القرآن
رحمن کون؟

وہ رحمن ہی ہے، جس نے قرآن کی تعلیم دی۔ اُسی نے انسان کو پیدا کیا، اُسی نے اُس کو بات واضح کرنا سکھایا۔ (الرحمن: 4-1)

 

   


  الحدیث
عیب نہ چھپائیں

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی سے سامان کی کسی ایسی بات کو چھپائے کہ وہ جان لیتا تو خریدنا چھوڑ دیتا۔‘‘ (مجمع الزوائد: 80/4)

القرآن
نعمتیں رب کی

اور زمین کو اُسی نے ساری مخلوقات کے لیے بنایا ہے، اس میں میوے اور کھجور کے گابھوں والے درخت بھی ہیں اور بھوسے والا غلہ اور خوشبو دار پھول بھی۔ اب بتاؤ کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (الرحمن:13-10)

 

 


الحدیث
تقوی کا دنیاوی انعام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’اگر تم کسی چیز کو تقویٰ اور خوف خدا کی وجہ سے چھوڑ دو گے، تو اللہ پاک اس سے بہتر سے نوازے گا۔‘‘ (شعب الایمان: 53/5)

القرآن
خود کو پاکیزہ نہ ٹھہرائو !

وہ (تمہارا پروردگار) تمہیں خوب جانتا ہے جب اُس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا، اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے، لہٰذا تم اپنے آپ کو پاکیزہ نہ ٹھہراؤ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔ ( النجم: 32)

 

 


  الحدیث
جس نے قرض معاف کیا

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے کسی تنگدست اور پریشان حال کو ادائیگی میں مہلت دی، یا اس کو معاف کردیا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی مصیبت سے نجات دے گا۔‘‘ (صحیح مسلم: 180)

القرآن
جنت فیملی

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہے، تو ان کی اولاد کو ہم انہی کے ساتھ شامل کردیں گے، اور ان کے عمل میں سے کسی چیز کی کمی نہیں کریں گے۔ (سورہ طور: 21)

 

 


  الحدیث
تلاش میں رہو

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی آدمی اس وقت تک مر نہیں سکتا، جب تک اپنارزق نہ پورا کرے۔ اور رزق کو مؤخر نہ سمجھو۔ اللہ سے ڈرو، اے لوگو! تلاش رزق میں رہو۔حلال طریقے سے لو اور حرام کو چھوڑ دو۔ (حاکم، کنز:22/4)

القرآن

جنت کے مستحق
اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ اُن پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کر دینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔(آل عمران:133،134-آسان ترجمہ قرآن: 167)
تشریح:
ان آیات میں چند واضح پیغامات دیے گئے ہیں۔ ’’مسابقت‘‘( مقابلہ بازی) جنت اور اعمال جنت کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ دنیا کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی دھن مین۔ نیز مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ ضروری ہے کہ آدمی غمی و خوشی دونوں حالتوں میں اللہ اور مسلمانوں کے حقوق کو فراموش نہ کرے۔ علاوہ ازیں غصہ پی جانا اور لوگوں کی کوتاہیاں معاف کرتے رہنا یہ سب صفات اللہ کو بے حد پسند ہیں۔

 


  الحدیث
ایک گناہ ایسا

  حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’گانا (موسیقی) دل میں نفاق (منافقت) اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو پیدا کرتا ہے۔‘‘ (السنن الکبری للبیھقی:21537)
تشریح:
دورجدید میں کیسٹس، سی ڈیز، ڈی وی ڈیز، ایم پی تھری، فور پلئیرز اور کئی دیگر آلات کے ذریعے گانے والیاں اور گانے والے ہر جگہ موجود ہیں۔ ہم مسلمانوں کی شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جسے ہم نے شیطان کی آواز سے بچا کے رکھا ہو۔ جب قوم کسی گناہ میں اجتماعی طور پر مبتلا ہو جاتی ہے تو پھر اللہ کا عذاب اترنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالی اپنی خاص رحمت سے ہمیں اِن عذابوں سے بچائے رکھے۔