القرآن

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کا شہروں میں (خوشحالی کے ساتھ) چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ تو تھوڑا سا مزہ ہے (جو یہ اُڑا رہے ہیں) پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بد ترین بچھونا ہے۔(سورہ اٰل عمران:(196/197
تشریح:
یہ تو واضح ہے کہ دنیا کی حیثیت ایک مسلمان کے نزدیک ایک سرائے سے زیادہ نہیں۔ آخرت کے طویل سفر کے دوران یہاں کچھ وقت رک کر اگلے جہان کو سدھاریں گے۔ لہذا اس میں آنے والے پریشانیاں اور اپنی مشکلات پر نہ زیادہ پریشان ہونا چاہیے نہ کہ کافروں کی کرّو فرّدبہت زیادہ حیران ہونے کی ضرورت ہے۔دونوں ہی عارضی ہیں۔

 


  الحدیث

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’میری امت کے تمام لوگ جنت میں داخل ہو گے، سوائے اس شخص کے جو (جنت میں جانے سے) انکار کر دے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا: بھلا وہ کون شخص ہو گا جو (جنت جانے سے) سے انکار کرے؟آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’جس شخص نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اور جس شخص نے میرے نافرمانی کی گویا اس نے (جنت جانے سے) انکار کیا۔‘‘(صحیح البخاری: 7280)