القرآن

کسب کمال کی ضرورت
اورمدین کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب کوبھیجا۔انہوں نے کہا:’’اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی عبادت کرو۔اس کے سواتمہاراکوئی معبودنہیں ہے۔تمہارے پاس تمہارے پروردگارکی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔لہذاناپ تول پوراپوراکیاکرو،اورجوچیزیں لوگوں کی ملکیت میںہیں،اُن میں اُن کی حق تلفی نہ کرو۔اورزمین میں اُس کی اصلاح کے بعدفسادبرپانہ کرو۔یہی طریقہ تمہارے لیے بھلائی کاہے،اگرتم میری بات مان لو۔(سورۃالاعراف:85،آسان ترجمہ قرآن:341)  

 


  الحدیث

کسب حلال کی فضیلت

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ بہتر غذا ہرگز کوئی نہیں کھاتا اور اﷲ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی دستکاری سے کھاتے تھے۔‘‘ (بخاری شریف)

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ بہتر غذا ہرگز کوئی نہیں کھاتا اور اﷲ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی دستکاری سے کھاتے تھے۔‘‘ (بخاری شریف) فائدہ:تب پھر ہم کیوں کتراتے ہیں،کوئی حلال پیشہ اختیار کرنے سے؟ہم کیوں عار محسوس کرتے ہیں ایسے کام کرنے سے جسے نبیوں نے اللہ کا کا حکم سمجھ کر انجام دیا!