القرآن

انصاف کا سفر
کہو کہ: ’’میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور (یہ حکم دیا ہے کہ:) ’’جب کہیں سجدہ کرو اپنا رخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اس کو پکارو کہ اطاعت خالص اسی کا حق ہے۔ جس طرح اس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔ (سورہ الاعراف: 29)
تشریح:
انصاف کا سفر اپنی ذات سے شروع کرنا ہو گا۔ سب سے بڑا جج انسان کے اندر بیٹھا ہوتا ہے، جو ہمیں بتا تا ہے کہ یہ نہ کرو وہ نہ کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو نقصان ہو گا۔ اگر ویسا کرو گے تو تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔اس لئے اپنے اندر جھانکو، خود کو بہتر کرو، کوئی جو کرتا ہے کرے، لیکن آپ اکیلے ہی دنیا میں آئے تھے اور اکیلے ہی رب کی بارگاہ میں دنیا اور آخرت میں جواب دہ ہو۔

 


  الحدیث
دوغلی پالیسی

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’لوگوں میں سب سے برا دو چہروں والا (دو رخ والا) شخص ہے، کچھ لوگوں کے پاس ایک چہرہ (روپ) لے کر آتا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں کے پاس دوسرا چہرہ لے کر جاتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری:7179)
تشریح:
دو لوگوں کا معاملہ ہو، دو خاندانوں کا یا دو قوموں کا،عام طور پر منافقت ، تضاد اور دوغلی پالیسی ہی فساد اور باہمی نزاع کا باعث ہوتی ہے۔ جہاں بھی مفادات کا ٹکراؤ ہوگا حقوق و فرائض کا معاملہ ہوگا، یہی دوغلی پالیسی اور منافقت دوری کا سبب بنتی ہے۔ ہم اپنے اندر جھانکیں، دل کی باتوں پہ کان دھریں۔ ملامت کرنے والے نفس کی بات سنیں، ضمیر بہت اچھا استاد، بہت پیارا دوست ہے۔

القرآن

پڑوسی کو نہ ستاؤ
القرآن: اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی (اچھا برتاؤ رکھو)۔ بیشک اللہ کسی اِترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔ (سورہ النسا: 36)
تشریح:
پڑوسی چاہے رشتہ دار ہو یا اجنبی، مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کا گھر بالکل ملا ہوا ہو یا ایک دو گھر چھوڑ کر ہو ان سب کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ ’’ساتھ بیٹھے ہوئے پڑوسی‘‘ سے مراد سفر کے دوران ساتھ بیٹھا یا کھڑا ہو، یا کسی مجلس یا کسی لائن میں لگے ہوئے آپ کے قریب ہو۔ وہ بھی ایک طرح کا پڑوسی ہے۔ اس سے بھی آگے ہر راہ گیر اور مسافر کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن: 197/198)

 


  الحدیث
اللہ پکارتا ہے

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرما کر ارشاد فرماتے ہیں:٭ کوئی ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ ٭ کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں؟ ٭ کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت چاہے اور میں اس کی مغفرت کردوں؟ (صحیح بخاری:1145)
تشریح:
ہمارے دینی، دنیاوی، گھریلو، کاروباری جتنے بھی مسائل ہیں، ان کے حل کے لیے صبح تہجد کے وقت جاگ کر اللہ سے رو رو کر مانگیے۔ اللہ خود آپ کو پکار رہا ہے۔ اس پکار کا جواب دیجیے۔ ضرور آپ کی فریاد سنی جائے گی۔ ذرا کبھی جاگ کر مانگیے تو سہی!

القرآن

اور جولوگ اس (مال) میں بخل سے کام لیتے ہیں جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے عطا کیا ہے وہ ہر گز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے کوئی اچھی بات ہے۔ اس کے برعکس یہ ان کے حق میں بہت بری بات ہے۔ جس مال میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہو گا قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا اور سارے آسمان اور زمین کی میراث صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔(سورہ ال عمران:180)
تشریح:
وہ بخل جسے حرام قرار دیا گیا ہے، یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالی خرچ کرنے کا حکم دیں انسان وہاں خرچ نہ کرے۔ مثل: زکوۃ نہ دے۔ ایسی صورت میں جو مال انسان بچا کر رکھے گا قیامت کے دن وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ حدیث میں اس کی تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ ایسا مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں منتقل کر کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا:’’میں ہوں تیرا مال! میں ہوں تیرا جمع کیا ہوا خزانہ!‘‘ (آسان ترجمہ قرآن:177/178)

 


  الحدیث

  حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے راویت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول صلی اللہ علیہ و سلم! میں (اپنے) خادم کی غلطی کو کتنی مرتبہ معاف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم خاموش رہے، انہوں نے پھر وہی عرض کیا: میں (اپنے) خادم کو کتنی مرتبہ معاف کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: روزانہ ستر مرتبہ۔(سنن الترمذی:1949)

فائدہ:
’’آئی ایم باس‘‘ کا جو تصور ہمیں مغرب نے دیا ہے اور ’’پروٹوکول‘‘ کے نام پر اپنے ماتحتوں کو کیڑوں مکڑوں کی حیثیت دی جاتی ہے، یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ’’تمہیں جو کچھ رزق عطا ہوتا ہے، وہ تم میں سے کمزور لوگوں کی وجہ سے ملتا ہے۔‘‘ لہذا ہمیں یقین رکھنا چاہیے ہمیں عزت، شہرت اور دولت میں سے جتنا حصہ عطا ہوا ہے، ہمارے ملازمین اور خادموں کی وجہ سے ہے۔ سو، اپنے ان محسنین کا خاص خیال رکھیے۔



القرآن

اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! جب کبھی مسجد میں آؤ تو اپنی خوشنمائی کاسامان (یعنی لباس، جسم پر) لے کرآؤ، اور کھاؤ اورپیو، اور فضول خرچی مت کرو۔ یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کوپسند نہیں کرتا۔ (سورہ الاعراف:31، آسان ترجمہ قرآن: 327)
فائدہ:مال و دولت کی فراخی ملنے پر انسان بھولے پن یا کسی کے بہکاوے میں آکر پہلا کام یہی کرتا ہے کہ بے دریغ خرچ کرنے لگتا ہے۔ فضول خرچی یوں بھی بہت بری ہے، تاہم آیت مبارکہ کی روشنی میں سمجھ میں آتا ہے دولت محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے، اللہ کو یہ ہرگز پسند نہیں کہ انسان اللہ کے دیے ہوئے کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرے۔

 

 

 


  الحدیث

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی علیہ و سلم نے فرمایا:’’آدمی اپنی پشت پر لکڑیاں لاد کر ،انہیں بیچ کر کھائے، یہ اس کے لیے کہیں بہتر ہے اس سے کہ کسی سے سوال کرے ،پھر وہ دے یا نہ دے۔‘‘ (بخاری، مسلم، نسائی) 

فائدہبھکاری کسی بھی شکل میں ہو، برا ہے۔ خودی، خود داری اور خود انحصاری اس حدیث کا پیغام ہے۔ آپ حتی الامکان دوسرے کی محتاجی سے بچیے۔ حلال کھانے کے لیے حلال تجارت کو اختیار کیجیے۔

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217) ترجمہ: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔


  

القرآن

مثال خرچ کر نے والوں کی
ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کی سی ہے جو سات بالیں اگُاتا ہے اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں۔ اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے کئی گنا کر دیتا ہے اور اللہ گنجائش والا اور علم والا ہے۔( البقرہ:261)
فائدہ:
یہ مثال اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی ہے۔ ہمیں چاہیے جوکام کریں اخلاص کے ساتھ کریں۔ جس قدر اخلاص ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ اگر دکھلاوا ہو تو حجم میں بڑی نیکی کا ثواب ایک رائی کے برابر بھی نہیں ہوتا۔

 


  الحدیث

  حقیقی دولت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:’’انسان کہتا ہے: میرا مال، میرا مال۔ حالانکہ اس کا مال تو صرف وہی ہے جو اس نے کھا کر ختم کر دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا صدقہ کر کے آگے پہنچا دیا (باقی تو انسان کے ہاتھ سے نکل کر دوسروں کے پاس جانے والا ہے)۔‘‘ (صحیح مسلم:7609)

فائدہ:
دنیا میں رہتے ہوئے ہر چیز کو اپنا سمجھنے کے بجائے اللہ کی امانت سمجھیں۔ اللہ کے احکام کے مطابق ان کا استعمال کریں۔ اگر ہم نے مال کو اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کیا تو آخرت میں نہ صرف حساب کتاب سے بچا جا سکے گا، بلکہ یہ اعمال ہمارے لیے نجات کا باعث بھی ہوں گے۔