القرآن

اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو اور اُن (یتیموں) کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ، بے شک یہ بڑا گناہ ہے۔ اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو (ان سے نکاح کرنے کے بجائے) دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں، دو دو سے تین تین سے اور چار چار سے۔ ہاں! اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ تم (ان بیویوں) کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو، یا ان کنیزوں پر جو تمہاری ملکیت میں ہیں۔ اس طریقے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بے انصافی میں مبتلا نہیں ہو گے۔ (النسائ:2/3)
تشریح:اس آیت میں سرپرستوں کو تین ہدایتیں دی گئی ہیں: ایک یہ کہ جب بچے بالغ اور سمجھ دار ہو جائیں تو ان کی امانت، دیانت داری سے ان کے حوالے کر دو۔ دوسرے یہ کہ بددیانتی نہ کرو کہ ان کو ان کے باپ کی طرف سے تو میراث میں اچھی قسم کا مال ملا تھا مگر تم وہ مال خود رکھ کر گھٹیا قسم کی چیز اس کے بدلے میں دے دو۔ اور تیسرا ایسا نہ کرو کہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ گڈمڈ کر کے اس کا کچھ حصہ جان بوجھ کر یا بے پروائی سے خود استعمال کر بیٹھو۔ (آسان ترجمہ قرآن:185)

 


  الحدیث

  جھوٹ نحوست 
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ ایک میل دور چلا جاتا ہے۔‘‘ (سنن الترمذی:1972)
فائدہ:اس میں کسے شک ہے کہ ’’سچ ‘‘ایک نہایت بہترین اور قابل تعریف صفت ہے کہ جس سے مو من کو آراستہ ہونا چاہیے ۔راست گوئی انسان کے عظیم شخصیت ہونے کی علامت ہے ۔جب کہ ’’جھوٹ بولنا‘‘ اس کے پست ، ذلیل اور حقیر ہونے کی نشانی ہے ، جس سے ہر مو من کو پرہیز کرنا چاہیے۔ تاجر کمیونٹی خصوصا توجہ کرے کہ بازار کی روایات کے برعکس سچ کو رواج دے۔ جھوٹ کی نحوست سے بچے اور سچ کی برکات سے مستفید ہو۔