القرآن

جنت کے مستحق
اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ اُن پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کر دینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔(آل عمران:133،134-آسان ترجمہ قرآن: 167)
تشریح:
ان آیات میں چند واضح پیغامات دیے گئے ہیں۔ ’’مسابقت‘‘( مقابلہ بازی) جنت اور اعمال جنت کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ دنیا کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی دھن مین۔ نیز مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ ضروری ہے کہ آدمی غمی و خوشی دونوں حالتوں میں اللہ اور مسلمانوں کے حقوق کو فراموش نہ کرے۔ علاوہ ازیں غصہ پی جانا اور لوگوں کی کوتاہیاں معاف کرتے رہنا یہ سب صفات اللہ کو بے حد پسند ہیں۔

 


  الحدیث
ایک گناہ ایسا

  حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’گانا (موسیقی) دل میں نفاق (منافقت) اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو پیدا کرتا ہے۔‘‘ (السنن الکبری للبیھقی:21537)
تشریح:
دورجدید میں کیسٹس، سی ڈیز، ڈی وی ڈیز، ایم پی تھری، فور پلئیرز اور کئی دیگر آلات کے ذریعے گانے والیاں اور گانے والے ہر جگہ موجود ہیں۔ ہم مسلمانوں کی شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جسے ہم نے شیطان کی آواز سے بچا کے رکھا ہو۔ جب قوم کسی گناہ میں اجتماعی طور پر مبتلا ہو جاتی ہے تو پھر اللہ کا عذاب اترنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالی اپنی خاص رحمت سے ہمیں اِن عذابوں سے بچائے رکھے۔

القرآن

غربت کی وجہ سے قتل نہ کرو
(ان سے) کہوکہ:’’آئو!میں تمہیں پڑھ کرسنائوں کہ تمہارے پروردگارنے (درحقیقت)تم پرکو ن سی باتیں حرام کی ہیں۔وہ یہ ہیںکہ اُس کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائو،اورماں باپ کے ساتھ اچھاسلوک کرو اورغربت کی وجہ سے اپنے بچوں کوقتل نہ کرو۔ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اوراُن کوبھی۔اوربے حیائی کے کاموں کے پاس نہ پھٹکو، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہویاچھپی ہوئی،اورجس جان کواللہ نے حرمت عطا کی ہے اسے کسی برحق وجہ کے بغیر قتل نہ کرو۔لوگو! یہ وہ باتیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تمہیں کچھ سمجھ آئے۔(سورہ الانعام:150،آسان ترجمہ:316)
۔(سورہ الانعام:150،آسان ترجمہ:316)

 


  الحدیث

مال ودولت: نعمت بھی، فتنہ بھی

حضرت کعب بن عیاض رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے سنا ،ہر امت کے لیے کوئی خاص آزمائش ہوتی ہے اور میری امت کے لیے خاص آزمائش مال ہے۔ (ترمذی شریف)

فائدہ:
مال کو آزمائش اس لیے کہا گیا کہ جس کے پاس مال آجاتا ہے وہ اپنے خدا اور اس کے احکامات کو بھول جاتاہے ۔ علامہ رومی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول: یہ دنیا پانی میں تیرتی کشتی کی مانند ہے،اگرپانی اس کے اندر داخل ہو جائے تو وہ ڈوب جاتی ہے۔ آدمی اسی وقت تک بچا رہے گا جب تک کہ مال ودولت کی محبت اس کے دل میں گھس نہ جائے۔


القرآن

اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو اور اُن (یتیموں) کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ، بے شک یہ بڑا گناہ ہے۔ اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو (ان سے نکاح کرنے کے بجائے) دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں، دو دو سے تین تین سے اور چار چار سے۔ ہاں! اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ تم (ان بیویوں) کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو، یا ان کنیزوں پر جو تمہاری ملکیت میں ہیں۔ اس طریقے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بے انصافی میں مبتلا نہیں ہو گے۔ (النسائ:2/3)
تشریح:اس آیت میں سرپرستوں کو تین ہدایتیں دی گئی ہیں: ایک یہ کہ جب بچے بالغ اور سمجھ دار ہو جائیں تو ان کی امانت، دیانت داری سے ان کے حوالے کر دو۔ دوسرے یہ کہ بددیانتی نہ کرو کہ ان کو ان کے باپ کی طرف سے تو میراث میں اچھی قسم کا مال ملا تھا مگر تم وہ مال خود رکھ کر گھٹیا قسم کی چیز اس کے بدلے میں دے دو۔ اور تیسرا ایسا نہ کرو کہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ گڈمڈ کر کے اس کا کچھ حصہ جان بوجھ کر یا بے پروائی سے خود استعمال کر بیٹھو۔ (آسان ترجمہ قرآن:185)

 


  الحدیث

  جھوٹ نحوست 
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ ایک میل دور چلا جاتا ہے۔‘‘ (سنن الترمذی:1972)
فائدہ:اس میں کسے شک ہے کہ ’’سچ ‘‘ایک نہایت بہترین اور قابل تعریف صفت ہے کہ جس سے مو من کو آراستہ ہونا چاہیے ۔راست گوئی انسان کے عظیم شخصیت ہونے کی علامت ہے ۔جب کہ ’’جھوٹ بولنا‘‘ اس کے پست ، ذلیل اور حقیر ہونے کی نشانی ہے ، جس سے ہر مو من کو پرہیز کرنا چاہیے۔ تاجر کمیونٹی خصوصا توجہ کرے کہ بازار کی روایات کے برعکس سچ کو رواج دے۔ جھوٹ کی نحوست سے بچے اور سچ کی برکات سے مستفید ہو۔

  

القرآن

اے ایمان والو! تمہاری ''دولت'' اور تمہاری ''اولاد'' تمہیں اﷲ کی یاد سے غافل نہ کرنے پائیں اور جو لوگ ایسا کریں گے، وہ بڑے گھاٹے کا سو دا کرنے والے ہوں گےo اور ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے، اس میں (اﷲ کے حکم کے مطابق) خرچ کر لو! قبل اس کے تم میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو وہ کہے کہ: ''اے میرے پروردگار! تو نے مجھے تھوڑی دیر کے لیے اور مہلت کیوں نہ دے دی کہ میں خوب صدقہ کرتا، اور نیک لوگوں میںشامل ہو جاتا''o اور جب کسی شخص کا معین وقت آجائے گا تو اﷲ اسے ہرگز مہلت نہیں دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو، اﷲ اس سے پوری طرح باخبر ہے   (المنافقون، 9 تا 11،آسان ترجمہ قرآن: 1190)

 


  الحدیث

مذاق میں بھی بلااجازت استعمال ممنوع ہے

حضرت سائب بن یزید اپنے والدسے روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی اپنے دوسری بھائی کی لکڑی اور چھڑی بھی نہ لے، نہ ہنسی مذاق میں اور نہ لینے کے ارادہ سے۔ پس اگر لے لیوے تو اس کو واپس لوٹائے۔'' (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

تشریح:
مطلب یہ ہے کہ کسی بھائی کی لکڑی اور چھڑی کی طرح حقیر او رمعمولی چیز بھی بغیر اس کی مرضی اور اجازت کے نہ لی جائے۔ ہنسی مذاق میں بھی نہ لی جائے اور اگر غفلت یا غلطی سے لی گئی تو واپس ضرور لوٹائی جائے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ ایسی معمولی چیز کا واپس کرنا کیا ضروری ہے۔ اﷲ تعالیٰ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی ان ہدایات کی اہمیت محسوس کرنے کی توفیق دے۔ (معارف الحدیث:536\7)


   مسنون دعا

قرض کے بوجھ سے نکلنے کے لیے

جب کوئی شخص قرض میں گرفتار ہوجائے تو یہ دعا کیا کرے: اَلَلّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ.

ترجمہ
اے اﷲ! تو مجھے اپنا حلال رزق دے کر حرام سے بچالے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بے نیاز کر دے۔

 

القرآن

اے ایمان والو!کئی گنابڑھاچڑھاکرسود مت کھائو،اور اللہ سے ڈرو،تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔اور اللہ اور اس کے رسو ل کی بات مانو،تاکہ تم سے رحمت کا برتائو کیا جائے۔
تشریح:
اس آیت نے خبردار کردیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے۔یہاں سود کو کئی گنا بڑ ھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتاتھا کہ سود اصل سے کئی گنابڑھ جاتا تھا اس لیے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے،ورنہ سورہ البقرہ آیت (277اور 278)میں صاف واضح کردیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی زیادتی ہو وہ سود میں داخل اور حرام ہے۔

 


  الحدیث

  کعبے سے زیادہ معزز
حضرت عبدا للہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ ارشاد فرما رہے تھے:

فائدہ:
’’(اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدر ت میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی جان ہے! مومن کی جان و مال کی حرمت و تقدس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت و تقدس بھی زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔‘‘(سنن ابن ماجہ:3932)

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔