سرمائے کے بعد پاکستانی دماغ بھی بیرون ملک منتقل ہونے لگے

پاکستان سے صرف دولت ہی باہر نہیں جارہی، اب خبر ہے کہ پاکستانی دماغ بھی بیرون ملک منتقل ہورہے ہیں۔ تلاش روزگار کے سلسلے میں پاکستان سے باہر جانے والوں کی تعداد اب 68لاکھ تک جاپہنچی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کا باہر جانا ایک لمحہ فکریہ ضرور ہے، مگر معیشت دان اس پر خوش ہیں کہ سمندر پار پاکستانی وہاں سے سرمایہ اپنے ہی ملک میں بھیجتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پاکستانی معیشت: 44ویں نمبر سے 18ویں نمبر پر پہنچے گی

لیجیے! معاشی بہتری کی مزید خبریں آنا بھی شروع ہو گئی ہیں۔ پاکستانیوں کو خوش خبری ہو کہ 2050ء تک پاکستان دنیا کی کئی معیشتوں کو پیچھے چھوڑکر 18ویں بڑی معیشت بن جائے گا۔ یہ بات کسی اور نے نہیں، برطانیہ کے ماہر اقتصادیات جم اونیل کہہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلی چار دہائیوں میں پاکستانی معیشت اتنی ترقی کر جائے گی کہ جرمنی کے موجودہ معاشی حجم کو بھی کراس کرلے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے جی ڈی پی کا حجم 3.33ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا ۔ واضح رہے پاکستان اس وقت معاشی اعتبار سے دنیا کا 44واں بڑا ملک ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ماہی گیری: چوتھی بڑی صنعت

پاکستان کا ماہی گیری کا شعبہ ملکی معیشت میں اہم مقام رکھتا ہے۔ زرمبادلہ کے حصول کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ملکی زرعی شعبے کا جی ڈی پی میں 22 فیصد حصہ ہے جس میں سے ایک فیصد حصہ ماہی گیری کا ہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی800 کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ پاکستان سمندری خوراک یورپی یونین اور خلیجی ریاستوں سمیت امریکا، جاپان، سری لنکا اور سنگاپور وغیرہ کو برآمدکرتا ہے۔ پاکستانی ماہی گیری کی صنعت سے 40 لاکھ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

شعبہ زراعت:قرضے نہیں، سہولیات دیں

زراعت پاکستان کا ایک اہم شعبہ ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ برسر روزگار افرادی قوت میں سے45 فیصد افراد کا روزگار اسی سے وابستہ ہے۔ ملکی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ22فیصد ہے۔ زراعت کا شعبہ ملک کے سماجی و اقتصادی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ متعدد صنعتوں کی پیداوار کا انحصار اسی پر ہے۔ اس کے باوجود قومی معیشت کے بنیادی شعبے کو بری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے،حالانکہ کسانوں کو بلا امتیاز زرعی ترقی اور پیداوار میں اضافے کے لیے آسان شرائط پر قرضے دے کر قومی معیشت

مزید پڑھیے۔۔۔

سونے چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

سونا اور چاندی (Gold & Silver) دونوں قیمتی، نادر اور نفیس اشیا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو انسان کے لیے اس قدر مفید بنایا ہے کہ ابتدا سے یہ دونوں چیزیں انسانی معاشرے میں کیش، پیسے اور چیزوں کی قیمت کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ انسان جہاں بھی رہا ہے اس نے سونے چاندی کی دریافت کے بعد انہیں مالی معاملات اور کاروباری لین دین(Trade) کے لیے معیار اور پیمانہ قرار دیا ہے۔ دنیا کی تمام مادی چیزوں کی قدر و قیمت سونا چاندی کے ذریعے قائم کی جاتی ہے اور چیزوں کے تبادلے میں بھی اس کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سافٹ ویئر کمپنی کا انتخاب کیسے کریں حصہ دوم

7 جتنی لمبی سروس وارنٹی، اتنی اچھی کمپنی:
اگر ایک کمپنی کہتی ہے ہم2002ء سے خدمات فراہم کر رہے ہیں اور آپ کے ساتھ After Sale Agreement بھی5سال کا کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک مثبت بات ہے۔ اس کمپنی کو اہمیت دیں۔ اکثر ایک یا 2 سال کی وارنٹی مفت ہوتی ہے۔ اس کے بعد سال بہ سال چارجز ہوتے ہیں۔یہ چارجزانتہائی مناسب ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔