القرآن

اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خودبھی اس پر ثابت قد م رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم تمہیں دیں گے اور بہتر انجام تقوٰی ہی کا ہے۔ (طہٰ:132)

تفسیر:اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں آقا اپنے غلاموں کو معاشی مشغلے میں لگا کر ان کی آمدنی سے رزق حاصل کرتے ہیں، اﷲ تعالیٰ تمہاری اس طرح کی بندگی سے بے نیاز ہے، اس کے بجائے وہ خود تمہیں رزق دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔   (آسان ترجمہ قرآن: 686) 

 


  الحدیث

تنخواہ دینے میں تاخیر نہ کریں

حضرت عبداﷲ بن عمرر ضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کردیا کرو۔'' (سنن ابن ماجہ)

تشریح:
مطلب یہ ہے کہ اجیر اور مزدور جب تمہارا کام پورا کردے تو اس کی مزدوری فوراً ادا کردی جائے ، تاخیر بالکل نہ کی جائے۔ (معارف الحدیث: 530/7)


   مسنون دعا

جب کسی (قرض دار) سے اپنا قرض پورا وصول کرلے تو اس کو یہ دعا دے:

اَوْفَیْتَنِیْ، اَوْفَی اَﷲُ بِکَ۔۔۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔۔۔ وَفَی اَﷲُ بِکَ۔۔۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔۔۔ اَوْفَاکَ اَﷲُ (حصن حصین:211)

ترجمہ
تم نے میرا پورا قرضہ کر دیا اﷲ تمہیں اس کا پورا اجر دے۔ یا ۔ اﷲ تم سے اپنا وعدہ پورا کرے۔

 

القرآن
ہزاروں خواہشیں ایسی…

کیا انسان کو ہر اس چیز کا حق پہنچتا ہے جس کی وہ تمنا کرے؟ (نہیں!) کیونکہ آخرت اور دنیا تو تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔(سورہ النجم: 25،24)
تشریح:مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کی ہر آرزو پوری ہونا ضروری نہیں۔

 

 


  الحدیث
جھگڑے سے گریز

  حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اپنا حق محض جھگڑے اور فساد سے بچنے کے لیے چھوڑ دے، اسے جنت میں جگہ ملے گی۔‘‘ (جامع ترمذی: 20/2)

القرآن

تحقیق کرلو
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ (سورہ الحجرات6… آسان ترجمہ قرآن:1084)

 

 


  الحدیث
صرف اعمال

  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:11/8)

القرآن

تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے)خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ (آل عمران:92)
تفسیر: مطلب یہ ہے کہ اللہ کا حکم صرف یہی نہیں کہ اچھی چیزیں اللہ کی خوشنودی کے لیے دو،بلکہ جن چیزوں سے تمہیں محبت ہے ان کو اس کی راہ میں نکالو تاکہ صحیح معنی میں اللہ کے لیے قربانی کامظاہرہ ہوسکے۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں صدقہ کرنی شروع کردیں جس کے بہت سے واقعات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ (آسان ترجمہ قرآن:158)

 


  الحدیث

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:’’میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر موت کے وقت کوئی پڑھ لے تو اس کی روح راحت و اطمینان کے ساتھ اس کے جسم سے نکل جائے گی، نیز وہ کلمہ قیامت کے دن اُس شخص کے لیے نور ہو گا۔ وہ کلمہ (لاالہ الا اللّٰہ) ہے۔‘‘(کنز العمال:151)

فائدہ:
یہ وہ گر ہے جسے اگر آپ اختیار کر لیںتو دہرا نفع کمائیں۔ آپ سفرمیں ہیں، دکان پر ہیں، آپ کے ہاتھ مصروف ہیں، اس سب کے ساتھ ساتھ آپ کی زبان لاالہ الا اللّٰہ سے تر ہے تو آپ دوہرا نفع کما رہے ہیں۔آپ اس کی عادت بنائیے، ان شاء اللہ اپنی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی دیکھیں گے۔

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن

مسلمانو!)تمہیں اپنے مال ودولت اور جانوں کے معاملے میں (اور)آزمایا جائے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکین دونوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ،اور اگر تم نے صبر اور تقوی سے کام لیا تو یقینا یہی کام بڑی ہمت کے ہیں (جو تمہیں اختیارکرنے ہیں) (سورہ آل عمران :186)
تشریح:
تب پھر آپ کیوں گھبراتے ہیں با شرع صورت اپنانے سے۔ آپ کیوں شرماتے ہیں خود کو دیندار ظاہر کرنے سے۔ آپ کیوں پیچھے رہتے ہیں آخرت میں کام آنے والے اعمال کا ذخیرہ جمع کرنے سے۔

 


  الحدیث

  سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’تم لوگ خرید و فروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو، اس لیے کہ اس سے مال گھٹ جاتا ہے اور برکت ختم ہو جاتی ہے۔‘‘(صحیح مسلم:4210)

فائدہ:
ہم میں کون ہے جس کا تکیہ کلام ہی بات بات قسم اٹھانا نہیں بن گیا۔ اللہ کا نام لینے میں اتنے جری مت ہو جائیے۔ زیادہ قسمیں کھانے، بالخصوص جھوٹی قسمیں کھانے سے خود بچیے، دوستوں کو بچائیے۔