القرآن

ملکیت کا احترام
کہو کہ: ’’میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور (یہ حکم دیا ہے کہ:) ’’جب کہیں سجدہ کرو اپنا رخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اس کو پکارو کہ اطاعت خالص اسی کا حق ہے۔ جس طرح اس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔ (الاعراف:29)

تشریح:اس میں دوسروں کی ملکیت کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔ اس احترام میں یہ بات بھی داخل ہے کہ کسی کے مال یا جائیداد پر اُس کی مرضی کے بغیر قبضہ کر لیا جائے، اور یہ بھی کہ کسی کی کوئی بھی چیز اُس کی خوش دِلی کے بغیر استعمال کی جائے۔ (آسان ترجمہ:341)

 


  الحدیث
زمانہ خراب یا ہم؟

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:زمانے کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی زمانہ ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:انسان زمانے کو برا بھلا کہہ کر مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں خود ہی ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام خیریں اور بھلائیاں ہیں اور میں ہی رات اور دن کا بدلنے والا ہوں۔(سنن الترمذی:11487)

تشریح:اصلاح احوال اور معاشرے کو بہتر رخ پر گامزن کرنے کے لیے سب سے کارگر پالیسی یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز اپنے آپ سے کیا جائے۔ ’’لوگ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ ،’’زمانہ خراب ہے‘‘، ’’کیا کریں حالات ہی ایسے ہیں؟‘‘ ایسی دہائیاں سراسر سادہ لوحی کی علامت ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنی اصلاح کی طرف سب سے پہلے توجہ دے۔

القرآن

خدا کی نعمتیں یاد رکھو!
اب جو یتیم ہے، تم اس پر سختی مت کرنااور جو سوال کرنے والا ہو، اسے جھڑکنا نہیں، اور جو تمہارے پرودگار کی نعمت ہے، اس کا تذکرہ کرتے رہنا۔(الضحیٰ:9-11)
تفسیر: سوال کرنے والے سے مراد وہ شخص بھی ہوسکتا ہے جو مالی مدد چاہتا ہو، اور وہ بھی جو حق طلبی کے ساتھ دین کے بارے میں کوئی سوال کرنا چاہتا ہو،دونوں کو جھڑکنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی عذر ہو تو نرمی سے معذرت کرلینی چاہیے۔ (آسان ترجمہ قرآن:1296)

 


  الحدیث

اﷲ کو بہت نفرت ہے اس سے ۔۔۔۔۔۔

حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ''حق تعالیٰ کو تین شخصوں سے بہت نفرت ہے۔ (1) بوڑھے زنا کار سے، (2) مفلس متکبّر سے، (3) مالدار ظالم سے۔ (ترمذی شریف)

تشریح:
ہر گناہ ہی اﷲ کو ناپسندیدہ ہے اور عتاب دلانے والا ہے، اﷲ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ تاہم ایسے گناہ کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے، جس کے ظاہر ی اسباب انسان کو اس کے روکنے کے لیے کافی ہوں اور پھر بھی اس میں مبتلا ہو جائے۔


   مسنون دعا

قرض کے بوجھ سے نکلنے کے لیے

جب کوئی شخص قرض میں گرفتار ہوجائے تو یہ دعا کیا کرے: اَلَلّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ.

ترجمہ
اے اﷲ! تو مجھے اپنا حلال رزق دے کر حرام سے بچالے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بے نیاز کر دے۔

 

القرآن

’’جوشخص کوئی نیکی لے کر آئے گا،اس کے لیے اُس جیسی دس نیکیو ں کاثواب ہے، اورجوشخص کوئی بدی لے کر آئے گا، تواس کو اسی ایک بدی کی سزادی جائے گی،اوراُن پرکوئی ظلم نہیں ہوگا۔(سورہ الانعام :160،آسان ترجمہ :318)
فائدہ :یہ دنیا دارالاسباب ہے اور زندگی کا چراغ کسی بھی وقت گل ہو سکتا ہے۔ اس دنیا میں ہم اپنی آخرت کے لیے نیک اعمال کا جو کچھ توشہ جمع کر سکے، وہی کام آئے گا۔ ایک سمجھ دار تاجر اور منتظم کی طرح آنے والے وقت کی پیش بندی کے لیے دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کے لیے بھی ساماں کیجیے۔

 


  الحدیث

  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’بلا ضرورت جائیداد مت بناؤ، اس سے دنیا کی محبت بڑھے گی۔‘‘ (سنن الترمذی: 313)

فائدہ:
جائیداد بنانے کا سپنا کس دل میں نہیں ، مگر بقدر ضرورت ہی اس کے لیے پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ حریف سے مقابلے اور محض حرص میں آکر اس اندھا دھند دوڑ میں شامل ہونا اللہ اور رسول کو ہرگز پسند نہیں۔ اس سے دنیا کی محبت بڑھتی ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن

اور جولوگ اس (مال) میں بخل سے کام لیتے ہیں جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے عطا کیا ہے وہ ہر گز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے کوئی اچھی بات ہے۔ اس کے برعکس یہ ان کے حق میں بہت بری بات ہے۔ جس مال میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہو گا قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا اور سارے آسمان اور زمین کی میراث صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔(سورہ ال عمران:180)
تشریح:
وہ بخل جسے حرام قرار دیا گیا ہے، یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالی خرچ کرنے کا حکم دیں انسان وہاں خرچ نہ کرے۔ مثل: زکوۃ نہ دے۔ ایسی صورت میں جو مال انسان بچا کر رکھے گا قیامت کے دن وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ حدیث میں اس کی تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ ایسا مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں منتقل کر کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا:’’میں ہوں تیرا مال! میں ہوں تیرا جمع کیا ہوا خزانہ!‘‘ (آسان ترجمہ قرآن:177/178)

 


  الحدیث

  حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے راویت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول صلی اللہ علیہ و سلم! میں (اپنے) خادم کی غلطی کو کتنی مرتبہ معاف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم خاموش رہے، انہوں نے پھر وہی عرض کیا: میں (اپنے) خادم کو کتنی مرتبہ معاف کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: روزانہ ستر مرتبہ۔(سنن الترمذی:1949)

فائدہ:
’’آئی ایم باس‘‘ کا جو تصور ہمیں مغرب نے دیا ہے اور ’’پروٹوکول‘‘ کے نام پر اپنے ماتحتوں کو کیڑوں مکڑوں کی حیثیت دی جاتی ہے، یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ’’تمہیں جو کچھ رزق عطا ہوتا ہے، وہ تم میں سے کمزور لوگوں کی وجہ سے ملتا ہے۔‘‘ لہذا ہمیں یقین رکھنا چاہیے ہمیں عزت، شہرت اور دولت میں سے جتنا حصہ عطا ہوا ہے، ہمارے ملازمین اور خادموں کی وجہ سے ہے۔ سو، اپنے ان محسنین کا خاص خیال رکھیے۔



القرآن

نماز اور زکوۃ، چولی دامن کا ساتھ (مسلمانو!)تمہارے یارومددگارتو اللہ ،اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو اس طرح نماز قائم کرتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں کہ وہ (دل سے )اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ (سورہ المائدہ :55)
فائدہ : اللہ تعالی کا یہ ارشاد اس تناظر میں ہے کہ یہود و نصاری مسلمانوں کے دوست ہرگز نہیں ہوسکتے۔ مزید نکتے کی بات یہ ہے قرآن پاک میں بیشتر مقامات پر جہاں جہاں نماز کا ذکر ہے، زکوۃ کا تذکرہ اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بدنی عبادات کا اہتمام تو کر لیتی ہے، مگر زکوۃ اور دیگر مالی فرائض سے کوتاہی کا شکار رہتی ہے۔ اس حوالے سے خصوصی فکر کرنے اور فکر دلانے کی ضرورت ہے۔

   


  الحدیث

بھیک یا انگارہ؟

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’جو شخص محض اس لیے بھیک مانگتا ہے کہ اس کے مال میں اضافہ ہوتو وہ گویاآگ کا انگارہ مانگتا ہے۔ اب وہ چاہے کم مانگے یازیادہ مانگے۔‘‘ (مسلم شریف)

فائدہ
وطن عزیز میں بھیک اور بھکاری ایک وبا کی طرح پھیل رہے ہیں، غربت سے پہلے یہ اس بات کی علامت ہیں کہ عزت نفس کا حد درجہ فقدان ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ ہاتھ پھیلانے سے پہلے عزت نفس کی ہزاروں سرحدیں انسان عبور کرتا ہے۔ ارباب دانش کو چاہیے ایسے رفاہی ادارے وجود میں لائیں جو قوم کو ہاتھ پھیلانے کی لعنت سے ہاتھ کی کمائی کی شرافت تک لے آئیں۔


   مسنون دعا

حق پر استقامت کے لیے

رَبَّنَآ لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً، اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابOرَبَّنَآاِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ ، اِنَّ اللہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَO

فائدہ
یہ دعا مسلسل وردِ زبان رکھیں، فتنوں کے اس دور میں ایمان کی سلامتی اور خاتمہ بالخیر نصیب ہو گا۔ان شاء اللہ۔