٭…ایک تاجر کے لیے حکمت عملی کی اہمیت سمجھنا، اقسام کا جائزہ لینا، بنانا اور پھر عملا اس کا نفاذ ،طویل مدت تک کاروبار میں رہنے کے لیے نہایت ضروری ہے
٭…رمضان المبارک کے ماہ مغفرت میںہم اس بات کا عزم کریں کہ اپنے کاروبار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائیں گے
حکمت عملی بنانے سے زیادہ اہمیت، اس حکمت عملی کے نفاذ (implementation)کی ہے۔

ان پانچ قوتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ادارہ تین میں سے کوئی ایک حکمت عملی بنا سکتا ہے: ئامتیاز(Differentiation):اس حکمت عملی میں فرم کی پروڈکٹ کو دیگر فرموں کی پروڈکٹ سے ممتاز کیا جاتا ہے۔ صارف کو ا س کی امتیازی خصوصیات پہنچانے کے لیے تشہیر کاری(Advertisement) کا سہارا لیا جاتا ہے،تا کہ صارف محسوس کرے کہ پروڈکٹ دیگر پروڈکٹ سے الگ ہے۔

٭…ادارے میں ایماندار، محنتی اسٹاف کا ہونا، کسی ادارے کے نظام ایماندار اور محنتی اسٹاف، نظام کی مضبوطی اور مالی استحکام، ادارے کی ترقی کے لیے ناگریز ہیں۔
٭…اسلامی تعلیمات میں اخلاق کا حصہ جس طرح تفصیل سے موجود ہے، جتنا مضبوط اور جس قدر عملی ہے، کسی اور مذہب اور زندگی گزارنے کے طریقے میں موجود نہیں

منتظم کی ذمہ داریوں میں پہلی ذمہ داری کاروبار کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ قرآن و سنت کی ہدایات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی نظم وضبط، منصوبہ بندی اور مقررہ اہداف کے حصول کی تگ و دو سے تعبیر ہے۔ اسلام فضول کاموں کی سختی سے حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اعمال کا دارو و مدار نیتوں پر

٭۔۔۔۔۔۔ ضرورت اس بات کی ہے مسلمان ہو نے کی حیثیت سے ہم مروجہ غیر شرعی کاروباری اخلاقیات کی روک تھام کریں اور نبوی اخلاق پر اپنے کاروباری اخلاقیات کی بنیاد رکھیں
٭۔۔۔۔۔۔ماہرین علم نظمیات کے مطابق کاروباری اخلاقیات 4 بنیادوں پرمتعین ہوتے ہیں: نظریہ افادہ، نظریہ ذاتی مفاد، نظریہ اخلاقی

٭۔۔۔۔۔۔ تصوراتی، انسانی اور تکنیکی مہارتوں پر محنت کر کے ایک عام ملازم ٹاپ مینجمنٹ تک پہنچ سکتا ہے

٭۔۔۔۔۔۔ ایک مسلمان منتظم یہ سب کام سنت نبویﷺ کی نیت سے کرے تو دنیا میں بھی ترقی کرے گا اور آخرت کے اچھے انجام سے بھی محروم نہ ہوگا

٭۔۔۔۔۔۔درمیانے درجے کے منیجرز پروموشن چاہتے ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مہارتوں کو حاصل کریں