کاروباری دنیا: سنگین اخلاقی بحران کا شکار

کاروباری دنیا میں ہر طلوع ہونے والا سورج نت نئے انقلابات کی نویدسناتاہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کاروباری طور طریقوں کو یکسر بدل کررکھ دیا ہے۔ فاصلے اتنے سمٹ گئے ہیں کہ دنیا ایک گائوں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر دنیا کے کسی بھی ملک میں کاروباری معاملات چند سیکنڈز میں نہایت آسانی کے ساتھ طے کر سکتے ہیں۔لیکن اس ساری ترقی کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا میں ایک سنگین بحران نے بھی جنم لیا ہے۔ گزشتہ دو عشروں میں جہاں الیکٹرانک کامرس اور الیکٹرانک مارکیٹنگ اپنے عروج کو پہنچی، وہاں انہی دو عشروں میں دنیا کی صفِ اول کی کمپنیز میں بڑے بڑے کاروباری اسکینڈلز بھی سامنے آئے۔آیئے! چند اہم کاروباری اخلاقی پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کمپنی :دستور ایسے مرتب کریں

کسی بھی ادارے یا آرگنائزیشن کو چلانے کے لیے کچھ مخصوص قواعد و ضوابط ہوتے ہیں، جن کی پاسداری ضروری ہوتی ہے۔ کمپنی چاہے پرائیویٹ ہو یا پبلک،اپنے ان مخصوص قوانین و ضوابط پر کار بند رہتی ہے، جو کمپنی کے میمورنڈم آف ایسوسی ایشن اور آرٹیکل آف ایسوسی ایشن میں موجود ہوتے ہیں۔ یوں تو کمپنی سے متعلق تمام قوانین کمپنی آرڈیننس 1984 ء میں لکھ دیے گئے ہیں۔ کمپنی ان قوانین کی خلاف ورزی کسی بھی صورت نہیں کر سکتی۔ لیکن چونکہ بزنس گوناں گوں قسم کے ہیں اور ہر کمپنی کا نیچر آف بزنس دوسری کمپنی سے مختلف ہوتا ہے،اس لیے کمپنیاں اندرون خانہ کچھ اصول مقرر کرتی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

موثر نگرانی

منیجر کی اہم ذمہ داری
حدیث پاک میں آتا ہے: ’’تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور کل قیامت کے دن اس نگرانی کے بارے میں سوال ہو گا۔‘‘

ایک منیجر اپنے کام کا آغازمنصوبہ بندی کے عمل سے کرتا ہے۔ جس کے لیے وہ اہداف کا تعین (Goal setting) کرتا ہے۔پھر ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لیے کام تقسیم کرتا ہے۔ ضروری وسائل کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔ اس کے بعد اپنی بہترین لیڈر شپ صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے اپنے ماتحتوں سے کام کرواتا ہے۔ جس کے لیے وہ ماتحتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ بہترین تعلقات رکھتا ہے۔ ادارے میں کام ہونے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بزنس کا سفر 21 رہنما ہدایت

کاروبار شروع کرنے کے لیے صرف سرمائے کے ساتھ ساتھ عقل مندی، دیانت داری، ایمان داری اور تجربے کی بھی بہت اہمیت ہے۔ کوئی بھی کاروبار اسلام کے اصولوں اور ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت اور حیات طیبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو اس میں برکت تو ہے ہی، وہ دیگر کاروباروں میں یقیناً ایک نمایاں مقام حاصل کر لیتا ہے۔ ذیل میں چند کار آمد باتیں ذکر کی جاتی ہیں، جن پر عمل پیرا ہو کر بآسانی کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے اور اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کاروباری ترقی کے راز

’’الحمد للہ! آج ہماری دکان کو 12 سال پورے ہو گئے ہیں۔ ایک دہائی سے زیادہ کا یہ سفر کیسی تیزی سے گزر گیا، پتا ہی نہیں چلا۔ اللہ کے فضل سے ہماری دکان کا شمار مارکیٹ کی ہی نہیں، بلکہ شہر کی بھی بڑی اور قابل اعتماد دکانوں میں ہوتا ہے۔ ہم مارکیٹ میں سب سے پہلے دکان کھولتے ہیں، پھر بھی گاہک ہمارے انتظار میں باہر کھڑے ہوتے ہیں اور شام میں سب سے پہلے بند کر دیتے ہیں، اس وقت بھی گاہک دکان کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ ہم ان سے معذرت کر کے کہتے ہیں کہ دکان کا وقت ختم ہو گیا ہے، آپ براہ مہربانی ساتھ والی دکان سے بقایا سودا لے لیں، ان کے پاس بھی وہی چیز ہے۔اس پر گاہک کہتے ہیں کہ ہم کل آپ سے ہی آ کر بقایا سامان لے لیں گے۔ آپ یہ بتائیں کہ دکان کب کھولتے ہیں؟ اور ہاں! ہم ظہر، عصر اور مغرب ان نمازوں کے اوقات میں بھی دکان بند رکھتے ہیں، چاہے گاہک آئے ہوں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیم ورک طریقۂ انتظام میں فیصلہ سازی

’’ٹیم ورک طریقہ انتظام‘‘ آج کی دنیا کا ایک مقبول طریقہ ہے۔ اس طریقے کے مطابق افراد کو ملا کر ایک ٹیم بنا دی جاتی ہے اور کام ان کی مشترکہ ذمہ داری میں دے دیا جاتا ہے۔ جیسے نئی پروڈکٹ ڈیزائن کرنے کے لیے ایک ٹیم بنا دی جائے جس کے ذمہ موجودہ پروڈکٹ کا جائزہ لے کر نئی پراڈکٹ تیار کرنا ہے۔ اب یہ ٹیم اس کے لیے مشترکہ کام کرے گی۔ جدید مینجمنٹ کی تحقیقات اس پر شاہد ہیں کہ اس طریقے سے انتظامات کے نتیجے میں کام زیادہ بہتر انداز میں ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بدلتی دنیا میں اپنے آپ کو مقابلے میں شامل رکھنے بھی یہ طریقہ مفید ہے۔ جب ٹیم کام کرتی ہے تو بہت سے معاملات میں ان کو فیصلہ سازی کرنا پڑتی ہے۔ جیسے اپنے کاموں کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے یقینا فیصلہ کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔