القرآن
جیسی کرنی، ویسی بھرنی

اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، وہ بھی اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جنہوں نے بُرے کام کیے ہیں، وہ اُن کو ان کے عمل کا بھی بدلہ دے گا اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، ان کو بہترین بدلہ عطا کرے گا۔ ( النجم: 31)

 

 


  الحدیث
قرض ایک رکاوٹ

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی اللہ کے راستے میں شہید کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے، تب بھی جنت میں داخل نہ ہوگا تاوقتیکہ قرض ادا نہ کیا جائے، اگر اس پر قرض ہو گا۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح)

القرآن

اﷲ کے ہاں دولت کی قدر و قیمت اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمٰن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان کے گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنادیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں، اور ان کے گھروں کے دروازے بھی، اور وہ تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں، بلکہ انہیں سونا بنا دیتے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کا سامان ہے۔ آخرت تمہارے پروردگار کے نزدیک پرہیز گاروں کے لیے ہے۔ (33-35)

تفسیر:  بتلانا یہ مقصود ہے کہ دنیاکامال و دولت اﷲ تعالی کے نزدیک اتنی بے حقیقت چیز ہے کہ اﷲ تعالیٰ کافروں سے ناراض ہونے کے باوجود ان کے آگے سونے چاندی کے ڈھیر لگا سکتا ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن: 1028)

 


  الحدیث

استغفار کی برکت سے

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالی اسے ہر غم سے چھٹکارا اور ہر تنگی سے کشادگی عنایت فرماتے ہیں، اور اسے ایسی جگہوں سے رزق عطافرماتے ہیں جن کا اس کے وہم و گمان میں گزر تک نہیں ہوتا۔ (ابوداؤد: 1518)

 

  


   مسنون دعا

کسی کے ہاں دعوت پر جائے

اَلَلّٰھُمَّ اَطْعِمْ مَنْ اَطْعَمَنِیْ وَاسْقِ مَنْ سَقَانِیْ۔

ترجمہ:
اے اللہ! جس نے مجھے کھلایا تو اسے کھلا اور جس نے مجھے پلایا تو اسے پلا۔

 

القرآن

جنت کے مستحق
اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ اُن پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کر دینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔(آل عمران:133،134-آسان ترجمہ قرآن: 167)
تشریح:
ان آیات میں چند واضح پیغامات دیے گئے ہیں۔ ’’مسابقت‘‘( مقابلہ بازی) جنت اور اعمال جنت کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ دنیا کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی دھن مین۔ نیز مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ ضروری ہے کہ آدمی غمی و خوشی دونوں حالتوں میں اللہ اور مسلمانوں کے حقوق کو فراموش نہ کرے۔ علاوہ ازیں غصہ پی جانا اور لوگوں کی کوتاہیاں معاف کرتے رہنا یہ سب صفات اللہ کو بے حد پسند ہیں۔

 


  الحدیث
ایک گناہ ایسا

  حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’گانا (موسیقی) دل میں نفاق (منافقت) اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو پیدا کرتا ہے۔‘‘ (السنن الکبری للبیھقی:21537)
تشریح:
دورجدید میں کیسٹس، سی ڈیز، ڈی وی ڈیز، ایم پی تھری، فور پلئیرز اور کئی دیگر آلات کے ذریعے گانے والیاں اور گانے والے ہر جگہ موجود ہیں۔ ہم مسلمانوں کی شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جسے ہم نے شیطان کی آواز سے بچا کے رکھا ہو۔ جب قوم کسی گناہ میں اجتماعی طور پر مبتلا ہو جاتی ہے تو پھر اللہ کا عذاب اترنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالی اپنی خاص رحمت سے ہمیں اِن عذابوں سے بچائے رکھے۔

القرآن

غربت کی وجہ سے قتل نہ کرو
(ان سے) کہوکہ:’’آئو!میں تمہیں پڑھ کرسنائوں کہ تمہارے پروردگارنے (درحقیقت)تم پرکو ن سی باتیں حرام کی ہیں۔وہ یہ ہیںکہ اُس کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائو،اورماں باپ کے ساتھ اچھاسلوک کرو اورغربت کی وجہ سے اپنے بچوں کوقتل نہ کرو۔ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اوراُن کوبھی۔اوربے حیائی کے کاموں کے پاس نہ پھٹکو، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہویاچھپی ہوئی،اورجس جان کواللہ نے حرمت عطا کی ہے اسے کسی برحق وجہ کے بغیر قتل نہ کرو۔لوگو! یہ وہ باتیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تمہیں کچھ سمجھ آئے۔(سورہ الانعام:150،آسان ترجمہ:316)
۔(سورہ الانعام:150،آسان ترجمہ:316)

 


  الحدیث

مال ودولت: نعمت بھی، فتنہ بھی

حضرت کعب بن عیاض رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے سنا ،ہر امت کے لیے کوئی خاص آزمائش ہوتی ہے اور میری امت کے لیے خاص آزمائش مال ہے۔ (ترمذی شریف)

فائدہ:
مال کو آزمائش اس لیے کہا گیا کہ جس کے پاس مال آجاتا ہے وہ اپنے خدا اور اس کے احکامات کو بھول جاتاہے ۔ علامہ رومی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول: یہ دنیا پانی میں تیرتی کشتی کی مانند ہے،اگرپانی اس کے اندر داخل ہو جائے تو وہ ڈوب جاتی ہے۔ آدمی اسی وقت تک بچا رہے گا جب تک کہ مال ودولت کی محبت اس کے دل میں گھس نہ جائے۔


القرآن

اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو اور اُن (یتیموں) کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ، بے شک یہ بڑا گناہ ہے۔ اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو (ان سے نکاح کرنے کے بجائے) دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں، دو دو سے تین تین سے اور چار چار سے۔ ہاں! اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ تم (ان بیویوں) کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو، یا ان کنیزوں پر جو تمہاری ملکیت میں ہیں۔ اس طریقے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بے انصافی میں مبتلا نہیں ہو گے۔ (النسائ:2/3)
تشریح:اس آیت میں سرپرستوں کو تین ہدایتیں دی گئی ہیں: ایک یہ کہ جب بچے بالغ اور سمجھ دار ہو جائیں تو ان کی امانت، دیانت داری سے ان کے حوالے کر دو۔ دوسرے یہ کہ بددیانتی نہ کرو کہ ان کو ان کے باپ کی طرف سے تو میراث میں اچھی قسم کا مال ملا تھا مگر تم وہ مال خود رکھ کر گھٹیا قسم کی چیز اس کے بدلے میں دے دو۔ اور تیسرا ایسا نہ کرو کہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ گڈمڈ کر کے اس کا کچھ حصہ جان بوجھ کر یا بے پروائی سے خود استعمال کر بیٹھو۔ (آسان ترجمہ قرآن:185)

 


  الحدیث

  جھوٹ نحوست 
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ ایک میل دور چلا جاتا ہے۔‘‘ (سنن الترمذی:1972)
فائدہ:اس میں کسے شک ہے کہ ’’سچ ‘‘ایک نہایت بہترین اور قابل تعریف صفت ہے کہ جس سے مو من کو آراستہ ہونا چاہیے ۔راست گوئی انسان کے عظیم شخصیت ہونے کی علامت ہے ۔جب کہ ’’جھوٹ بولنا‘‘ اس کے پست ، ذلیل اور حقیر ہونے کی نشانی ہے ، جس سے ہر مو من کو پرہیز کرنا چاہیے۔ تاجر کمیونٹی خصوصا توجہ کرے کہ بازار کی روایات کے برعکس سچ کو رواج دے۔ جھوٹ کی نحوست سے بچے اور سچ کی برکات سے مستفید ہو۔