پاکستان میں توانائی کا بحران انتہا کو چھو رہا ہے۔بجلی کا مسئلہ پاکستان کGPD کا 2فیصد کھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میںگیس کے استعمال میں پریشان کن چلن ہے۔ جیساکہ گھریلو استعمال کا شیئر مسلسل بڑھتے ہوئے 23.2 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ 2008 میں یہ 16 فیصد تھا۔
دوسرا پر یشان کن عنصر کھاد کے شعبے کی طرف سے ہرسال 12 فیصد تک فیڈ اسٹاک

اپنوں کی خود فراموشی
بہت بروقت، برمحل اور موزوں ہوتا اگر حلال فوڈ کی تیزی سے ترقی کرتی مارکیٹ میں پاکستان کو صرف نمایاں ہی نہیں، بلکہ قائدانہ کردار حاصل ہوتا۔ مگر بیوروکریسی نے ہمیشہ اور ہر مسئلے کی طرح اسے بھی سرد خانے کی نذر کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے علمائے کرام اور سرکاری افسران پر مشتمل Pakistan National Accredition Councilکے ایک پینل نے

زر مبادلہ کے ذخائر ایک بار پھر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔ ابھی پاکستان نے IMF کو قرضوں کی قسط بھی ادا نہیں کی۔ قسطوں کی ادائیگی اور بھاری اخراجات پورا کرنا نگران حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر
ماہ بہ ماہ 18ارب ڈالر جولائی 2011
17ارب ڈالر دسمبر 2011

مالی سال 2012-13ء کے لیے مختص ترقیاتی بجٹ صرف 8 ماہ ہی میں خرچ کر لیا گیا۔ جولائی 2012ء سے لے کر فروری 2013ء تک تمام ترقیاتی بجٹ خرچ ہوگیا۔
حکومت کے آخری 8 ماہ میں ہونے والے اخراجات ایک نظر میں:
ترقیاتی کاموں کے اخراجات

طلبہ تخصص فی فقہ المعاملات المالیہ CDCنے اپنی یہ خدمات 2008ء میں مہیا کرنا شروع کیں۔اس وقت مارکیٹ میں 50سے60رجسٹرار موجود ہیں اورCDCکے پاس 46کمپنیاں ہیں جن کو CDCشیئر رجسٹرار کی خدمات مہیا کرتی ہے اور ان میں سے ایک PIAبھی ہے۔اس کا طریق کار درج ذیل مثال سے سمجھ لیجیے۔
مثال کے طور پر'' الف '' ایک کمپنی ہے جس نے کاروبار کا آغاز کیا اور شیئر اسٹاک مارکیٹ میں ڈال دیے۔ قانوناً اس نے رجسٹرار کو بھی کرائے پر

پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جمہوری حکومت نے پانچ سال مکمل کرلےے۔ اسی طرح پہلی بار پانچ سال بعد وفاقی کابینہ تحلیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ تمام وزراء سے مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔نگران حکومت بن رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سالہ حکومت نے پاکستان کو کیا دیا؟ معیشت کے کون کون سے میدانوں میں کیا ترقی ہوئی؟ یہاں دےے گئے اعداد و شمار سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

معروف معیشت دان ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کہتے ہیں کہ پاکستان کو جون میں آئی ایم ایف کے پاس ایک بار پھر جانا ہوگا۔ مگر اس مرتبہ آئی ایم ایف مزید کڑی شرائط پر ہی قرض دے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عبوری حکومت