القرآن

مردہ شہر
(بارش برسا کر مختلف چیزیں اگائیں) تاکہ ہم بندوں کو رزق عطا کریںاور (اس طرح) ہم نے اس پانی سے ایک مردہ پڑے ہوئے شہر کو زندگی دے دی۔ بس اس طرح (انسانوں کا قبروں سے) نکلنا بھی ہوگا۔ (سورہ ق:11)

 

 


  الحدیث
اللہ پکارتا ہے

  (بارش برسا کر مختلف چیزیں اگائیں) تاکہ ہم بندوں کو رزق عطا کریںاور (اس طرح) ہم نے اس پانی سے ایک مردہ پڑے ہوئے شہر کو زندگی دے دی۔ بس اس طرح (انسانوں کا قبروں سے) نکلنا بھی ہوگا۔ (سورہ ق:11)

القرآن

اے ایمان والو! تمہاری ''دولت'' اور تمہاری ''اولاد'' تمہیں اﷲ کی یاد سے غافل نہ کرنے پائیں اور جو لوگ ایسا کریں گے، وہ بڑے گھاٹے کا سو دا کرنے والے ہوں گےo اور ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے، اس میں (اﷲ کے حکم کے مطابق) خرچ کر لو! قبل اس کے تم میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو وہ کہے کہ: ''اے میرے پروردگار! تو نے مجھے تھوڑی دیر کے لیے اور مہلت کیوں نہ دے دی کہ میں خوب صدقہ کرتا، اور نیک لوگوں میںشامل ہو جاتا''o اور جب کسی شخص کا معین وقت آجائے گا تو اﷲ اسے ہرگز مہلت نہیں دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو، اﷲ اس سے پوری طرح باخبر ہے   (المنافقون، 9 تا 11،آسان ترجمہ قرآن: 1190)

 


  الحدیث

مذاق میں بھی بلااجازت استعمال ممنوع ہے

حضرت سائب بن یزید اپنے والدسے روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی اپنے دوسری بھائی کی لکڑی اور چھڑی بھی نہ لے، نہ ہنسی مذاق میں اور نہ لینے کے ارادہ سے۔ پس اگر لے لیوے تو اس کو واپس لوٹائے۔'' (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

تشریح:
مطلب یہ ہے کہ کسی بھائی کی لکڑی اور چھڑی کی طرح حقیر او رمعمولی چیز بھی بغیر اس کی مرضی اور اجازت کے نہ لی جائے۔ ہنسی مذاق میں بھی نہ لی جائے اور اگر غفلت یا غلطی سے لی گئی تو واپس ضرور لوٹائی جائے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ ایسی معمولی چیز کا واپس کرنا کیا ضروری ہے۔ اﷲ تعالیٰ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی ان ہدایات کی اہمیت محسوس کرنے کی توفیق دے۔ (معارف الحدیث:536\7)


   مسنون دعا

قرض کے بوجھ سے نکلنے کے لیے

جب کوئی شخص قرض میں گرفتار ہوجائے تو یہ دعا کیا کرے: اَلَلّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ.

ترجمہ
اے اﷲ! تو مجھے اپنا حلال رزق دے کر حرام سے بچالے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بے نیاز کر دے۔

 

القرآن

بے حیائی پھیلانے والے
جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی یعنی تہمت بدکاری کی خبر پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہو گا اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (سورۃ النور:19)
فائدہ:
بخل، زنا، برہنگی و عریانی، چوری،شراب نوشی، بھیک مانگنا، گالیاں بکنا اور بد کلامی ایسی خرابیوں کے باعث افرادِ انسانی کو ہر وقت مادّی اور روحانی نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔ جب یہ افعال کسی قوم میں جڑ پکڑ لیں اور ان پر گرفت کرنے والا کوئی نہ ہو تو پوری قوم اس کی لپیٹ میں آجاتی ہے اور سارا معاشرہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتا ہے۔ سعادت و اقبال کا دروازہ اس پر اس وقت تک کے لیے بند ہو جاتا ہے جب تک وہ اپنی اصلاح نہ کر لے۔

 


  الحدیث

  حصہ بقدر محنت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: تم میں کوئی جنگل سے اپنی پشت پر لکڑیوں کی گٹھری کاٹ کر لائے (پھر اسے فروخت کر کے اپنا گزر بسر کرے) یہ اس کے لیے اس سے کئی گنا بہتر ہے کہ کسی سے سوال کرے پھر وہ اسے دے یا نہ دے۔(صحیح بخاری:237)
تشریح:
اس حدیث پاک کا سبق یہ ہے کہ رزق کا مالک صرف اللہ ہے اور اسی پر بھروسہ کرنا ضروری ہے۔ اسی سے یہ اصول بھی سمجھ میں آیا کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے انسان کو گھر سے نکلنا ہوگا اور محنت ومشقت کرنی ہوگی۔ محنت کے بقدر ہی اس کاحصہ اس کو مل جائے گا اور جتنا مل جائے یہی اس کی تقدیر ہے۔

القرآن

اے ایمان والو!کئی گنابڑھاچڑھاکرسود مت کھائو،اور اللہ سے ڈرو،تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔اور اللہ اور اس کے رسو ل کی بات مانو،تاکہ تم سے رحمت کا برتائو کیا جائے۔
تشریح:
اس آیت نے خبردار کردیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے۔یہاں سود کو کئی گنا بڑ ھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتاتھا کہ سود اصل سے کئی گنابڑھ جاتا تھا اس لیے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے،ورنہ سورہ البقرہ آیت (277اور 278)میں صاف واضح کردیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی زیادتی ہو وہ سود میں داخل اور حرام ہے۔

 


  الحدیث

  کعبے سے زیادہ معزز
حضرت عبدا للہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ ارشاد فرما رہے تھے:

فائدہ:
’’(اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدر ت میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی جان ہے! مومن کی جان و مال کی حرمت و تقدس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت و تقدس بھی زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔‘‘(سنن ابن ماجہ:3932)

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن

پڑوسی کو نہ ستاؤ
القرآن: اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی (اچھا برتاؤ رکھو)۔ بیشک اللہ کسی اِترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔ (سورہ النسا: 36)
تشریح:
پڑوسی چاہے رشتہ دار ہو یا اجنبی، مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کا گھر بالکل ملا ہوا ہو یا ایک دو گھر چھوڑ کر ہو ان سب کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ ’’ساتھ بیٹھے ہوئے پڑوسی‘‘ سے مراد سفر کے دوران ساتھ بیٹھا یا کھڑا ہو، یا کسی مجلس یا کسی لائن میں لگے ہوئے آپ کے قریب ہو۔ وہ بھی ایک طرح کا پڑوسی ہے۔ اس سے بھی آگے ہر راہ گیر اور مسافر کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن: 197/198)

 


  الحدیث
اللہ پکارتا ہے

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرما کر ارشاد فرماتے ہیں:٭ کوئی ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ ٭ کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں؟ ٭ کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت چاہے اور میں اس کی مغفرت کردوں؟ (صحیح بخاری:1145)
تشریح:
ہمارے دینی، دنیاوی، گھریلو، کاروباری جتنے بھی مسائل ہیں، ان کے حل کے لیے صبح تہجد کے وقت جاگ کر اللہ سے رو رو کر مانگیے۔ اللہ خود آپ کو پکار رہا ہے۔ اس پکار کا جواب دیجیے۔ ضرور آپ کی فریاد سنی جائے گی۔ ذرا کبھی جاگ کر مانگیے تو سہی!