القرآن

ناپ تول میں انصاف حسب استطاعت واجب
اوریتیم جب تک پختگی کی عمرکونہ پہنچ جائے،اُس وقت تک اُس کے مال کے قریب بھی نہ جائو،مگرایسے طریقے سے جو(اس کے حق میں)بہترین ہو،اورناپ تول انصاف کے ساتھ پوراپورا کیاکرو،(البتہ)اللہ کسی بھی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتا۔اورجب کوئی بات کہوتوانصاف سے کام لو،چاہے معاملہ اپنے قریبی رشتہ دارہی کاہو،اوراللہ کے عہد کو پورا کرو۔ لوگو! یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تاکیدکی ہے،تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔(سورہ الانعام :152)

تشریح:
خریدوفروخت کے وقت ناپ تول کاپورالحاظ رکھناواجب ہے،لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمادیاکہ اس معاملے میں طاقت سے زیادہ مین میخ نکالنے کی بھی ضرورت نہیں۔ انسان کو پوری پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ناپ تول ٹھیک ہو، لیکن کوشش کے باوجود تھوڑابہت فرق رہ جائے تووہ معاف ہے۔(آسان ترجمہ:317)

 


  الحدیث

خریدا ہوا مال واپس کرلینا مسلمان تاجر کی شان

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے کسی مسلمان سے خریدی یا بیچی ہوئی چیز واپس کرلی، اﷲ تعالیٰ اس کی لغزشوں سے چشم پوشی کرے گا۔ (سنن ابی داؤد: 3460)

فائدہ:
ہم کتنی بے دردی، بے باکی اور بے زاری کے ساتھ اپنی دکان کے باہر یہ تختی لٹکانا ضروری سمجھتے ہیں: ’’خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہوگا۔‘‘ حالانکہ ایک مسلمان دکاندار سے یہ بات بہت بعید تر ہے۔ دوسری طرف غیرمسلموں کو دیکھیے کہ مفتی محمد رفیع عثمانی کے بقول ان کی یورپی ملک میں خریدی ہوئی چیز لاس اینجلس میں اسی کمپنی کی برانچ میں واپس کر لی گئی ۔ اپنی اس اخلاقی میراث کو اپنا لیجیے۔


   مسنون دعا

جب کسی کے ہاں کھانا کھائے تو میزبان کو دعا دیتے ہوئے ہہ پڑھے

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

ترجمہ
اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

القرآن

جب ناشکری ہوتی ہے
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ایک بستی کی مثال دیتا ہے جو بڑی پر امن اور مطمئن تھی، اس کا رزق اس کو ہر جگہ سے بڑی فروانی کے ساتھ پہنچ رہا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری شروع کر دی، تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا پہننا اوڑھنا بن گیا۔ (سورۃ النحل:112)
تشریح:
اللہ کے شکر سے مراد اللہ کی بے پایاں رحمت، شفقت، ربوبیت، رزاقی اور دیگر احسانات کے بدلے میں دل سے اٹھنے والی کیفیت و جذبے کا نام ہے۔ شکرگذاری کے برعکس دوسرا رویہ ناشکری کا ہے۔ ایک شخص جب شکر ادا نہیں کرتا تو یہ رویہ آہستہ آہستہ اسے لاپروائی کی جانب لے جاتا اور بالآخر وہ ناشکری کرنے لگ جاتا ہے۔جس کا وبال خدانخواستہ وہ ہوتا ہے جو اوپر ذکر ہوا۔

 


  الحدیث
غارت گر، جادو گر

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی نجومی کے پاس جا کر اس سے (مستقبل یا قسمت کے بارے میں) کچھ پوچھے تو 40 دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔(صحیح مسلم:5957)
تشریح:
آج کل کتنے لوگ روحانی علاج کی آڑ میں کاروبار چمکا ئے ہوئے ہیں، حدیث پاک میں ایسے لوگوں کے پاس جانے کی ممانعت کی ہے۔ مگر چونکہ علاج کی ضرورت رہتی ہے ، لہذا آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے لگ جانے کے بجائے سب سے پہلے یہ تحقیق کی جائے کہ مریض کسی ذہنی بیماری کے باعث تو مسائل کا شکار نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ کسی پابند شریعت ،اللہ والے سے قرآن و حدیث کے احکامات کے اندر رہتے ہوئے روحانی علاج کروائیں۔

القرآن

ملکیت کا احترام
کہو کہ: ’’میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور (یہ حکم دیا ہے کہ:) ’’جب کہیں سجدہ کرو اپنا رخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اس کو پکارو کہ اطاعت خالص اسی کا حق ہے۔ جس طرح اس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔ (الاعراف:29)

تشریح:اس میں دوسروں کی ملکیت کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔ اس احترام میں یہ بات بھی داخل ہے کہ کسی کے مال یا جائیداد پر اُس کی مرضی کے بغیر قبضہ کر لیا جائے، اور یہ بھی کہ کسی کی کوئی بھی چیز اُس کی خوش دِلی کے بغیر استعمال کی جائے۔ (آسان ترجمہ:341)

 


  الحدیث
زمانہ خراب یا ہم؟

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:زمانے کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی زمانہ ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:انسان زمانے کو برا بھلا کہہ کر مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں خود ہی ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام خیریں اور بھلائیاں ہیں اور میں ہی رات اور دن کا بدلنے والا ہوں۔(سنن الترمذی:11487)

تشریح:اصلاح احوال اور معاشرے کو بہتر رخ پر گامزن کرنے کے لیے سب سے کارگر پالیسی یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز اپنے آپ سے کیا جائے۔ ’’لوگ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ ،’’زمانہ خراب ہے‘‘، ’’کیا کریں حالات ہی ایسے ہیں؟‘‘ ایسی دہائیاں سراسر سادہ لوحی کی علامت ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنی اصلاح کی طرف سب سے پہلے توجہ دے۔

القرآن

اور جن چیزوں میں اللہ نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے ان کی تمنا نہ کرو،مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا،اورعورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو۔بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔( النسائ:32)
فائدہ:مالی، علمی اور تذکیر وتانیث کے لحاظ سے فرق مراتب اللہ کی حکمتوں کا آئینہ دار ہے۔ آخرت کی کمائی ہر ایک کی اپنی ہے۔ نیکی بھی اپنی اور گناہ بھی خود پر۔ تاہم آخر دم تک کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اللہ کا فضل دنیا اور آخرت دونوں میں طلب اور محنت سے ملتا ہے۔

 


  الحدیث

 

حضرت رکب مصری رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’خوشخبری ہو اس کے لیے جس کی کمائی پاک ہو۔‘‘ (طبرانی)

فائدہ:
ہمیں یقین ہے اس جہان میں ہم نے بہت تھوڑے دن رہ کر اگلے جہان میں جا کر ڈیرہ لگانا ہے۔ ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ہمارے عقیدے کے بالکل متصادم ہے۔ سو، ایک مسلمان تاجر کا اصول ’’تجارت برائے آخرت‘‘ کا ہے۔ لہذا حدیث پاک کے مطابق پاک کمائی کر کے اگلے کی خوشخبری کے ضرور مستحق ہوں۔


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن

زیادہ دولت ملنا حق پرہونے کی علامت نہیں
جن لوگوں نے کفراپنالیا،ان کے لیے دنیوی زندگی بڑی دلکش بنادی گئی اور وہ اہل ایمان کا مذاق اُڑاتے ہیں،حالانکہ جنہوںنے تقوی اختیارکیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیںبلند ہوںگے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔(سورہ البقرہ:112)
تفسیر [معلوم ہوا کہ] دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ دنیوی رزق کے لیے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے۔ یہاں اللہ تعالی جس کو چاہتاہے بے حساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ (آسان ترجمہ قرآن :106)

 


  الحدیث

اللہ محبت کرتے ہیں ایسے دولت مند سے۔

حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:''اﷲ تعالیٰ اس متقی پرہیز گار دولت مند سے محبت کرتا ہے، جولوگوں میں غیر معروف اور چھپا ہوا ہو۔'' (مسلم شریف)

فائدہ:
دنیا کی دولت کے ساتھ اللہ کی محبت بلا کسی مشقت و مجاہدے کے مل رہی ہو تو اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوگی ؟ حدیث کے الفاظ یہ بھی بتاتے ہیں اس عظیم انعام کے حصول کے لیے تین شرطیں ہیں : (1) تقویٰ اختیار کرے (2) نخوت ، تکبر اور بے جا اظہار سے گریزاں ہو(3) اس دولت کو دین کے تقاضوں کے مطا بق استعمال کرتا ہو۔