القرآن

زیادہ دولت ملنا حق پرہونے کی علامت نہیں
جن لوگوں نے کفراپنالیا،ان کے لیے دنیوی زندگی بڑی دلکش بنادی گئی اور وہ اہل ایمان کا مذاق اُڑاتے ہیں،حالانکہ جنہوںنے تقوی اختیارکیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیںبلند ہوںگے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔(سورہ البقرہ:112)
تفسیر [معلوم ہوا کہ] دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ دنیوی رزق کے لیے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے۔ یہاں اللہ تعالی جس کو چاہتاہے بے حساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ (آسان ترجمہ قرآن :106)

 


  الحدیث

اللہ محبت کرتے ہیں ایسے دولت مند سے۔

حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:''اﷲ تعالیٰ اس متقی پرہیز گار دولت مند سے محبت کرتا ہے، جولوگوں میں غیر معروف اور چھپا ہوا ہو۔'' (مسلم شریف)

فائدہ:
دنیا کی دولت کے ساتھ اللہ کی محبت بلا کسی مشقت و مجاہدے کے مل رہی ہو تو اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوگی ؟ حدیث کے الفاظ یہ بھی بتاتے ہیں اس عظیم انعام کے حصول کے لیے تین شرطیں ہیں : (1) تقویٰ اختیار کرے (2) نخوت ، تکبر اور بے جا اظہار سے گریزاں ہو(3) اس دولت کو دین کے تقاضوں کے مطا بق استعمال کرتا ہو۔