عالمی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے اپنے اسٹینڈرڈ کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے

گزشتہ دنوں کوٹ لکھپت لاہور میں ــ'' پی ۔ایس ۔کیو۔ سی ۔اے'' (PSQCA)کی ٹیکنیکل کمیٹی کے زیر انتظام منعقد ہ اجلاسوں میں شرکت کا موقع ملا۔ ان اجلاسوں میں زیر بحث آئے امور کے تذکرے سے پہلے مذکورہ ادارے کا تعارف لیتے ہیں

(PSQCA) وزارتِ سائنس وٹیکنالوجی کے ماتحت کام کرنے والا ایک سرکاری ادارہ ہے جو عملی طور پر دسمبر 2000ء تک پاکستان میں عام صارفین کے استعمال میں آنے والی مصنوعات کے حوالہ سے معیارات کی تیاری وترمیم ، خام مال کی ٹیسٹنگ اور اشیائے صرف وغیرہ کی کوالٹی کے معیارات کی تنفیذ وتطبیق (Implementation) کے سلسلے میں لائسنسوں کے اجرا کا کام کررہا ہے۔ قارئین نے منرل واٹر، سافٹ ڈرنکس اور کھانے پینے کی اکثر اشیا پر لگے اس ادارے کے ــ''لوگو'' کا مشاہدہ کیا ہو گا۔ PSQCA کے ساتھ متوازی وزارت سائنس وٹیکنالوجی ہی کے ماتحت ایک ادارہ ''پنیک'' (PNAC) کے نام سے بھی کام کررہا ہے، جو 1998ء میں قائم کیا گیا تھا مگریہ عملی طور پر 2001ء سے لیبارٹریوں ، سرٹیفیکیشن اور انسپکشن باڈیوں کی پاکستانی اور بین الاقوامی معیارات کے ساتھ مطابقت کا جائزہ لے کر ان کی اہلیت کا سرٹیفیکیٹ جاری کررہا ہے۔ گویا ان دونوں اداروں کے کام میں یہ فرق ہے کہ (PSQCA) معیارات تیار کرتا ہے اور ان کے ساتھ مصنوعات کی مطابقت کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ ''پنیک '' قو می اور بین الاقوامی معیارات کے ساتھ مطابقت کا جائزہ لے کر اداروں کی اہلیت کا فیصلہ کرتا ہے ۔
یہ دونوں ادارے حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کے مروجہ معیارات ہی کی روشنی میں کام کرنے کے لیے وضع ہوئے تھے۔ تاہم اب (PSQCA) نے حلال سٹینڈرڈ بنانے اور ''پنیک'' نے پاکستانی اور ISO کے عالمی معیارات کے مطابق لیبارٹریوں وغیرہ کے ساتھ ساتھ حلال تصدیقاتی اداروں کی ایکریڈیٹیشن کا کام شروع کیا ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ معیارات بنانے کے ذمہ دار اس سرکاری ادارے کے افسران کو اس بات کا ادارک ہے کہ پاکستان کے ماحول میں حلال کے حوالہ سے کوئی معیا ر نہ صرف علمی بلکہ عوامی حلقوں میں بھی اسی وقت قابل قبول ہو سکتا ہے، جبکہ اس کی تیاری و تصحیح کے تمام عمل میں مستند اہل علم علما کی شرکت رہی ہو۔ اس لیے یہ ادارہ اس سلسلے کے اجلاسوں میں دیگر لوگوں کے ساتھ مختلف دار الافتاؤں اور حلال تصدیقاتی اداروں سے منسلک مفتیان کرام کو بھی شریک کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک نشست پچھلے دنوں کوٹ لکھپت لاہور میں منعقد ہوئی، اس میں حلال فاؤنڈیشن کے اہم احباب نے شرکت کی۔
ان اجلاسوں میں سرٹیفیکیشن باڈیز سے متعلق پاکستانی معیار (PS4992) سے متعلق ہماری طرف سے تحریری طورپر جو تجاویز پیش کی گئیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:
1 گزشتہ معیار میں پنیک PNAC کو حلال اکریڈیٹیشن کی منظوری دینے کا مجاز ادارہ قرار دیا گیا تھا، (دیکھیے شق 2.3) اس معیار میں اس کو حذف کر دیا گیا ہے، بلکہ سکوپ کے ذیل میں نوٹ نمبر 2 میں سر ٹیفکیشن باڈیز کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کو غیر ضروری قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس کے بغیر کوئی گارنٹی نہیںکہ حلال کی تصدیق کا کام شریعت و قانون کے مطابق انجام پا سکے۔ اس حوالے سے اب تک کوئی واضح لائحہ عمل طے نہیں کیا جا سکا، جو ازحد ضروری ہے۔
2 گزشتہ معیار میں عملے کی اہلیت کے معیارات بالخصوص شریعہ ایڈوائزر کا کرائٹیر یا بھی ذکر تھا، جب کہ اس معیار میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں، حالانکہ تصدیقاتی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کے سلسلے میں عملے کی اہلیت ایک بنیادی عنصر ہے جس کے بغیر حلال تصدیقاتی ادارے سے متعلق معیار مکمل تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ بالخصوص یہ امر تو بہت ہی قابلِ تشویش ہے کہ شرعی حوالے سے حلال یا حرام کا حکم لگانے والے (شرعی ایڈوائزر) کے لیے کسی اہلیت و صلاحیت کی شرط نہ ہو؟
3 مجوزہ مسودہ میں غیر ضروری طوالت اور بے ترتیبی کے علاوہ بعض غیر متعلقہ امور پر حلال کی بنسبت زیادہ زور دیا گیا ہے، مثلاً:کئی جگہ حلال اسٹینڈرڈ کے بجائے ISO اسٹینڈرڈ کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ تصدیقاتی اداروں کے لیے غیر ضروری تشویش کا باعث ہے۔ اس بنا پر ہماری رائے کے مطابق فوڈ سیفٹی اور کوالٹی کنٹرول کے معیارات کو حلا ل کے معیارات کے ساتھ اس طرح مرج نہیں کرنا چاہیے، جس سے اسلامی تعلیمات کے مطابق حلال کے کم سے کم تقاضے کسی طرح کے ابہام کا شکار ہوں اور اسٹینڈرڈ پر حلال سے زیادہ کوالٹی اور فوڈ سیفٹی کا رنگ غالب ہو۔
4 یہ بات ٹھیک ہے کہ حلال فوڈ ایک گلوبل سیمبل بن چکا ہے اور عالمی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے اپنے اسٹینڈرڈ کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے، تاہم ہمیں اس بات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ کیا ہمارے ملک کے صانعین اور تاجروں کا بڑا طبقہ ان بین الاقوامی معیارات کو رو بہ عمل لانے کے لیے درکار وسائل اور اخراجات کو برداشت کر سکتا ہے؟ اس طرح کیا یہ غیر ملکی کمپنیوں کے تسلط اور ملکی تاجروں کو اس میدان سے باہر کرنے کا سبب نہیں بنے گا؟ لہٰذا اس نکتے پر ملکی و قومی مفاد میں سوچنا از حد ضروری ہے کہ ان حالات میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیارات کو مساوی طور پر نافذ کرنا ہی ہمارے تاجر طبقہ کے مفاد میں ہے؟ یا اس حوالے سے بین الاقوامی شرائط کو پورا کرنے والے معیارات کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر نافذ کرنے کے لیے دیگر آسان شرائط پر مشتمل معیارات بنانے کی بھی ضروری ہے؟