، آج شرکت و مضاربت کے بنیادی اصول دیکھتے ہیں۔یا درکھیے! یہاں صرف بنیادی باتیں ہی کی جارہی ہیں، تاہم اہل علم سے ہم مسلسل مشورے میں رہیں اور اپنے کاروبار کو شریعت کے دائرے میں کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔

شرکت و مضاربت کا تعلق ایک سے زائد افراد کا کاروباری مقصد کے لئے جمع ہونے، اور مشترکہ طور پر کاروبار کرنے اور حاصل ہونے والے نفع و نقصان میں شرکت سے ہے۔شرکت و مضاربت کے اصولوں کو ہم پانچ عنوانات کے تحت سمجھتے ہیں۔

شرکا کے لیے اصول
کاروباری معاہدات کے لیے شریعت کا عام اصول ہے کہ یہ معاہدات وہ شخص کرسکتا ہے جس میں بنیادی اہلیت ہو۔بنیادی اہلیت حاصل ہونے کا فیصلہ سمجھ داری کی بنیاد پر ہوتا ہے، یعنی ایک تو کاروباری معاہدہ کرنے والا پاگل، مجنون،مدہوش نہ ہو اور ساتھ ساتھ بالغ اور کاروباری سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہے۔

یہی عام اصول شرکت و مضاربت کے لیے بھی ہوگا کہ شرکت و مضاربت کرنے والے شرکاء سمجھ دار لوگ ہوں، جو شریعت اور قانون کی نظر میں معاہدے کے نتیجے میں آنے والی ذمہ داریاں قبول کرنے کے قابل ہوں۔ سرمائے کے لیے اصول

سرمائے کے حوالے سے اصولی بات تو یہ ہے کہ سرمایہ نقد صورت میں ہو، لیکن مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم اس حوالے سے فرماتے ہیں: ’’مشارکہ میں لگایا جانے والا سرمایہ نقد شکل میں بھی ہوسکتا ہے اور غیر نقد اشیا کی شکل میں بھی،دوسری صورت میں غیر نقد اشیا کی بازاری قیمت کے ذریعے’’ راس المال‘‘ میں اس شریک کے حصہ کا تعین کیا جائے گا۔‘‘ (اسلامی بینکاری کی بنیادیں،ص:96)

عبارت میں راس المال سے مراد سرمایہ ہی ہے۔یہ اصول جس طرح شرکت کے لیے ہے، اسی طرح مضاربت کے لیے بھی ہے، لہذا سرمایہ نقد شکل یا اشیا دونوں صورتوں میں ہوسکتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ شرکت یا مضاربت کے آغاز میں ہی یہ متعین ہوجائے کہ کل سرمایہ کتنا ہے اور شرکت کی صورت میں کس شریک کا سرمایہ کتنا ہے۔کیونکہ نفع نقصان کا حساب اس ابتدائی سرمائے کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے۔

نفع و نقصان کی تقسیم کے اصول
شرکت و مضاربت کا معاہدہ کرتے ہوئے یہ اصول ذہن میں رہیں:
1 نفع کی تقسیم کی شرح طے کر لی جائے، مثلا:اگر دوافراد مل کر کوئی کاروبار کررہے ہیں۔ہر ایک نے 5،5لاکھ روپے لگائے۔اب معاہدے کے وقت ہی یہ بات طے کرنا ضروری ہوگا کہ ملنے والا نفع کس شرح سے تقسیم ہوگا۔ مثال کے طور پر50:50 کی شرح سے تقسیم ہوگا یا 60:40 کی شرح سے۔

2 نفع کی مقدار حقیقی نفع کی شرح سے طے کی جائے۔یہ بات بھی ضروری ہے کہ نفع کی تقسیم کی شرح حقیقی منافع کی نسبت سے طے ہوجائے جیسے یہ کہ ہونے والے حقیقی نفع کا 40 فیصد ایک شریک کا اور 60فیصد دوسرے شریک کا ہوگا۔

3 سرمایہ کاری کی نسبت سے نفع کی مقدار طے کرنا درست نہی، جیسے: دو افراد نے 6 اور 4 لاکھ سے کاروبار شروع
کیا۔اب 6لاکھ والا یہ کہے کہ میری سرمایہ کاری( 6 لاکھ) کا 10 فیصد میرا نفع ہوگا باقی تمہارا تو یہ درست نہیں ہو گا۔ یہ بالکل ایسا ہوگا جیسے سود کی صورت میں ہوتا ہے کہ مجھ سے یہ 6لاکھ قرض لے لو اور اس پر 10 فیصد سود دے دینا۔ یہ جائز نہیں۔

4کسی شریک کے لیے متعین مقدار نفع کی مقرر کرنا درست نہیں۔جیسے ہونے والے نفع میں سے 10 ہزار روپے توایک شریک کے لیے مقرر کردے جائیں۔ اس کے بعد بچا ہوا نفع دوسرے کے لیے یا پھر بقایا نفع کو تقسیم کرلیا جائے، یہ درست نہیں۔

5 نفع میں شرکت کی کوئی بھی شرح طے کی جاسکتی ہے۔ البتہ وہ شریک جس کے لیے کام نہ کرنے کی شرط ہو، اس کے نفع کی شرح اس کے سرمائے کی شرح سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔اس کو اس طرح سمجھیںکہ عامر،آصف اور فیصل تین دوستوں نے مل کر کاروبار شروع کیا۔عامر نے 20 لاکھ، آصف نے 30 لاکھ اور فیصل نے50 لاکھ کا سرمایہ لگایا۔ اس ایک کروڑ میں عامر کا 20 فیصد،آصف کا 30فیصد اور فیصل کا 50فیصد سرمایہ ہے۔ان میں سے عامر کہتا ہے کہ میں نے کاروبار میں پیسہ تو لگایا ہے لیکن میں کام نہیں کروںگا۔ باقی دو بھی اس پر راضی ہیں۔اب آصف اور فیصل کے لیے تو جو چاہیں باہمی رضامندی سے نفع کی تقسیم کی شرح رکھ سکتے ہیں، مثلاً: آصف اور فیصل کے لیے 40، 40 فیصد نفع طے کرلیا جاتا ہے۔اب اس صورت میںعامر کو زیادہ سے زیادہ نفع کا 20 فیصد مل سکتا ہے۔ اس سے زیادہ نفع کی تقسیم کی شرح عامر کے لئے مقرر کرنا درست نہیں ہو گا، کیونکہ اس کا سرمائے میں حصہ 20 فیصد ہے۔

6 نقصان ہمیشہ سرمائے میں شرکت کی شرح سے ہی برداشت کرنا ہوگا۔مضاربت کی صورت میںچونکہ 100 فیصد نفع سرمایہ کار کا ہے تو نقصان بھی پوراا سی کو برداشت کرنا پڑے گا۔کام کرنے والے کی محنت ضائع ہوجائے گی۔اوپر دی گئی مثال میںنفع میں تو آصف اور فیصل کی شرح نفع 40,40 فیصد ہے، لیکن نقصان کی صورت میں آصف 40 فیصد اورفیصل 50فیصد نقصان برداشت کرے گا۔

7 مضاربت کی صورت میں مختلف کاروباروں کے لئے تقسیم نفع کی مختلف شرح رکھی جاسکتی ہے، جیسے: سرمایہ کار پیسے دے کر کہے کہ اگر تم ٹیکسٹائل سیکٹر میں کاروبار کرو، تو ہونے والے نفع میں میں 50 فیصد نفع لوں گا اور اگر سیمنٹ انڈسٹری میں کاروبار کرو گے تو ہونے والے نفع میں 40 فیصد نفع میرا ہوگا۔

8 مضارب یعنی کاروبار کرنے والااپنے نفع میں حصے کے علاوہ کسی تنخواہ یا کسی اور اخراجات کا حقدار نہیں ہو گا، جیسے: ایسا کوئی معاہدہ کرنا کہ ہونے والے نفع میں مضارب کا 50 فیصد حصہ ہوگا، مزید یہ چونکہ کام کررہا ہے تو ماہانہ 5ہزار روپے اس کی تنخواہ بھی ہوگی، یہ درست نہیں ہوگا۔

کاروبار کے انتظام کے لیے اصول شرکت کا عمومی اصول تو یہ ہے کہ تمام شرکا کو کاروبار کا انتظام سنبھالنے کا حق ہے۔البتہ مضاربت کی صورت میں سرمایہ لگانے والا فریق معاہدہ کرتا ہی اس شرط پر ہے کہ وہ صرف سرمایہ لگائے گا اور دوسرا فریق کاروبار کا نظم سنبھالے گا، لہذا وہ رب المال (سرمایہ لگانے والا)مضارب( کام کرنے والا) شریک کی مرضی کے بغیر کاروباری انتظام میں مداخلت نہیں کرسکے گا۔اسی طرح شرکت میں بھی تمام شرکا کو کاروبار میں حصہ لینے کا حق ہے، لیکن جو شریک کام نہ کرنا چاہے تو وہ اپنے حق سے دستبردار ہوسکتا ہے۔

جو شرکا کاروباری عمل میں حصہ لے رہے ہوں گے تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ دوسرے شرکا کے وکیل ہونے کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔یوں کاروبار کی ذمہ داری تمام شرکا پر لازم ہوجائے گی،جیسے:اگر ایک شریک دوسروں کی رضا مندی کے ساتھ قرض لیتا ہے تو وہ تمام شرکا پر لازم ہوجائے گا۔

کاروبار کو ختم کرنے کے اصول
1 شرکت و مضاربت اصولی طور پر عقود غیر لازم ہیں۔ یعنی تمام فریق میں سے جو چاہے دوسرے کی رضامندی کے بغیر اس عقد کو ختم کرسکتا ہے۔
2 شر کا میں سے کسی کے انتقال کی وجہ سے بھی شرکت کا کاروبار ختم ہوجائے گا۔
3 اسی طرح شرکا میں سے کوئی ایک بھی اگر شرعا یا قانونا نااہل ہوجائے تو بھی یہ معاہدات ختم ہوجائیں گے۔
کاروبار جاری رکھتے ہوئے شرکت ختم کرنا
کیا یہ ممکن ہے کہ کاروبار چلتا رہے اور شرکا میں سے جو جاناہے ، چلا جائے؟اس کا جواب ہے: ہاں، ممکن ہے۔ اس کی صورت یہ ہو گی کہ کاروبار چلانے والے شرکا اس شریک کا حصہ خرید لیں جو کاروبار چھوڑ کر جانا چاہ رہا ہے۔مزید یہ شرط معاہدے کے شروع میں بھی لگائی جاسکتی ہے کہ کسی خاص مدت سے پہلے یہ کاروبار ختم نہیں کیاجائے گا۔اس دوران اگر کوئی جانا چاہے تو اپنا حصہ شرکا کو بیچے اور چلا جائے۔ اس طرح کاروبار چلتا رہے گا اور شرکا چاہے کم و بیش ہوتے رہیں۔

یہ کچھ بنیادی اصول شرکت و مضاربت کے آپ کے سامنے پیش کیے باقی تفصیلی احکام ہم اہل علم سے معلوم کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی کاروباری زندگی کے علم کو سیکھیں اور اپنی کاروباری زندگی کو شریعت کے مطابق گزاریں۔یاد رکھیے! نماز،روزہ ،زکوۃ ،حج تمام عبادات مبارک ہیں لیکن ایک حرام کا لقمہ ہمیں تمام عبادات کی قبولیت سے محروم کرسکتا ہے۔ہم اپنی کاروباری زندگی پر توجہ دیں اور اسے شریعت کے احکامات کے مطابق گزاریں۔ اللہ پاک ہم سب کو مکمل دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔