القرآن

پڑوسی کو نہ ستاؤ
القرآن: اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی (اچھا برتاؤ رکھو)۔ بیشک اللہ کسی اِترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔ (سورہ النسا: 36)
تشریح:
پڑوسی چاہے رشتہ دار ہو یا اجنبی، مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کا گھر بالکل ملا ہوا ہو یا ایک دو گھر چھوڑ کر ہو ان سب کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ ’’ساتھ بیٹھے ہوئے پڑوسی‘‘ سے مراد سفر کے دوران ساتھ بیٹھا یا کھڑا ہو، یا کسی مجلس یا کسی لائن میں لگے ہوئے آپ کے قریب ہو۔ وہ بھی ایک طرح کا پڑوسی ہے۔ اس سے بھی آگے ہر راہ گیر اور مسافر کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن: 197/198)

 


  الحدیث
اللہ پکارتا ہے

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرما کر ارشاد فرماتے ہیں:٭ کوئی ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ ٭ کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں؟ ٭ کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت چاہے اور میں اس کی مغفرت کردوں؟ (صحیح بخاری:1145)
تشریح:
ہمارے دینی، دنیاوی، گھریلو، کاروباری جتنے بھی مسائل ہیں، ان کے حل کے لیے صبح تہجد کے وقت جاگ کر اللہ سے رو رو کر مانگیے۔ اللہ خود آپ کو پکار رہا ہے۔ اس پکار کا جواب دیجیے۔ ضرور آپ کی فریاد سنی جائے گی۔ ذرا کبھی جاگ کر مانگیے تو سہی!