القرآن

نیکی مگر تکلیف پہنچائے بغیر
بھلی بات کہہ دینا اور درگذر کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئی تکلیف پہنچائی جائے اور اللہ بڑا بے نیاز، بہت بردبار ہے۔ ( البقرہ: 261 تا 263)
’’اللہ کے راستے میں خرچ‘‘ کا قرآن کریم نے بار بار ذکر کیا ہے اور اس سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔ اس میں زکوۃ، صدقات، خیرات سب داخل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی سائل کسی سے مانگے اور وہ کسی وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کر لینا اور اگر وہ مانگنے پر اصرار کرے تو اس کی غلطی سے در گذر کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان دے تو دے مگر بعد میں احسان جتلائے یا اسے ذلیل کر کے تکلیف پہنچائے۔ (آسان ترجمہ قرآن :129)

 


  الحدیث

  آزمائشوں پر صبر کا اجر
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’آزمائش جتنی سخت ہوتی ہے اس کا بدلہ اتنا ہی بڑا ملتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو ان کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں، پھر جو اس آزمائش پر راضی رہا (یعنی صبر سے کام لیا) تو اللہ تعالی بھی اس سے راضی ہو جاتے ہیں اور جو اس پر ناراض ہوا (یعنی بے صبری کا مظاہر کیا) تو اللہ بھی اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔‘‘ (سنن الترمذی:2396)

فائدہ:
یہ دور فتنے یعنی آزمائش کا دور ہے۔ مالی، جانی، فکری اور نظریاتی فتنوں کادور۔ کوئی صحت کی وجہ سے پریشان تو کوئی سہولت کے لیے ہلکان۔ مگر ضابطہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے یہ آزمائشیں ثواب اور بلندی درجات کا سبب ہوتی ہیں۔ دین اور نظریے سے متعلق فتنوں کا سدباب ہمیں دین اور علما کے قریب ہو کر کرنا ہو گا، جبکہ دیگر کسی پریشانی، بالخصوص کاروباری نقصانات میں اللہ تعالی کی طرف رجوع ہوں، بے صبری کا مظاہرہ ہرگز نہ کریں۔ ورنہ دنیا تو متاثر ہوئی ہی، ثواب سے بھی محروم نہ ہو جائیں۔

 


القرآن
شب زندہ دار

وہ رات کے وقت کم سوتے تھے، اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے، اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا ہے۔
(سورہ الذٰریٰت: 19,18,17)

 

 


  الحدیث
گناہ کیا ہے؟

  حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور دل اس سے بے چین اور شک میں پڑے، چاہے لوگ تمہیں فتوی ہی کیوں نہ دیں (کہ کر لو)۔ (مسند احمد: 228/4)

القرآن

عصبیت کی جڑیں کاٹ دو
حقیت تو یہ ہے تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، اس لیے تم اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔(سورۃ الحجرات:10)
فائدہ:
مسلمانوں پر ایک دوسرے کی جان ، مال ، عزت آبرو کی حفاظت بلاامتیاز فرض او رمذکور امورمیں کوتاہی سخت حرام ہے۔ اسی قانون کا نام شریعت میں اخوت اسلامی ہے۔ اس کی ضد عصبیت ہے اور وہ مسلمانوں کا قومی، لسانی، صوبائی یا خاندانی بنیادوں پر دشمنی کرنا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :جو عصبیت کی طرف بلائے وہ ہم میں سے نہیں ، جو عصبیت پر لڑے وہ ہم میں سے نہیں ، جو عصبیت پر مارا جائے وہ ہم میں سے نہیں۔

 


  الحدیث

  اللّٰہ سے جنگ کے شوقین
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، سودی معاملات کا حساب کتاب کرنے والے پر اور سودی معاملے میں گواہی دینے پر لعنت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ گناہ اور وبال میں یہ سب برابر کے شریک ہے۔(صحیح مسلم)
فائدہ:
گزشتہ دنوں وزیر اعظم نے بزنس یوتھ لون اسکیم جو کہ سراسر سودی اسکیم تھی کا اعلان کیا تو ابتدائی پیشکش میں ہی درخواستوں اور فارموں کا تانتا بندھ گیا۔ سمیڈا کی ویب سائٹ سے 56لاکھ97ہزارافراد نے اسکیم کے بارے میں معلومات ڈاؤن لوڈ کیں جبکہ سمیڈا کے ٹیلیفون سنٹر میں 6115افراد نے فون کرکے معلومات حاصل کیں۔ ان میں سے سودی قرضہ کس کو ملتا ہے اور کس کو نہیں؟ مگر اس کوشش کے ساتھ ہی وہ سودی دھندے میں ملوث ہو کر اللہ کی لعنت کے مستحق بن گئے تھے۔

القرآن

اذان جمعہ پر کاروبار بند کریں
’’مؤمنو! جب جمعے کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کی یاد (یعنی نماز) کے لیے جلدی کرو اور خرید و فروخت (کاروبار) چھوڑ دو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔‘‘ (الجمعہ:09)
فائدہ
آیت بالا سے واضح ہے کہ جونہی جمعہ کی پہلی اذان آئے، ہر قسم کی دنیاوی مصروفیت ترک کر کے جمعے کی تیاری شروع کردینی چاہیے۔ جس اللہ پاک نے ہمیں اسباب اختیار کر نے کا حکم دیا ہے، یہ اذان بتلاتی ہے کہ اب اسی کے حکم پر ہمیں فورا اپنا کاروبار زندگی موقوف کر کے مسجد کی طرف لپکنا چاہیے۔

 


  الحدیث

  تکبر ذلیل کرتا ہے 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع و انکساری اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بلند فرماتے ہیں (جس کے نتیجے میں) وہ اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے لیکن لوگوں کی نظروں میں اونچا اور بلند ہو جاتا ہے۔اور جو غرور و تکبر کرتا ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کو ذلیل کر دیتے ہیں (جس کے نتیجے میں) وہ اپنے آپ کو تو بہت بڑا سمجھتا ہے لیکن لوگوں کی نگاہوں میں چھوٹا اور ذلیل ہو جاتا ہے حتی کہ کتے اور خنزیر سے بھی بدتر لگنے لگتا ہے۔‘‘ (مشکاۃ المصابیح:5119)

  


   مسنون دعا

دوران سفر ورد زبان رکھیں جب کسی منزل یا ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹاپ پر اترے تو یہ دعا پڑھے: ’’اُعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شِرِّ مَا خَلَقَ۔‘‘

 

ترجمہ
’’اللہ کے پورے کلموں کے واسطے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘

 

القرآن

کسب کمال کی ضرورت
اورمدین کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب کوبھیجا۔انہوں نے کہا:’’اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی عبادت کرو۔اس کے سواتمہاراکوئی معبودنہیں ہے۔تمہارے پاس تمہارے پروردگارکی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔لہذاناپ تول پوراپوراکیاکرو،اورجوچیزیں لوگوں کی ملکیت میںہیں،اُن میں اُن کی حق تلفی نہ کرو۔اورزمین میں اُس کی اصلاح کے بعدفسادبرپانہ کرو۔یہی طریقہ تمہارے لیے بھلائی کاہے،اگرتم میری بات مان لو۔(سورۃالاعراف:85،آسان ترجمہ قرآن:341)  

 


  الحدیث

کسب حلال کی فضیلت

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ بہتر غذا ہرگز کوئی نہیں کھاتا اور اﷲ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی دستکاری سے کھاتے تھے۔‘‘ (بخاری شریف)

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ بہتر غذا ہرگز کوئی نہیں کھاتا اور اﷲ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی دستکاری سے کھاتے تھے۔‘‘ (بخاری شریف) فائدہ:تب پھر ہم کیوں کتراتے ہیں،کوئی حلال پیشہ اختیار کرنے سے؟ہم کیوں عار محسوس کرتے ہیں ایسے کام کرنے سے جسے نبیوں نے اللہ کا کا حکم سمجھ کر انجام دیا!