القرآن

مسلمانو!)تمہیں اپنے مال ودولت اور جانوں کے معاملے میں (اور)آزمایا جائے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکین دونوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ،اور اگر تم نے صبر اور تقوی سے کام لیا تو یقینا یہی کام بڑی ہمت کے ہیں (جو تمہیں اختیارکرنے ہیں) (سورہ آل عمران :186)
تشریح:
تب پھر آپ کیوں گھبراتے ہیں با شرع صورت اپنانے سے۔ آپ کیوں شرماتے ہیں خود کو دیندار ظاہر کرنے سے۔ آپ کیوں پیچھے رہتے ہیں آخرت میں کام آنے والے اعمال کا ذخیرہ جمع کرنے سے۔

 


  الحدیث

  سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’تم لوگ خرید و فروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو، اس لیے کہ اس سے مال گھٹ جاتا ہے اور برکت ختم ہو جاتی ہے۔‘‘(صحیح مسلم:4210)

فائدہ:
ہم میں کون ہے جس کا تکیہ کلام ہی بات بات قسم اٹھانا نہیں بن گیا۔ اللہ کا نام لینے میں اتنے جری مت ہو جائیے۔ زیادہ قسمیں کھانے، بالخصوص جھوٹی قسمیں کھانے سے خود بچیے، دوستوں کو بچائیے۔



القرآن

تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے)خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ (آل عمران:92)
تفسیر: مطلب یہ ہے کہ اللہ کا حکم صرف یہی نہیں کہ اچھی چیزیں اللہ کی خوشنودی کے لیے دو،بلکہ جن چیزوں سے تمہیں محبت ہے ان کو اس کی راہ میں نکالو تاکہ صحیح معنی میں اللہ کے لیے قربانی کامظاہرہ ہوسکے۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں صدقہ کرنی شروع کردیں جس کے بہت سے واقعات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ (آسان ترجمہ قرآن:158)

 


  الحدیث

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:’’میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر موت کے وقت کوئی پڑھ لے تو اس کی روح راحت و اطمینان کے ساتھ اس کے جسم سے نکل جائے گی، نیز وہ کلمہ قیامت کے دن اُس شخص کے لیے نور ہو گا۔ وہ کلمہ (لاالہ الا اللّٰہ) ہے۔‘‘(کنز العمال:151)

فائدہ:
یہ وہ گر ہے جسے اگر آپ اختیار کر لیںتو دہرا نفع کمائیں۔ آپ سفرمیں ہیں، دکان پر ہیں، آپ کے ہاتھ مصروف ہیں، اس سب کے ساتھ ساتھ آپ کی زبان لاالہ الا اللّٰہ سے تر ہے تو آپ دوہرا نفع کما رہے ہیں۔آپ اس کی عادت بنائیے، ان شاء اللہ اپنی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی دیکھیں گے۔

 


   مسنون دعا

بِسْمِ اﷲِ، الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَ ھَذِہٖ السُّوْقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذِبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا، اَللّٰھُم اِنِّیْ اَعُوْذِبِک مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْھَا یَمِیْنًا فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقََۃً خَاسِرَۃً۔(حصن حصین:217)

 

ترجمہ
: اﷲ کے نام کے ساتھ، اے اﷲ! بیشک میں تجھ سے اس بازار کی خیر وبرکت کا اور جو اس بازار میں ہے اس کی خیر و برکت کا سوال کر تا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے کہ کوئی جھوٹی قسم کھاؤں یا کوئی خسارہ (اور نقصان) کا معاملہ کروں۔

 

القرآن

یہی تو ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ یہ خود ہی منتشر ہو جائیں گے، حالانکہ آسمان اور زمین کے تمام خزانے اللہ ہی کے ہیں، لیکن منافق لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

(المنافقون: 7،6 -آسان ترجمہ قرآن: 1189)

 


  الحدیث

ہاتھ کی کمائی، عادت پیغمبروں کی

حضرت مقدام بن معدیکرب ؓ سےروایت ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا: کسی نےکوئی کھانااس سےبہترنہیں کھایاجو اس نےاپنےہاتھوں کی محنت سےکماکےکھائےاوراللہ کےپیغمبرداؤدعلیہ السلام اپنے ہاتھوں سے کام کرکے کھاتے تھے۔

تشریح:
مطلب یہ ہے کہ تحصیل معاش کی صورتوں میں بہت اچھی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے ہاتھوں سے کوئی ایسا کام کرے جس سے کھانے پینے وغیرہ کی ضروریات پوری ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ اللہ کے پیغمبر داؤد علیہ السلام کی سنت بھی ہے، قرآن مجید میں ہے کہ وہ زرہیں بناتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا اس کو انہوں نے اپنا ذریعہ معاش بنایاتھا۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد نے دستکاری اور ذاتی محنت کو بہت بلند مقام عطافرمایا۔


   مسنون دعا

مجلس سے اٹھتے وقت

سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ.

ترجمہ
اے اللہ! میں آپ کی حمد کے ساتھ آپ کی پاکی بیان کرتا ہوں، گواہی دیتا ہوں کہ صرف آپ ہی معبود برحق ہیں، آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

فائدہ: کسی بھی حوالے سے گفتگو کے لیے کچھ لوگوں کے ہمراہ بیٹھیں تو مذکورہ دعا پڑھتے ہوئے مجلس کا اختتام کرنا چاہیے۔ اس سے میٹنگ کے دوران ہونے والی لغزشوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ کوئی ایک صاحب بلند آواز سے پڑھ لے تو سب کو یاد آجاتا ہے۔ تجارت نبوی اورتجارتی خرابیوں سے واقفیت کے لیے زبیر بن عبدالمطلب جوکہ آپ کے سگے تایا تھے۔ یہ بھی آپ کے شریک تجارت تھے۔ ان کا شمار مکہ کے مشہور تاجروں میں ہوتا تھا۔ بعض حضرات کا کہنا ہے آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ نے آپ کے والد ماجد کے ترکہ کو زبیر کے کاروبار میں لگا دیا تھا۔ اس طرح سرمائے میں اضافہ ہوتا رہا۔ اسی لیےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام کاروبار اپنے تایا زبیر کی زیر نگرانی ہوتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی عمر میں اپنے تایا کے ہمراہ یمن کا سفر کیا۔ (بحوالہ پیغمبر اسلام اور تجارت: 139) یمن کے اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے خوب کامیاب تجارت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی مشاغل نے آپ کو ان بہت سی خرابیوں سے واقف کردیا جو عربوں کی تجارت میں رائج تھیں۔ احادیث میں بیع و شراء سے متعلق جو اوامر و نواہی ملتے ہیں، ان کے پس پشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہی تاجرانہ تجربات جھانکتے نظر آتے ہیں۔ (رسول اکرم بحیثیت تاجر: 32)

 

القرآن

نیکی مگر تکلیف پہنچائے بغیر
بھلی بات کہہ دینا اور درگذر کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئی تکلیف پہنچائی جائے اور اللہ بڑا بے نیاز، بہت بردبار ہے۔ ( البقرہ: 261 تا 263)
’’اللہ کے راستے میں خرچ‘‘ کا قرآن کریم نے بار بار ذکر کیا ہے اور اس سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔ اس میں زکوۃ، صدقات، خیرات سب داخل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی سائل کسی سے مانگے اور وہ کسی وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کر لینا اور اگر وہ مانگنے پر اصرار کرے تو اس کی غلطی سے در گذر کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان دے تو دے مگر بعد میں احسان جتلائے یا اسے ذلیل کر کے تکلیف پہنچائے۔ (آسان ترجمہ قرآن :129)

 


  الحدیث

  آزمائشوں پر صبر کا اجر
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’آزمائش جتنی سخت ہوتی ہے اس کا بدلہ اتنا ہی بڑا ملتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو ان کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں، پھر جو اس آزمائش پر راضی رہا (یعنی صبر سے کام لیا) تو اللہ تعالی بھی اس سے راضی ہو جاتے ہیں اور جو اس پر ناراض ہوا (یعنی بے صبری کا مظاہر کیا) تو اللہ بھی اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔‘‘ (سنن الترمذی:2396)

فائدہ:
یہ دور فتنے یعنی آزمائش کا دور ہے۔ مالی، جانی، فکری اور نظریاتی فتنوں کادور۔ کوئی صحت کی وجہ سے پریشان تو کوئی سہولت کے لیے ہلکان۔ مگر ضابطہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے یہ آزمائشیں ثواب اور بلندی درجات کا سبب ہوتی ہیں۔ دین اور نظریے سے متعلق فتنوں کا سدباب ہمیں دین اور علما کے قریب ہو کر کرنا ہو گا، جبکہ دیگر کسی پریشانی، بالخصوص کاروباری نقصانات میں اللہ تعالی کی طرف رجوع ہوں، بے صبری کا مظاہرہ ہرگز نہ کریں۔ ورنہ دنیا تو متاثر ہوئی ہی، ثواب سے بھی محروم نہ ہو جائیں۔

 


القرآن
شب زندہ دار

وہ رات کے وقت کم سوتے تھے، اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے، اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا ہے۔
(سورہ الذٰریٰت: 19,18,17)

 

 


  الحدیث
گناہ کیا ہے؟

  حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور دل اس سے بے چین اور شک میں پڑے، چاہے لوگ تمہیں فتوی ہی کیوں نہ دیں (کہ کر لو)۔ (مسند احمد: 228/4)