القرآن

کہاں گئی طاقت؟
اور ان (مکہ کے کافروں) سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کی طاقت پر گرفت ان سے زیادہ سخت تھی، چنانچہ انہوں نے سارے شہر چھان مارے تھے۔ کیا ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ تھی؟ (سورہ ق: 36)

 

 


  الحدیث
حرام پوشاک

  حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: جس نے ایک کپڑا دس درہم کا خریدا۔ اس میں ایک درہم بھی حرام کا ہوا تو جب تک اس کے بدن پر وہ کپڑا رہے گا، اللہ تعالی اس کی کوئی نماز قبول نہیں کرے گا۔ (کنزالعمال: 13/4)

القرآن

اور جن چیزوں میں اللہ نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے ان کی تمنا نہ کرو،مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا،اورعورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو۔بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔( النسائ:32)
فائدہ:مالی، علمی اور تذکیر وتانیث کے لحاظ سے فرق مراتب اللہ کی حکمتوں کا آئینہ دار ہے۔ آخرت کی کمائی ہر ایک کی اپنی ہے۔ نیکی بھی اپنی اور گناہ بھی خود پر۔ تاہم آخر دم تک کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اللہ کا فضل دنیا اور آخرت دونوں میں طلب اور محنت سے ملتا ہے۔

 


  الحدیث

 

حضرت رکب مصری رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’خوشخبری ہو اس کے لیے جس کی کمائی پاک ہو۔‘‘ (طبرانی)

فائدہ:
ہمیں یقین ہے اس جہان میں ہم نے بہت تھوڑے دن رہ کر اگلے جہان میں جا کر ڈیرہ لگانا ہے۔ ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ہمارے عقیدے کے بالکل متصادم ہے۔ سو، ایک مسلمان تاجر کا اصول ’’تجارت برائے آخرت‘‘ کا ہے۔ لہذا حدیث پاک کے مطابق پاک کمائی کر کے اگلے کی خوشخبری کے ضرور مستحق ہوں۔


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن
ہزاروں خواہشیں ایسی…

کیا انسان کو ہر اس چیز کا حق پہنچتا ہے جس کی وہ تمنا کرے؟ (نہیں!) کیونکہ آخرت اور دنیا تو تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔(سورہ النجم: 25،24)
تشریح:مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کی ہر آرزو پوری ہونا ضروری نہیں۔

 

 


  الحدیث
جھگڑے سے گریز

  حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اپنا حق محض جھگڑے اور فساد سے بچنے کے لیے چھوڑ دے، اسے جنت میں جگہ ملے گی۔‘‘ (جامع ترمذی: 20/2)

القرآن

اور کسی تنازعے میں ان لوگوں کی وکالت نہ کرنا جو خود اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہیں۔ اللہ کسی بھی خیانت کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (سورہ النسائ:107)
فائدہ:
آپ غور فرمائیں، لوگ جس خیانت کو آج ایک فن سمجھ کر اس میں اپنی مہارت کے دعوے کرتے ہیں، اللہ پاک کے ہر گز پسند نہیں۔ تجارت کے لیے تو زہر قاتل سے کم نہیں۔ آپ کیسے لوگوں کا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں، جب لوگوں کو آپ سے جھوٹ یا دھوکے کا اندیشہ ہو۔
)

 


  الحدیث

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’سچ بولنے والا تاجر قیامت میں عرش کے سایہ میں ہو گا۔‘‘(ترغیب جلد3 ص 575)

فائدہ:
آج کا بڑا المیہ یہی ہے ہر سطح کا تاجر کاروباری اخلاقیات کے بحران میں مبتلا ہے۔ سب لوگ اس گناہ بے لذت کو کیے جارہے ہیں۔ جب سچ خود ہمارے لیے اس دنیا میں ہی ہزار فوائد کا سبب ہے تو ہم نے اس کو کافروں کے لیے چھوڑ رکھا ہے؟


القرآن

پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے ہو!
اچھا یہ بتاؤ کہ یہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا اسے بادلوں سے تم نے اتارا ہے، یا اتارنے والے ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا کر رکھ دیں، پھر تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے؟ اچھا یہ بتاؤ کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو، کیا اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟ ہم نے اس کو نصیحت کا سامان اور صحرائی مسافروں کے لیے فائدے کی چیز بنایا ہے۔ لہٰذا (اے پیغمبر) تم اپنے عظیم پرودگار کا نام لے کر اس کی (تسبیح کرو۔ (واقعہ: 67-74)

تفسیر: ''نصیحت کا سامان'' اس لیے کہ اوّل تو اس پر غور کر کے انسان اﷲ تعالیٰ کی قدرت کو یاد کرتا ہے کہ اس نے کس طرح ایک درخت کو آگ پیدا کرنے کا ذریعہ بنا دیا ، اور دوسرے اس سے دوزخ کی آگ بھی یاد آتی ہے تو اس سے بچنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن:1137)

 


  الحدیث

اخلاقی برائیوں سے پاک تجارت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے گروہ تجار! تم خاص کر جھوٹ سے بچو۔'' (الترغیب والترہیب: 369/2)

تشریح:
حدیث کا پیغام یہ ہے کہ اپنی تجارت کو ہر قسم کی اخلاقی برائی سے پاک رکھنا چاہیے۔ عیب زدہ چیز کو ہرگز درست نہ بتائے۔ گاہک سے حد درجہ اخلاق سے پیش آئے۔ ایک اور حدیث پاک میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے عیب والی چیز کو فروخت کیا اور عیب کو ظاہر نہ کیا،وہ ہمیشہ اللہ تعالی کی ناراضگی میں ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث: 2332) لہٰذاایک تاجر کو چاہیے جھوٹی قسمیں ہرگز نہ کھائے۔ منافع کی شرح حد سے زیادہ نہ بتائے۔ صدقہ اور زکوٰۃ کا خصوصی اہتمام کرے۔ زکوۃ ادا نہ کرنا مال و دولت میں بے برکتی کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔


   مسنون دعا

گھر سے نکلتے ہوئے

بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللّٰہِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ۔(مشکوٰۃ شریف)

ترجمہ:
 میں اللہ کا نام لے کرنکلا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، گناہوں سے پھرنے اور عبادت کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے