’’اسلم بیٹا! پھر فون کرو، شاید اب فون اٹھا لیا جائے۔‘‘ ’’ ابو !ایک ہفتے سے تو فون کر رہا ہوں، پہلے وہ اٹھا نہیں رہے تھے اور اب دو دن سے نمبر ہی بند جا رہا ہے۔‘‘
احمد صاحب پریشانی کے عالم میں دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گئے۔ تقریبا ایک سال پہلے اخبار میں اشتہار آیا تھا کہ اکاؤنٹنگ کا سافٹ ویئر، مارکیٹ ریٹ سے آدھی قیمت میں بنوائیں اور6مہینے کی مفت گارنٹی بھی حاصل کریں۔احمد صاحب جو کئی مہینوں بلکہ سالوں سے اپنے کاروبار کو جدید خطوط پر استوار کرنے

شروع شروع میں سیل فون پرتعیش زندگی کا نشان تھا۔موجودہ حالات10 سال پہلے سے بہت کچھ مختلف ہیں۔ لوگ سیل فون کو چھوڑ کر سمارٹ فون پسند کر رہے ہیں۔ گزشتہ 15سالوں میں موبائل فون کی فروخت میں 2سو گنا اضافہ ہوا ہے۔ 10سالوں میں موبائل فون پر بات چیت کی اوسط طوالت تین گنا بڑھ چکی ہے۔دنیا بھر میں سیل فون کے بجائے سمارٹ فون مارکیٹ میں زیادہ فروخت ہو رہا ہے اور روز بروز اس کی سیل بڑھتی جا رہی ہے۔ مجموعی فروخت کا 51.8فیصد حصہ سمارٹ فون کا ہے۔ جو دیگر فونز سے کہیں زیادہ ہے۔

موبائل بینکنگ پاکستان میں بہت تیزی سے اپنی جگہ بنارہی ہے۔ سینٹرل بینک کا حالیہ سہ ماہی اعلامیے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال جنوری اور مارچ کے دوران کمرشل بینک 1.11 ملین موبائل بینکنگ معاملات زیر عمل لائے، جن کی کل مالیت 7.35 بلین ہے۔ پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں یہ بڑھوتری حجم کے اعتبار سے 23 فیصد اور قدر کے اعتبار سے 31 فیصد زیادہ ہے۔

عید آتے ہی عیدی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ بچوں کی ضد ہوتی ہے کہ نئے نوٹ دیے جائیں۔ بینکوں سے نئے حاصل کرنے کے لیے ہر شخص رابطے شروع کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ کمرشل بینک ہر شخص کو 10اور 20 روپے کا ایک پیکٹ دے سکتا ہے۔ مگر عید قریب آتے ہی نئے نوٹ کی بلیک مارکیٹنگ شروع ہو جاتی ہے۔ ہر پیکٹ پر تقریباً 15 فیصد سود کمایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال رمضان المبارک میں 144ارب روپے کے نئے نوٹ جاری کیے گئے تھے۔ اب امید ہے 20سے 30فیصد زیادہ نوٹ چھاپے جائیں گے۔ اسٹیٹ بینک کی طرف سے ہر سال مختلف ٹیمیں بینکوں کی انسپکشن کرتی ہیں، مگر اس کے باوجود نئے نوٹ کی غیر قانونی خرید و فروخت بند نہیں ہو سکی۔ یہ غیر قانونی خرید و فروخت تبھی بند ہو سکتی ہے جب ہر شخص اپنی ذمہ داری کا احساس کرے۔(بحوالہ: بزنس ریکارڈر)

گزشتہ سالوںمیں سیمنٹ کی پیداوار اپنی موجودہ گنجائش سے بھی کم رہی ہے۔ اس کامطلب ہے کہ سیمنٹ کی پیداوار میں اضافہ تو دور کی بات ،موجودہ پیداواری گنجائش کو بھی استعمال نہیں کیا جا رہا۔
2008ئ 80.14 فیصد

موبائل فون پر ٹیکس
ودہولڈنگ ٹیکس13.04: روپے
ایڈمن نیس ینٹیتس بمع فیڈرل5.98: روپے
ایکسائز ڈیوٹی 2.39:روپے