القرآن

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ (اللہ کی خوشنودی کے لیے) کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو، وہ والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہونا چاہیے۔ اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ (سورۃ البقرہ:215)
فائدہ:صدقہ وغیرہ کرنے میں سب سے اولین مستحق اپنے عزیز واقارب ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے یہاں یہ گنگا بھی الٹی بہتی ہے۔ اللہ جنہیں ہر خیرخواہی میں مقدم رکھنے کا حکم دیتے ہیں، ہمارے سب سے زیادہ جھگڑے انہی کے ساتھ ہیں۔ بہتر ہو اگر ہم صلہ رحمی کرتے ہوئے رشتہ داروں سے جھگڑے بھی ختم کریں اور ہدیے، عطیے میں انہیں یادر کھیں۔ اگر وہ صدقے کے مستحق ہیں تو انہیں سب سے پہلے یاد رکھیں۔

 


  الحدیث

 حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’خرید و فروخت کرنے والے کو (بیع توڑنے) کا حق ہے جب تک وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں۔ اگر بائع و مشتری سچ بولیں اور مال اور قیمت کے اور کھرے کھوٹے ہونے کو بیان کر دیں تو ان کی بیع میں برکت ہو گی۔ اور اگر عیب کو چھپا لیں اور جھوٹ بولیں تو شاید کچھ نفع تو کما لیں (لیکن) بیع کی برکت ختم ہو جائے گی۔‘‘(الترغیب: 3 586/) 

فائدہ:
فائدہ:دھوکہ دہی کسی سے بھی ہو، بری ہے۔ اس کا اثرِ بد ہمارے ظاہری اور باطنی دونوں طرح کے احوال پر پڑتا ہے۔ کاروبار کی بندش،نقصان اور مسلسل تباہی کی وجہ ہم خود ہیں۔ ہم اپنے تمام معاملات، بالخصوص مالی معاملات کو شریعت کے مطابق بنائیں، حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ کسی عامل کے پاس جانے کی ضرورت ہے نہ ہی تعویذ گنڈے کی۔

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن

کافروں کاصدقہ
جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اللہ کے مقابلے میں، نہ ان کے مال ان کے کچھ کام آئیں گے نہ اولاد۔ وہ دوزخی لوگ ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔جو کچھ یہ (کافر)لوگ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سخت سردی والی تیز ہوا ہو جو ان لوگوں کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنی جانوں پرظلم کر رکھا ہو اور وہ اس کھیتی کوبرباد کر دے۔ ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (سورہ آل عمران:114تا117)

 


  الحدیث

  دعا کی عادت بنائیے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جسے پسند ہو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مشکل حالات میں اس کی دعائیں قبول فرمائیں تو اسے چاہیے کہ وہ اچھے حالات میں خوب دعائیں مانگا کرے۔(سنن الترمذی:3382)
تشریح:حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: دُعا مانگنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود شریف پڑھے، پھر اپنے لیے اور تمام مسلمان بھائیوں کے لیے مغفرت کی دُعا کرے، پھر جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہتا ہے، مانگے۔ سب سے بڑا وسیلہ تو اللہ تعالیٰ کی رحیمی و کریمی کا واسطہ دینا ہے اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور بزرگانِ دین کے طفیل اللہ تعالیٰ سے مانگنا بھی جائز ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فقراو مہاجرین کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ سے فتح کی دُعا کیا کرتے تھے۔ (مشکوٰۃ شریف ص: 477)

  


   مسنون دعا

دوران سفر ورد زبان رکھیں
جب کسی منزل یا ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹاپ پر اترے تو یہ دعا پڑھے:
’’اُعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شِرِّ مَا خَلَقَ۔‘‘
’’اللہ کے پورے کلموں کے واسطے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘

 

ترجمہ
’’اللہ کے پورے کلموں کے واسطے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘

 

القرآن

انصاف کا سفر
کہو کہ: ’’میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور (یہ حکم دیا ہے کہ:) ’’جب کہیں سجدہ کرو اپنا رخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اس کو پکارو کہ اطاعت خالص اسی کا حق ہے۔ جس طرح اس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔ (سورہ الاعراف: 29)
تشریح:
انصاف کا سفر اپنی ذات سے شروع کرنا ہو گا۔ سب سے بڑا جج انسان کے اندر بیٹھا ہوتا ہے، جو ہمیں بتا تا ہے کہ یہ نہ کرو وہ نہ کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو نقصان ہو گا۔ اگر ویسا کرو گے تو تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔اس لئے اپنے اندر جھانکو، خود کو بہتر کرو، کوئی جو کرتا ہے کرے، لیکن آپ اکیلے ہی دنیا میں آئے تھے اور اکیلے ہی رب کی بارگاہ میں دنیا اور آخرت میں جواب دہ ہو۔

 


  الحدیث
دوغلی پالیسی

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’لوگوں میں سب سے برا دو چہروں والا (دو رخ والا) شخص ہے، کچھ لوگوں کے پاس ایک چہرہ (روپ) لے کر آتا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں کے پاس دوسرا چہرہ لے کر جاتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری:7179)
تشریح:
دو لوگوں کا معاملہ ہو، دو خاندانوں کا یا دو قوموں کا،عام طور پر منافقت ، تضاد اور دوغلی پالیسی ہی فساد اور باہمی نزاع کا باعث ہوتی ہے۔ جہاں بھی مفادات کا ٹکراؤ ہوگا حقوق و فرائض کا معاملہ ہوگا، یہی دوغلی پالیسی اور منافقت دوری کا سبب بنتی ہے۔ ہم اپنے اندر جھانکیں، دل کی باتوں پہ کان دھریں۔ ملامت کرنے والے نفس کی بات سنیں، ضمیر بہت اچھا استاد، بہت پیارا دوست ہے۔

القرآن

اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! جب کبھی مسجد میں آؤ تو اپنی خوشنمائی کاسامان (یعنی لباس، جسم پر) لے کرآؤ، اور کھاؤ اورپیو، اور فضول خرچی مت کرو۔ یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کوپسند نہیں کرتا۔ (سورہ الاعراف:31، آسان ترجمہ قرآن: 327)
فائدہ:مال و دولت کی فراخی ملنے پر انسان بھولے پن یا کسی کے بہکاوے میں آکر پہلا کام یہی کرتا ہے کہ بے دریغ خرچ کرنے لگتا ہے۔ فضول خرچی یوں بھی بہت بری ہے، تاہم آیت مبارکہ کی روشنی میں سمجھ میں آتا ہے دولت محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے، اللہ کو یہ ہرگز پسند نہیں کہ انسان اللہ کے دیے ہوئے کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرے۔

 

 

 


  الحدیث

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی علیہ و سلم نے فرمایا:’’آدمی اپنی پشت پر لکڑیاں لاد کر ،انہیں بیچ کر کھائے، یہ اس کے لیے کہیں بہتر ہے اس سے کہ کسی سے سوال کرے ،پھر وہ دے یا نہ دے۔‘‘ (بخاری، مسلم، نسائی) 

فائدہبھکاری کسی بھی شکل میں ہو، برا ہے۔ خودی، خود داری اور خود انحصاری اس حدیث کا پیغام ہے۔ آپ حتی الامکان دوسرے کی محتاجی سے بچیے۔ حلال کھانے کے لیے حلال تجارت کو اختیار کیجیے۔

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217) ترجمہ: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔


  

القرآن

اور جولوگ اس (مال) میں بخل سے کام لیتے ہیں جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے عطا کیا ہے وہ ہر گز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے کوئی اچھی بات ہے۔ اس کے برعکس یہ ان کے حق میں بہت بری بات ہے۔ جس مال میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہو گا قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا اور سارے آسمان اور زمین کی میراث صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔(سورہ ال عمران:180)
تشریح:
وہ بخل جسے حرام قرار دیا گیا ہے، یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالی خرچ کرنے کا حکم دیں انسان وہاں خرچ نہ کرے۔ مثل: زکوۃ نہ دے۔ ایسی صورت میں جو مال انسان بچا کر رکھے گا قیامت کے دن وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ حدیث میں اس کی تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ ایسا مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں منتقل کر کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا:’’میں ہوں تیرا مال! میں ہوں تیرا جمع کیا ہوا خزانہ!‘‘ (آسان ترجمہ قرآن:177/178)

 


  الحدیث

  حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے راویت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول صلی اللہ علیہ و سلم! میں (اپنے) خادم کی غلطی کو کتنی مرتبہ معاف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم خاموش رہے، انہوں نے پھر وہی عرض کیا: میں (اپنے) خادم کو کتنی مرتبہ معاف کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: روزانہ ستر مرتبہ۔(سنن الترمذی:1949)

فائدہ:
’’آئی ایم باس‘‘ کا جو تصور ہمیں مغرب نے دیا ہے اور ’’پروٹوکول‘‘ کے نام پر اپنے ماتحتوں کو کیڑوں مکڑوں کی حیثیت دی جاتی ہے، یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ’’تمہیں جو کچھ رزق عطا ہوتا ہے، وہ تم میں سے کمزور لوگوں کی وجہ سے ملتا ہے۔‘‘ لہذا ہمیں یقین رکھنا چاہیے ہمیں عزت، شہرت اور دولت میں سے جتنا حصہ عطا ہوا ہے، ہمارے ملازمین اور خادموں کی وجہ سے ہے۔ سو، اپنے ان محسنین کا خاص خیال رکھیے۔