ملازمین کو نیا جذبہ دیں

کاروباری ترقی کے راز ملازمین کو نیا جذبہ دیں ٭…ہمارا اور ملازم کا رشتہ نکاح کی طرح ہے۔ یہ مرتے دم تک باقی رہنے کے لیے ہے۔ حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے، اسی طرح نوکری میں سب سے ناپسندیدہ چیز ملازم کو فارغ کرنا ہے یہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی کہانی ہے۔ کمپنی نے دوسرے شہر میں اپنی شاخ بنائی۔ نئی شاخ کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری تھا کہ تجربہ کار عملہ وہاں منتقل کیا جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انکم ٹیکس کیسے ادا کریں؟

انکم ٹیکس کیسے ادا کریں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید دنیا میں کوئی ملک ٹیکس جمع کیے بغیر ترقی نہیں کر رہا۔ ہمارے بہت سے لوگ ٹیکس ادائیگی کے طریقہ کار سے نا واقف ہوتے ہیں۔ ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری عمومی طور پر وکیل کے ذمہ لگا دی جاتی ہے۔ مگر حقیقت میں یہ بہت آسان کام ہے۔ اس مضمون میں ہم انکم ٹیکس کے قانون کا جائز لیں گے اور پھر گوشوارے جمع کروانے کے طریقہ کا ر پر گفتگو کریں گے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ملازمین کو اہمیت دینا

عبدالمنعم فائز ملازمین کو اہمیت دینا کاروباری ترقی کا مجرب راز فاسٹ فوڈ کا نام سنتے ہی آپ کے ذہن پر میکڈونلڈ کا نام دستک دینے لگتا ہے۔ مگر کیا کبھی آپ نے سوچا کہ میکڈونلڈ نے اس مقام کو کیسے حاصل کیا؟ یہ ایسی کمپنی ہے جس میں ملازمت کرنا ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے۔ اس کے ملازم دوسرے اداروں کی طرح نہیں جو ہر لمحہ بہتر نوکری کی فکر میں لگے رہیں۔ مشہور ہے کہ ملازمین کی حوصلہ افزائی میکڈونلڈ کے ڈی این اے میں شامل ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاجر’’کیریئر پلاننگ ‘‘کیسے کرے؟

بچہ ابھی چلنے کے قابل ہوتا ہے کہ ماں باپ اس کے مستقبل اور کیریئر کی فکر شروع کر دیتے ہیں۔ چند ہی دنوں میں وہ بھاری بھر کم بستہ لٹکائے اسکول کی طرف رواں نظر آنے لگتا ہے۔ ہر سال امتحانوں کا کڑا مرحلہ طے کرکے ایک درجہ آگے بڑھتا ہے۔ پرائمری سے سیکنڈری، میٹرک سے گریجویشن اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہوا عملی زندگی میں قدم رکھ دیتا ہے۔ اب اس کی زندگی ایک مخصوص تجارت یا ملازمت سے منسلک ہوکر رہ جاتی ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

جھگڑے یوں حل ہوتے ہیں

احمد آج بہت غصے میں تھا۔ وہ بہت مشکل سے کھانا کھا سکا تھا۔ ’’میں اب یہ شور مزید برداشت نہیں کرسکتا‘‘ اس نے اپنے دوست کو بتایا۔ جب بھی دفتر میں آئو کوئی نہ کوئی آواز مستقل آتی رہتی ہے۔ میرا دفتر کا ساتھی تو مزے سے سنتا ہے مگر میرے لیے کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

’’تو تم اس سے بات کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘ ’’یار! دو تین بار اشاروں کنایوں میں کہہ چکا ہوں، اب مزید کیا کہوں؟ اس سے لڑپڑوں؟ میں تو کسی دن پاگل ہی ہوجائوں گا۔ ‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

جھگڑے یوں حل ہوتے ہیں

احمد آج بہت غصے میں تھا۔ وہ بہت مشکل سے کھانا کھا سکا تھا۔ ’’میں اب یہ شور مزید برداشت نہیں کرسکتا‘‘ اس نے اپنے دوست کو بتایا۔ جب بھی دفتر میں آئو کوئی نہ کوئی آواز مستقل آتی رہتی ہے۔ میرا دفتر کا ساتھی تو مزے سے سنتا ہے مگر میرے لیے کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ’’تو تم اس سے بات کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘ ’’یار! دو تین بار اشاروں کنایوں میں کہہ چکا ہوں، اب مزید کیا کہوں؟ اس سے لڑپڑوں؟ میں تو کسی دن پاگل ہی ہوجائوں گا۔ ‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔