القرآن

آج کی نیکی، کل کا سرمایہ
جوشخص کوئی نیکی لے کر آئے گا،اس کے لیے اُس جیسی دس نیکیو ں کاثواب ہے، اورجوشخص کوئی بدی لے کر آئے گا، تواس کو اسی ایک بدی کی سزادی جائے گی،اوراُن پرکوئی ظلم نہیں ہوگا۔(الانعام :160،آسان ترجمہ: 318)
فائدہ:
اس دنیا میں یہ عالم ہے کہ نیکیوں کے مواقع اتنے ہیں کہ گویا رستے میں پڑے مل جائیں۔ پھر اللہ کا فضل اس پر مستزاد ہے جو نیکیوں کو کئی کئی گنا بڑھا کر ثواب عطا کرتا ہے۔ کل قیامت کے روز انسان ایک نیکی کو ترسے گا، مگر مل کے نہ دے گی۔ سو، نیکی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیجیے اور گناہ کے ہر موقع سے دور بھاگنے کی کوشش کیجیے۔

 


  الحدیث

تاجر عرش کے سائے تلے

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’سچ بولنے والا تاجر قیامت میں عرش کے سائے میں ہو گا۔‘‘ )ترغیب:3 / (575

تشریح:
یہ منطق بظاہر سمجھ سے بالا تر ہے آپ سراسر اپنے پیٹ کی فکر میں صبح و شام سرگرداں پھریں اور اللہ آپ کا مرتبہ بڑے بڑے اولیا سے بالا تر کر دے۔ مگر یہ اللہ کا فضل ہے جو صرف ایک شرط کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ وہ شرط ہے: حلال کی بھرپور کوشش اور حرام سے مکمل اجتناب۔ کیا آپ عرش کے سائے تلے جگہ پانا نہیں چاہتے؟؟


  

القرآن

حلال و حرام کی کنجیاں رب تعالی کے پاس
اے ایمان والو!اللہ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ،ان کو حرام قرار نہ دو،اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقین جانو کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے، اس میں سے حلا ل پاکیزہ چیزیں کھائو اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔ (سورہ المائدہ: 87،88)
تشریح:
مطلب یہ ہے کہ جس طرح حرام چیزوں کو حلال سمجھنا گناہ ہے، اسی طرح جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن:264)

   


  الحدیث

قرض نجات کی راہ میں رکاوٹ

حضرت جابررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ایسے شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھا کرتے تھے، جس پر قرض ہوتا۔ ایک بار ایک جنازہ لایا گیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں دودینار قرض ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے ساتھی کی تم نماز جنازہ پڑھو۔ یہ سن کر حضرت ابو قتادہ نے فرمایا : دونوں دینار میرے ذمے ہوئے، اے اﷲ کے رسول! تب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد: 3343)

فائدہ
معلوم ہوا قرض شریعت میں انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ بہت ہی مجبوری کی حالت میں لینا پڑ جائے تو جلد از جلد واپسی کی فکر ہونی چاہیے۔ اگر خدا نخواستہ اسی حالت میں موت آگئی تو حساب کتاب میں مشکل پیش آسکتی ہے۔


القرآن

مثال خرچ کر نے والوں کی
ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کی سی ہے جو سات بالیں اگُاتا ہے اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں۔ اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے کئی گنا کر دیتا ہے اور اللہ گنجائش والا اور علم والا ہے۔( البقرہ:261)
فائدہ:
یہ مثال اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی ہے۔ ہمیں چاہیے جوکام کریں اخلاص کے ساتھ کریں۔ جس قدر اخلاص ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ اگر دکھلاوا ہو تو حجم میں بڑی نیکی کا ثواب ایک رائی کے برابر بھی نہیں ہوتا۔

 


  الحدیث

  حقیقی دولت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:’’انسان کہتا ہے: میرا مال، میرا مال۔ حالانکہ اس کا مال تو صرف وہی ہے جو اس نے کھا کر ختم کر دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا صدقہ کر کے آگے پہنچا دیا (باقی تو انسان کے ہاتھ سے نکل کر دوسروں کے پاس جانے والا ہے)۔‘‘ (صحیح مسلم:7609)

فائدہ:
دنیا میں رہتے ہوئے ہر چیز کو اپنا سمجھنے کے بجائے اللہ کی امانت سمجھیں۔ اللہ کے احکام کے مطابق ان کا استعمال کریں۔ اگر ہم نے مال کو اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کیا تو آخرت میں نہ صرف حساب کتاب سے بچا جا سکے گا، بلکہ یہ اعمال ہمارے لیے نجات کا باعث بھی ہوں گے۔

 


القرآن

’’جوشخص کوئی نیکی لے کر آئے گا،اس کے لیے اُس جیسی دس نیکیو ں کاثواب ہے، اورجوشخص کوئی بدی لے کر آئے گا، تواس کو اسی ایک بدی کی سزادی جائے گی،اوراُن پرکوئی ظلم نہیں ہوگا۔(سورہ الانعام :160،آسان ترجمہ :318)
فائدہ :یہ دنیا دارالاسباب ہے اور زندگی کا چراغ کسی بھی وقت گل ہو سکتا ہے۔ اس دنیا میں ہم اپنی آخرت کے لیے نیک اعمال کا جو کچھ توشہ جمع کر سکے، وہی کام آئے گا۔ ایک سمجھ دار تاجر اور منتظم کی طرح آنے والے وقت کی پیش بندی کے لیے دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کے لیے بھی ساماں کیجیے۔

 


  الحدیث

  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’بلا ضرورت جائیداد مت بناؤ، اس سے دنیا کی محبت بڑھے گی۔‘‘ (سنن الترمذی: 313)

فائدہ:
جائیداد بنانے کا سپنا کس دل میں نہیں ، مگر بقدر ضرورت ہی اس کے لیے پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ حریف سے مقابلے اور محض حرص میں آکر اس اندھا دھند دوڑ میں شامل ہونا اللہ اور رسول کو ہرگز پسند نہیں۔ اس سے دنیا کی محبت بڑھتی ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن

زیادہ دولت ملنا حق پرہونے کی علامت نہیں
جن لوگوں نے کفراپنالیا،ان کے لیے دنیوی زندگی بڑی دلکش بنادی گئی اور وہ اہل ایمان کا مذاق اُڑاتے ہیں،حالانکہ جنہوںنے تقوی اختیارکیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیںبلند ہوںگے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔(سورہ البقرہ:112)
تفسیر [معلوم ہوا کہ] دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ دنیوی رزق کے لیے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے۔ یہاں اللہ تعالی جس کو چاہتاہے بے حساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ (آسان ترجمہ قرآن :106)

 


  الحدیث

اللہ محبت کرتے ہیں ایسے دولت مند سے۔

حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:''اﷲ تعالیٰ اس متقی پرہیز گار دولت مند سے محبت کرتا ہے، جولوگوں میں غیر معروف اور چھپا ہوا ہو۔'' (مسلم شریف)

فائدہ:
دنیا کی دولت کے ساتھ اللہ کی محبت بلا کسی مشقت و مجاہدے کے مل رہی ہو تو اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوگی ؟ حدیث کے الفاظ یہ بھی بتاتے ہیں اس عظیم انعام کے حصول کے لیے تین شرطیں ہیں : (1) تقویٰ اختیار کرے (2) نخوت ، تکبر اور بے جا اظہار سے گریزاں ہو(3) اس دولت کو دین کے تقاضوں کے مطا بق استعمال کرتا ہو۔