القرآن

اور جن چیزوں میں اللہ نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے ان کی تمنا نہ کرو،مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا،اورعورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو۔بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔( النسائ:32)
فائدہ:مالی، علمی اور تذکیر وتانیث کے لحاظ سے فرق مراتب اللہ کی حکمتوں کا آئینہ دار ہے۔ آخرت کی کمائی ہر ایک کی اپنی ہے۔ نیکی بھی اپنی اور گناہ بھی خود پر۔ تاہم آخر دم تک کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اللہ کا فضل دنیا اور آخرت دونوں میں طلب اور محنت سے ملتا ہے۔

 


  الحدیث

 

حضرت رکب مصری رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’خوشخبری ہو اس کے لیے جس کی کمائی پاک ہو۔‘‘ (طبرانی)

فائدہ:
ہمیں یقین ہے اس جہان میں ہم نے بہت تھوڑے دن رہ کر اگلے جہان میں جا کر ڈیرہ لگانا ہے۔ ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ہمارے عقیدے کے بالکل متصادم ہے۔ سو، ایک مسلمان تاجر کا اصول ’’تجارت برائے آخرت‘‘ کا ہے۔ لہذا حدیث پاک کے مطابق پاک کمائی کر کے اگلے کی خوشخبری کے ضرور مستحق ہوں۔


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔