پاکستان حلال گوشت کی عالمی مارکیٹ میں دنیا بھر میں سالانہ اربوں ڈالر کا گوشت فروخت کیا جارہا ہے۔ گوشت درآمد کرنے والے ممالک میں سر فہرست اسلامی ملک ہیں۔ ان اسلامی ملکوں میں آنے والے گوشت کا حلال ہونا بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالی کا پاکستان پر فضل ہے کہ انسانی آبادی سے بڑھ کر جانور موجود ہیں۔ اتنا وافر حلال گوشت ہے کہ پاکستان کسی بھی ملک میں بھیج کر بھاری زرمبادلہ کماسکتا ہے۔ اب حکومت پاکستان مختلف سطح پر کوشش کررہی ہے کہ مذبح خانے اور پراسیسنگ پلانٹ تعمیر کرے اور زیادہ سے زیادہ گوشت برآمد کرے۔

اب تک بڑے تاجر یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ تمام تر ٹیکس ہم پر ہی عائد کیے جاتے ہیں۔ بہت سے تاجر دوست کہتے تھے کہ لاکھوں دوکانداروں پر ٹیکس کیوں نہیں لگا یا جاتا۔ اب شاید وفاقی حکومت نے ان کی آواز سن لی ہے۔ آئندہ بجٹ میں ہول سیلرز اور پرچون فروشوں پر 10ہزار روپے سالانہ کے حساب سے کم ازکم ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔ لاکھوں ہول سیلرز اور پرچون فروشوں پر ٹیکس عائد ہونے سے انکم ٹیکس کی آمدنی میں 20ارب دے زائد کا اضافہ ہوگا۔

ایک عرصے سے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ان سائیڈ ٹریڈنگ کی خبریں گردش کررہی تھیں۔ اب وفاقی حکومت نیا سیکیورٹی ایکٹ متعارف کروارہی ہے جس کی رو سے اندرونی اطلاعات کی بنیاد پر ان سائیڈ ٹریڈنگ نہیں کی جاسکے گی۔ اس کا مسودہ تیار کیا جارہا ہے۔ ایک عرصہ پہلے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا تھا کہ اسٹاک ایکسچینج میں ان سائیڈ ٹریڈنگ کی جارہی ہے۔ اس انکشاف کے بعد منظر عام پر آنے والی خبروں نے بہت سے لوگوں کے ہوش اڑا دیے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق اس گھنائونے عمل کی وجہ سے سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہورہا تھا۔

ایک طویل عرصہ بعد حکومت نے تھری جی اور فورجی کی نیلامی کا اعلان کردیا ہے۔ اس طرح پاکستان میں تیز ترین انٹرنیٹ کی راہ ہموار ہوگی۔ ویڈیو کانفرنس اور موبائل انٹرنیٹ کی اسپیڈ پہلے سے کئی گنا ہوجائے گی۔ تجزیہ کاروں کو تحفظات تھے کہ اس نیلامی میں اربوں کے گھپلے ہونے کا امکان ہے، مگر اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نیلامی کا ہر مرحلہ میڈیا کی موجودگی میں سرانجام دیا جائے گا۔ اپریل میں ہونے والی اس نیلامی میں حکومت کو ڈیڑھ ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے بھی نئے دروازے کھل جائیں گے۔

پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات میں اضافہ
اب پاکستانی پھل اور سبزیاں بہت سے ممالک تک پہنچ رہی ہیں۔ نئی منڈیوں تک رسائی سے پاکستان کو کم از کم 62ارب روپے کا قیمتی زر مبادلہ حاصل ہوا۔ اب تک پاکستان روایتی منڈیوں تک رسائی رکھتا تھا۔ رواں سال پہلی بار نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کی گئی جس کے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے۔ اس وقت عالمی سطح پر جنوبی کوریا، موریطانیہ اور جاپان ، پاکستانی پھل اور سبزیوں کے لیے بہترین منڈی ثابت ہوسکتے ہیں۔ امید ہے نئی منڈیوں تک رسائی کا یہ سفر جاری رہے گا اور ملک میں خوش حالی کی نئی لہر آئے گی۔

پاکستان کھجور کی برآمد میں دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا۔ پاکستان کے علاقے سندھ اور بلوچستان سے تقریبا 5لاکھ ٹن سے زائد کھجور حاصل کی جاتی ہے۔ ایک لاکھ ٹن کھجور یورپ، امریکا، کینیڈا اور بھارت کو بھیجی جاتی ہے۔ کھجور سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر کھجور کو محفوظ کرنے کے لیے بلوچستان اور سندھ میں اسٹور قائم کیے جائیں اور سڑکوں کا جال کھجور کے علاقوں تک بچھا یا جائے تو حیرت انگیز حد تک بہتری آئے گی۔ ذرا سی حکومتی توجہ سے کھجور کا برآمدی حجم 20کروڑ ڈالر تک پہنچایا جاسکتا ہے۔