القرآن
بقا صرف خالق کے لیے

اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔ اور صرف تمہارے پروردگار کی جلال والی، فضل و کرم والی ذات باقی رہے گی۔ اب بتاؤ کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (الرحمن: 28-26)

 

 


الحدیث
تین چیزیں

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جس کی روح جسد خاکی سے جدا ہوگئی ہو اور تین چیزوں سے محفوظ ہو، تو جنت میں داخل ہوگا: مال غنیمت کی چوری سے، قرض سے اور تکبر سے۔‘‘ (سنن کبریٰ: 355)

القرآن
عذاب سے بچنے والے

قومِ لوط پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط علیہ السلام کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا، یہ ہماری طرف سے ایک نعمت تھی۔ جو لوگ شکر گزار ہوتے ہیں، ان کو ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ (القمر: 35،34)

 

 


  الحدیث
ذخیرہ اندوزی ، کتنی خطر ناک؟

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلہ وغیرہ روک کر رکھے تاکہ وہ جب مہنگا ہوجائے، تب مسلمانوں کو فروخت کرے تو وہ گنہگار ہے، اللہ اور اس کا رسول اس سے بَری ہے۔ (کنزالعمال: 97/4)

القرآن
بدلہ بقدرِ محنت

اور یہ کہ انسان کو خود اپنی کوشش کے سوا کسی اور چیز کا (بدلہ لینے کا) حق نہیں پہنچتا، اور یہ کہ اُس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی، پھر اُس کا بدلہ اُسے پورا پورا دیا جائے گا۔ (سورہ النجم: 41،40،39)

 

 


  الحدیث
صبح بابرکت

  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رزق کے حاصل کرنے میں دن کا شروع وقت اختیار کرو کہ دن کے شروع وقت میں برکت ہے اور کامیابی ہے۔(مجمع الزوائد: 64/4)

القرآن
رحمن کون؟

وہ رحمن ہی ہے، جس نے قرآن کی تعلیم دی۔ اُسی نے انسان کو پیدا کیا، اُسی نے اُس کو بات واضح کرنا سکھایا۔ (الرحمن: 4-1)

 

   


  الحدیث
عیب نہ چھپائیں

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی سے سامان کی کسی ایسی بات کو چھپائے کہ وہ جان لیتا تو خریدنا چھوڑ دیتا۔‘‘ (مجمع الزوائد: 80/4)

القرآن
گناہ گاروں نہ گھبراؤ!

(اللہ تعالیٰ بہترین بدلہ عطا کرے گا) ان لوگوں کو جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، البتہ کبھی کبھار پھسل جانے کی بات اور ہے۔ یقین رکھو تمہار اپروردگار بہت وسیع مغفرت والا ہے۔ (سورہ النجم: 32)

 

 


  الحدیث
اللہ کی ایک شرط

  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ میں دو مل کر کام کرنے والوں کے ساتھ رہتا ہوں، جب تک کوئی ایک دوسرے سے خیانت نہ کرے۔ جب خیانت کرتا ہے تو دونوں کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔ (ابوداؤد: 480)