حلال کی اہمیت اور حرام سے اجتناب:

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کے احکامات کا خلاصہ دو باتیں ہیں :
1 حلا ل اور جائز امور کی پابندی کرنا
2 حرام اور ناجائز امور سے اجتناب کرنا

گویا مسلمان کا منہج ِحیات (The way of life) ہی یہی ہے کہ وہ حلال کو اختیار کرے اور حرام سے بچے۔ آیاتِ قرآنیہ اور احادیث نبویہ میں حلال و حرام سے متعلق بہت بڑا ذخیرہ ہے، جس میں اللہ اور اس کے رسولصلی اﷲ علیہ وسلم نے حلال کھانے کی تاکید اور حرام سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:''اے لوگو! جو چیزیں زمین میں موجود ہیں اس میں سے حلال پاک چیزوں کو کھاؤ اور شیطان کے قد م بقدم مت چلو، یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔'' (سورۃ البقرۃ: 168) ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کواس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ پاک حلال کھائیں، ارشاد ہے: ''اے پیغمبرو! پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقیناً میں تمہارے اعمال سے خوب واقف ہوں۔'' (المومنون:51)


۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:''اے لوگو! جو چیزیں زمین میں موجود ہیں اس میں سے حلال پاک چیزوں کو کھاؤ اور شیطان کے قد م بقدم مت چلو، یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔'' (سورۃ البقرۃ: 168)

احادیث ِنبویہ میں بھی اکل حلال پر بہت زور دیا گیا ہے، حدیث شریف کا مفہوم ہے: ــ''نماز کے بعد سب سے بڑا فریضہ حلال طلب کرنا ہے۔ ''(الجامع الصغیرللسیوطی: 131/3)، ایک اور حدیث کا مفہوم ہے حلال طلب کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔
ایک حدیث شریف میں آتا ہے اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت محبوب ہے کہ وہ اپنے بندے کو حلال کی طلب میں تھکا ماندہ دیکھے۔ (جامع صغیر :28/1) حلا ل کی اس ترغیب کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث میں حرام کھانے کی نحوست بھی جگہ جگہ بیان کی گئی ہے، اللہ کے نبی کے ارشاد کا مفہوم ہے :''حرام کا ایک لقمہ کھانے والے کی چالیس روز تک نماز و دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔'' (جامع الاحادیث لسیوطی :55/20)
مارکیٹ میں بننے والی چیزیں
مذکورہ آیات ِ قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے اندازہ ہو تا ہے کہ شریعت میں حلال کھانے اور حرام سے بچنے کی کتنی اہمیت ہے؟ لہٰذا بحیثیت مسلمان یہ ہمارا دینی فریضہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی استعمال کر رہے ہیں اس میں حلال و حرام کی تحقیق کریں۔ ماضی قریب میں جب تک مسلمان اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی خالص چیزیں استعمال کرتے تھے تو حلال حرام کے حوالے سے اتنا بڑا مسئلہ نہ تھا ۔لیکن عصرِ حاضر میں جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی بے انتہا ترقی کی وجہ سے اس میدان میں بھی ایسا انقلاب آیا ہے کہ ایک ہی چیز کو کئی کئی ذرائع سے بنایا جا رہا ہے اور بنانے والوں میں چونکہ مسلم و غیر مسلم ہر طرح کے لوگ شامل ہیں، اس لیے حلال و حرام کی تمیز کے بغیر ہر طرح کے ذرائع سے چیزیں تیار ہو رہی ہیں اور کسی فرق کے بغیر مسلم ممالک میں درآمد بھی کی جارہی ہیں۔ دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ مسلمان بالخصوص مالدار طبقہ اپنے ملک کی قومی اور دیسی چیزیں استعمال کرنے کے بجائے غیر مسلموں کی بنائی ہوئی امپورٹڈ چیزیں استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس صورت ِحال میں شرعی اعتبار سے ان چیزوں کی حلت و حرمت اور مسلمانوں کے لیے ان کے استعمال کا مسئلہ انتہائی اہم اور قابلِ غور ہے۔
یہاں ہم ان چیزوں کے استعمال سے متعلق چند ایسے اُصولی پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہیں، جن سے ان مصنوعات کے حوالے سے بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داریو ں کا تعین ہو۔
1 علما فرماتے ہیں کہ گوشت میں اصل حکم حرمت کا ہے۔ اس لیے کھانے پینے کی وہ تمام اشیا جن میں کسی بھی طرح سے کسی بھی قسم کے حیوانی اجزا (Animal ingredients) شامل ہوں ان میں اس بات کی تحقیق و یقین کر لینا ضروری ہے کہ جن جانوروں سے یہ اجزا حاصل کیے گئے ہیں وہ حلال جانور ہیں یا حرام؟ اگر حلا ل جانور ہیں تو ان کو شرعی طریقہ پر ذبح کیا گیا ہے یا نہیں؟ اس تحقیق کے بغیر ایسی چیزوں کا کھانا پینا جائز نہیں۔ واضح رہے کہ باہر سے آنے والے حرام مصنوعات پر بھی بعض اوقات حلال لکھا ہوتا ہے۔ مگر اس بارے میں یہ بات ذہین نشین کر لینا ضروری ہے کہ غیر مسلموں کی طرف سے بنائی جانے والی چیزوں پر انہیں کی طرف سے لکھے گئے اس لفظ کا کوئی اعتبار نہیں اور مسلمانوں کے لیے اس کا استعمال کرنا جائز نہیںالبتہ اگر کسی مستند مسلمان تصدیقاتی ادارے (Halaal certification body) نے اس کی تصدیق کی ہو اور ان کی طرف سے اس کی مہر اور لوگو (logo) ان مصنوعات پر لگا ہو توایسی صورت میں ایسی مصنوعات کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔
2 خالص قدرتی نباتاتی اشیا، مثلاً: پھل سبزیاں اناج وغیرہ جب اپنی اصلی حالت میں ہوں تو ان میں اتنی تحقیق کی ضرورت نہیں۔
3 غیر حیوانی اجزاسے تیار کی جانے والی کھانے پینے کی ایسی ریڈی میڈ مصنوعات جن میں حیوانی اجزا تو استعمال نہیں ہوتے، لیکن ان کی تیاری کے عمل (Process) میں انسانی صنعت کا عمل دخل ہو تا ہے۔ اُن کا استعمال اگرچہ اصولی طور پر جائز ہے، تاہم اُن میں بھی چونکہ نجاست شامل ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی مصنوعات کے بارے میں بھی نجاست کے احتمال کی وجہ سے احتیاط اسی میں ہے کہ ایسی مصنوعات کے استعمال سے بھی حتی الامکان بچنے کی کوشش کی جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ باہر سے آنے والی کھانے پینے کی تیار شدہ اشیا استعمال کرنے سے پہلے ان کے حلال ہونے کااطمینان کر لینا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں بہتر بلکہ ضروری یہ ہے کہ اس طرح کی چیزیں استعمال کرنے سے پہلے مستند علمائے کرام سے مشورہ کیا جائے۔ از خود کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کا فیصلہ نہ کیا جائے۔