٭۔۔۔۔۔۔ غذائی مصنوعات میں استعمال ہونے والے سویا لیسی تھین صاف شدہ (Refined) سویا بین کے تیل سے حاصل ہوتا ہے
٭۔۔۔۔۔۔ سویا لیسی تھین میں اگر نشہ آور ہونے اورمضر صحت ہونے کے دو سبب نہ پائے جائیں اور الکحل سے بھی پاک ہو تو اس کا استعمال جائز اور حلال ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔٭

آج کل فوڈ انڈسٹری میں ''لیسی تھین'' نامی ایک جزو ترکیبی بہت وسیع پیمانے پر استعمال ہونے لگا ہے۔ فرانسیسی سائنسدان موریس گوبلے (Mauric Gobley) نے سب سے پہلے 1858ء میں اسے دریافت کیا۔ اس کا نام''lekithos'' رکھا جو کہ لاطینی زبان میں انڈے کی زردی (Egg yolk)کو کہتے ہیں۔ کسی زمانے میں انڈے لیسی تھین (Lecithin) کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ تھے، لیکن آج کل زیادہ تر جو لیسی تھین استعمال ہوتا ہے وہ یا توسویا بین سے حاصل کیا جاتا ہے یا سویا نامی ایک پھلی سے۔ سویا پھلی سے جو لیسی تھین حاصل کیا جائے اس کو سویا لیسی تھین کہتے ہیں۔

سویا لیسی تھین کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ سویا (Soya) دراصل زمین سے اگنے والی ایک پھلی کا نام ہے۔ اس پھلی کے بیجوں سے تیل حاصل کیا جاتا ہے۔ اس تیل میں قدرتی طور پر1 تا 3 فیصد لیسی تھین پایا جاتا ہے۔ اس کو حاصل کر نے کے لیے تیل میںDe-gumming کا عمل کیا جاتا ہے۔ یعنی تیل میں سے ایسے اجزا کو الگ کر لیا جاتا ہے جن میں جمنے کی صلاحیت ہو تی ہے۔ ان اجزا کا اکثر حصہ ''لیسی تھین'' پر مشتمل ہو تا ہے۔ ویسے تو ''لیسی تھین'' مختلف قسم کے تیلوں سے حاصل کی جاسکتی ہے لیکن سویا لیسی تھین کا مطلب صرف وہ لیسی تھین ہے جو سویا (پھلی) کے تیل سے حاصل کی جائے۔


٭۔۔۔۔۔۔ سویا لیسی تھین میں اگر نشہ آور ہونے اورمضر صحت ہونے کے دو سبب نہ پائے جائیں اور الکحل سے بھی پاک ہو تو اس کا استعمال جائز اور حلال ہے۔

یہ ایک کثیر المقاصد (Multifunctional) مادہ ہے، جس کو مختلف اغراض کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت ساری انڈسٹریوں، مثلاً: پینٹس (Paints)، ٹیکسٹائل، لوبری کینٹ وغیرہ میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ لیسی تھین ''کولین'' کا سب سے اہم ذریعہ ہے جو ہر زندہ خلیے کے لیے بہت ضروری ہے۔ غذائی مصنوعات میں استعمال ہونے والے سویا لیسی تھین صاف شدہ (Refined) سویا بین کے تیل سے حاصل ہوتا ہے۔

سویا لیسی تھین کے سب سے بڑے پروڈیوسر امریکا، مغربی یورپ اور جاپان ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق سن 1936-37ء میں دنیا میں سویا بین آئل کی پیداوار17 لاکھ 87 ہزار میٹرک ٹن تھی۔ جس سے 1814 ٹن سویا لیسی تھین حاصل ہوا۔ سب سے بڑے پروڈیوسر امریکا، جرمنی، جاپان، ڈنمارک اور ناروے کے ممالک تھے۔ 1948ء میں سویا لیسی تھین کی عالمی پیداوار کا اندازہ 4 ہزار 5 سو 35 میٹرک ٹن لگایا گیا تھا۔ 1976 ء میں اس کی پیداوار کا اندازہ 90 ہزار 7سو میٹرک ٹن فی سال لگایا گیا۔ لیسی تھین شروع میں اگرچہ یورپ میں دریافت ہواتھا لیکن اس کے بعد مشرق میں بھی یہ دریافت ہوا، چنانچہ سب سے پہلے 1897ء میں اس کا سراغ اس وقت ملا جب ایک جاپانی زرعی سائنسدان "Hanai" نے اس پر ایک مضمون لکھا۔
اب سویا لیسی تھین کا شرعی حکم ملاحظہ ہو:
شر عی اعتبار سے سویا لیسی تھین اور اس جیسے دوسرے نباتاتی اجزائے ترکیبی جو کھانے پینے کی چیزوں میں استعمال ہوتے ہے۔ ان کے حکم میں یہ تفصیل ہے کہ نباتا ت میںحرمت (impermissibility) کے دو سبب ہیں۔ یعنی: n مسکر (intixicant) (نشہ آور ہونا) n مضر (Harmful) (ضرررساں ہونا ) امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ نباتا ت میں صرف وہ چیزیں حرام ہیں جو عقل یا صحت کے لیے مہلک ہوں۔(احیاء العلوم:115/20 )

سویا لیسی تھین میں چونکہ یہ دو سبب نہیں پائے جاتے، لہذا اس کا استعمال جائز اور حلال ہے، بشرطیکہ اس کے حصول یا اس سے مصنوعات کی تیاری میں حرام الکحل، کوئی نجس چیز یا حرام حیوانی اجزا استعمال نہ ہوئے ہوں۔ لہذا سویا لیسی تھین اور اس جیسی تمام نباتاتی (Plant Based) اشیا ان کے مشتقاتDarivatives) ( اور ان سے تیار ہونے والی مصنوعات (Products) جائز اور حلال ہیں۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی اہم ہے کہ اگر درج بالا شرائط موجود ہوں تو چاہے اس طرح کی مصنوعات مسلمانوں کی تیارکردہ ہوں یا غیر مسلموں کی، ان کا استعمال اور خرید و فروخت جائز اور حلا ل ہے ۔